پاک فوج کو سلام

پاک فوج کو سلام
پاکستانی فوج صرف ہمارے دفاع تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جب بھی اس ملک وقوم پہ کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو سب سے پہلے ہماری آرمی ہی میدان میں اترتی ہے اور ملک و ملت کی مدد کرتی ہے
مبارک علی شمسی
تاریخ شاہد ہے کہ روز اول سے لے کر تا حال اسلامی فوج کا پلڑا ہمیشہ ہی وزنی رہا ہے اور خداوند متعال کے فضل و کرم سے قیامت تک فتح کا سہرا صرف اور صرف مجاہدین اسلام کے سر پر ہی سجتا رہے گا کیونکہ حق ہمیشہ سر بلند رہے گا اور باطل سرنگوں ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ اور یہ بات بھی اک مسلمہ حقیقت ہے کہ حق اور باطل کی جنگ اس وقت سے شروع ہو گئی تھی جب ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا اور ساتھ ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کو چیلنج کردیا تھا کہ تو نے تو مجھے اپنی رحمتوں سے باہر نکال دیا ہے مگر میں اپنے حمائتی بنائوں گا یعنی اپنی فوج تیار کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو جواباً فرمایا کہ جا تجھے کھلی چھٹی ہے جو میرا بندہ ہوگا وہ تیرے ساتھ جہاد کرے گا یعنی قیامت تک حق والی اور باطل فوج نے سامنے صف آراء رہیں گی۔
اگر قرآن مجید اور تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کیا جائے تو زمانہ قدیم سے مختلف افواج آمنے سامنے آتی رہی ہیں لیکن یہ بات کما حقہ ہے کہ فریقین صرف دو ہی رہے ہیں ایک حق اور دوسرا باطل؟ اگر کسی نے حق کی حمایت کی تو وہ بھی حق میں آکر ضم ہوا اور اگر کسی نے باطل کی حمایت کی تو وہ باطل میں ضم ہوا۔ قرآن و احادیث میں ایسی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ خداوند عالم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم مکروہ چالیں چلتے ہو تو میری چال سے بہتر کوئی چال نہیں ہے۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ یہ اللہ رب العزت کی مرضی ہے کہ وہ جنگ کرا کر حق کو جتائے یا پھر اپنی حکمت عملی سے حق کو فتح دے۔ جب حضرت موسٰی اپنے حمائتیوں کو لے کر نکلے تو فرعون کی فوج نے ان کا پیچھا کیا تو وحدہ لا شریک نے حضرت موسٰی کو معجزہ عطا کرتے ہوئے انہیں ساتھیوں سمیت دریائے نیل پارکرا دیا اور فرعون جو اس کے ہمراہیوں سمیت ابتلائے نیل میں ڈال کر غرق کر دیا۔
بقول استاد یٰسین ثاقب بلوچ کہ
؎ خدا کو چھوڑ کر کوئی اگر فرعون بن جائے
تو اس کو ابتلائے نیل میں وہ ڈال دیتا ہے
قیام پاکستان سے قبل مغلیہ دور کی افواج نے بہت بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں اور سلطان محمود غزنوی نے بت توڑ کر مختلف مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کیں۔ محمد بن قاسم نے دیبل کو فتح کیا اور غوری نے بھی بیشمار فتوحات اپنے نام کیں۔ علاوہ ازیں متعدد مسلمان فاتحین نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی فتوحات کے سہرے اپنے سر پر سجائے ہیں جن کی تفصیل بیان کرنے کیلئے کئی دفتر چاہیں۔
قیام پاکستان کے وقت ہمارے جنگجو فوجیوں نے اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر جوانمردی سے دشمنوں کیساتھ ایسا مقابلہ کیا جو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا حالانکہ اس وقت ہماری فوج کی تعداد بہت کم تھی مگر اس کے حوصلے بہت بلند تھے اور جنگی سازوسامان بھی نہ ہونے کے برابر تھا مگر ہمارے فوجی جوانوں کو اپنے پیدا کرنے والے خالق پر یقین کامل تھا کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو سورمائوں کے پنجہ استبداد سے نجات دلانے کیلئے ان کی غیبی امداد ضرور کرے گا۔ گویا ہماری فوج کو اپنے بازوئوں پر مکمل بھروسہ تھا کہ وہ اپنے بازوئوں کی قوت سے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر ان سے آزادی حاصل کر لیں گے جس کے بارے میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے قیام سے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ
؎ کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اسی بات کی غمازی کرتے ہوئے افواج پاکستان نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے ڈٹ کر حریف فوج کا مقابلہ کیا۔ با لآخر شہیدوں کا خون رنگ لے آیا اور 14 اگست 1947 کو پاکستان ایک الگ مسلم ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد بھارتی سامراج باطل کے طور پر پاکستان کے سامنے آیا ہے اور برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد ہی بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کیلئے بہت سارے مسائل پیدا کیئے جن میں اثاثوں کی تقسیم فسادات اور مہاجرین کا مسئلہ نہری پانی کا مسئلہ تجارت کے مسائل سرحدوں پر بھارتی فوج کا اجتماع پاکستان کے خلاف سفارتی اور عوامی سطح پر پروپیگنڈہ ریاست جونا گڑھ اور حیدر آباد کے مسائل سیز فائر معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر بلااشتعال گولہ باری سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی اور ریاست جموں و کشمیر پر حملہ سرفہرست ہیں جن کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین اب تک 3 بڑی جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ کیونکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا آغاز 1947 ء سے ہی ہو گیا تھا جب ہندوئوں کی کانگریس پارٹی نے نہ چاہتے ہوئے بھی پاکستان کے قیام کو قبول کیا۔ بھارت نے افواج پاکستان اور اس کی قوم کو نیچا دکھانے کیلئے کئی چالیں چلیں اور کئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیئے مگر اسے ہمیشہ ذلت ورسوائی کا سامنا ہی رہا۔ 