گمنامی سے دِلوں کی حکمرانی تک قاسم سلیمانی شہید

احساسات اور جذبات کوپُراثر الفاظ میں ڈھال دیا گیا
گمنامی سے دِلوں کی حکمرانی تک قاسم سلیمانی شہید
ایک ایسی نادر کتاب جو آپ کو ایک گہری سوچ بھی دے اور فکر بھی


توقیر کھرل
شاعروں کو شاعر پسند ہوتے ہیں، کھلاڑیوں کو کھلاڑی اوربہادر قومیں ہمیشہ بہادروں کو اپناہیرو سمجھتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر عہد میں باطل کے آگے توحیدِ حق کے مجاہد سر کٹوا کر کلمہ حق کو بلند کرتے آئے ہیں۔ کئی بہادر آئے اور اپنی جرات مندانہ داستان رقم کر کے امر ہوتے رہے ان ہی میں سے ایک ایسے ہی جری اور بہادر،ملتِ اسلامیہ کے ہیرو قاسم سلیمانی شہید کے واقعات اورکارنامے میڈیا میں دیکھتا رہا اور ان سے عقیدت مندانہ سا تعلق محسوس ہونے لگا تھا۔صحافت کا طالبِ علم ہونے کے ناطے حالاتِ حاضرہ سے آگاہی اور عالمی خبروں پر نظر رکھنا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے لیکن ایک سال قبل ملتِ اِسلامیہ کے عظیم مجاہد قاسم سلیمانی کی شہادت کی خبر نے بے چین اور اداس بھی کردیا تھا خبر سنتے ہی احباب کو اطلاع دی کہ”عالمِ اسلام کے عظیم مجاہد قاسم سلیمانی شہید ہوگئے”اگرچہ کم افراد ہی “شہید ” کے کارناموں سے باخبر تھے لیکن ہم میں سے اکثریت عوام ان کی ذات کو نہیں جانتی تھی چشمِ فلک نے یہ بھی دیکھا کہ شہید کے خون کی تاثیر کے باعث اِس دل خراش سانحہ پر ہر آنکھ اشک بار اور ہر دِل اداس تھا ایسے میں قلم کچھ اِس طرح رقم طراز ہوا “حاج قاسم سلیمانی! اے ملت اسلامیہ کے عظیم مجاہد!آپ نے تو ہمیں ہمیشہ فتح و کامرانی کی خبر دی تھی یہ کیسا دن آن پڑا ہے۔آپ کو کبھی دیکھا تھا نہ ملے لیکن ہمیشہ آپ کی فتح کے قصے سنتے آئے ہیں الفاظ نہیں ہیں بس جب سے آپ کی جدائی کی خبر ملی ہے آنکھیں برس رہی ہیں۔
الم ناک دن گزرنے کے بعد رات گئے خواب دیکھا جس کے مناظر ابھی چشمِ تصور میں محفوظ ہیں “دیکھا کہ ایک نیوز سٹوڈیومیں شہید قاسم سلیمانی کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا ہوں ان کے چہرے پر مسکراہٹ سجی ہوئی ہے میں ان سے انٹرویو میں چند سوال کرتا ہوں اور کچھ دیر بعد وہ مجھ سے مسکراتے ہوئے جدا ہورہے ہیں ملاقات کی خوشی میں زیرِ لب مسکراہٹ سے انہیں رخصت کرتا ہوں ” اور بے چینی سے بیدار ہوتا ہوں بیس دنوں کے بعد مسلسل تحقیق کے بعد کتاب گمنامی سے دلوں کی حکمرانی تک”قاسم سلیمانی شہید”منظر عام پر آئی اور ایک ہی ماہ میں کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی آیا۔کتاب میں وہ مضامین اور سوانحی خاکے شامل ہیں جو آج اخبارات اور ویب سائٹس پر ہیں اور شاید کل نہ ہوں۔ یہ ملتِ اسلامیہ کے عظیم مجاہد کی یاد اور اس کے بعد مسلسل بدلتی صورتِ حال کو اگلی نسل تک پہنچانے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔اگرچہ ایران میں شہید قاسم سلیمانی کی زندگی میں ہی دس کتب شائع ہوچکی ہیں اورساتھ ہی ساتھ ان کے کارناموں کو نصاب کا حصہ بھی بنایا جارہا ہے لیکن یہ کتاب دیگر تمام کتب سے اس لیے بھی ذرا مختلف ہے کہ دنیا بھر میں اردو زبان کے قارئین کے لیے کتاب کے پہلے حصہ میں پاکستان کے قومی اخبارات میں کالم نویسوں کے شائع ہونے والے کالم اور مشرق وسطی کے معروف تجزیہ نگاروں کے تجزیات ہیں۔ جب کہ ساتھ ساتھ معروف علمی وادبی شخصیات کے خصوصی مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔دوسرے حصے میں عالمی میڈیا کی نظر میں قاسم سلیمانی کی زندگی،کارناموں اور قتل کی وجوہ پر مبنی اہم تجزیاتی رپورٹس شامل ہیں کتاب کا تیسرا حصہ قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد عالمی رہنماوں کا ردِعمل، تقریریں، ملک کی معروف علمی و مذہبی شخصیات سابق فوجی افسران،دانش ور اور صحافی حضرات کے تاثرات پر مبنی ہے۔شہید کی زندگی کے اہم واقعات ان کے خطوط اور شہید کی زندگی کا آخری اور پہلا انٹرویو کتاب کے چوتھے حصے کا اہم ترین جزو ہے۔پانچویں حصہ میں عقیدت اور جذبات سے سرشار نام ور شعرائے کرام کے کلام کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے اور آخری حصہ میں شہید کی تصاویر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com