6 ستمبر 1965 ء کو جب بھارت نے اچانک حملہ کرکے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی تھی تو پاک فوج نے جوانمردی سے بھارتی فوج کا سامنا کیا اور واہگہ بارڈر پر پاکستانی فوج کے جوانوں نے اپنی بہادری کے وہ جوہر دکھلائے جو رہتی دنیا تک یاد رہیں گے۔ میں حق کے ان سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر جام شہادت نوش کیئے اور جن کی بروقت کاروئیوں سے بھارتی فوج دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ 1971 ء کی جنگ میں بھی پاک آرمی کے جوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سینہ سپر ہو کر دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور مشرقی پاکستان کو بھارت کا حصہ نہ بننے دیا یعنی انڈیا میں ضم نہ ہو سکا بلکہ بنگلہ دیش کے نام سے ایک الگ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یقیناً یہ سب ہماری فوج کی بدولت ہوا جس پر میں اپنے فوجی جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔1998 ء میں جب بھارتی فوج نے 11 اور 13 مئی کو 5 زیر زمین دھماکے کر کے ایٹمی طاقت بننے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد صرف اور صرف خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا تھااور پاکستان کو دھمکانا تھا جس کی عالمی سطح پر بھی بھرپور مذمت کی گئی تھی اور بھارت کو جنوبی ایشیاء سمیت عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیا گیا تھا جس پر جوابی کاروائی کرتے ہوئے اور خطے میں طاقت کے توازن کو درست کرنے اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے 28 اور30 مئی 1998 ء کو صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں راسکوہ کے مقام پر افواج پاکستان نے 6 ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی قوت رکھنے والے ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کیا میں ان سب فوجی افسروں اور فوجی جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ برس جب بھارتی فوج نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی تھی تو پاک فضائیہ نے ملکی دفاع کی خاطر بروقت کاروئی کرتے ہوئے بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرا کر پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے ثابت کر دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور ہم اپنا دفاع کرنا خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور اس بار بھی پاک فوج نے اپنی جراْت و بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی جو ہمیشہ نمایاں رہے گی۔
میں لائن آف کنٹرول پر ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے فوجی جوانوں کو سلام محبت پیش کرتا ہوں جو دشمن کے سامنے اگلے مورچوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکار تے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے وطن کی جانب کبھی میلی آنکھ نہ دیکھنا ورنہ تمہیں صفحہْ ہستی سے مٹا دیں گے اور ہمارے بہادر فوجی جوانوں کی اسی للکار کی وجہ سے دشمن کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔
ساتھ ہی میں اپنے ان بلند حوصلہ فوجی جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو سیاہ چین گلیشئرز پر ملکی دفاع کی خاطر اپنی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ جو موسم کی پرواہ کیئے بغیر اپنے ملک کی مٹی کی محبت اپنی جبینوں پر سجائے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پر چلنے والی برفانی ہوائیں اور خون کو منجمند کر دینے والی ٹھنڈ میں بھی ان کے حوصلہ پست نہیں کرسکتی بلکہ ان کے حوصلے اور زیادہ بلند ہوتے نظر آتے ہیں۔
پاکستانی فوج صرف ہمارے دفاع تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جب بھی اس ملک وقوم پہ کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تو سب سے پہلے ہماری آرمی ہی میدان میں اترتی ہے اور ملک و ملت کی مدد کرتی ہے۔ملک میں سیلابی صورت حال ہو یا زلزلیکی تباہ کاریاں ہوں۔ کوئی حادثہ ہو یا پھر پاکستانی قوم کو کسی قدرتی آفت کا سامنا ہو ہمیشہ پاک فوج ہی اپنی قوم کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے اور اپنی قوم کو اس آفت یا مصیبت سے نکالنے کیلئے اپنی سر توڑ کوششیں کرتی ہے۔ کیونکہ پاک فوج کو اپنے ملک اور اپنی قوم سے والہانہ محبت ہے۔ اور پاکستانی قوم بھی اپنی فوج سے بے پناہ الفت رکھتی ہے۔
موجودہ صورت حال کے پیش نظر کروناوائرس کی وجہ سے دنیابھر کی طرح پاکستان میں بھی گزشتہ کئی دنوں سے لاک ڈائون جاری ہے۔ اور اسی لاک ڈائون کے حوالہ سے پاک فوج کی خدمات قابل فخر ہیں اور لائق داد ہیں۔ ہمارے فوجی جوان جگہ جگہ چیک پوسٹیں لگا کر ہماری حفاظت اور خدمت پر معمور ہیں۔ کڑی دھوپ ہو یا تیز بارش ہمارے فوجی بھائی ہماری دیکھ بھال کیلئے سڑکوں پر ہی کھڑے نظر آتے ہیں۔مردم شماری ہو یا پولیو کا مرحلہ پاک فوج ہی ہمارے کام آئی ہے۔ سرحدیں ہوں سمندر ہوں یا فضائیں ہوں پاکستان کی حفاظت محفوظ اور مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
پاکستان آرمی کا شمار دنیا کی بہترین اور بہادر فوجوں میں ہوتا ہے ہماری فوج اپنی خداداد صلاحیتوں اور اپنی بہترین حکمت عملیوں کی بدولت اقوام عالم میں اپنے نام کا لوہا منوا چکی ہے۔۔ہمیں اپنی فوج پہ فخر ہے اور ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں۔ آئی لو پاک آرمی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com