حکومت کا احسن ا قدام کفالت اجتماعیہ


حکومت کا احسن ا قدام کفالت اجتماعیہ
اختر سردار چودھری
میں اپنے تمام پڑھنے والوں سے ملتمس ہوں کہ وہ اس پر غور و فکر کریں گے۔میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں اس سے پہلے ان چند باتوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ہمارے ملک میں تقریباََ پچاس فیصد آبادی دیہاڑی دار ہے۔اس وقت ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔تمام سرکاری ملازمین اور بڑے بزنس کرنے والوں کے علاوہ،چھوٹے بڑے اپنے ذاتی کام کرنے والے سب اس وقت مشکل میں آ چکے ہیں۔تقریباََ تمام کام اور کاروباری مراکز بند ہو چکے ہیں۔ زیادہ مشکل میں چھوٹے کام کرنے والے آئے ہیں۔یہ جو غریب ہیں ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو مانگ بھی نہیں سکتے۔یعنی زیادہ مشکل میں سفید پوش ہیں۔ اسلام نے مالداروں کے مال میں غریب کا حصہ رکھا ہے۔یہ مال داروں کی آزمائش کا وقت ہے۔ان کاایک امتحان ہے۔ان کی کامیابی اور ناکامی آخرت میں سزا یا جزا کا دارومدار اس میں ہے کہ وہ اپنا مال غرباََ پرخرچ کرتے ہیں یا نہیں۔
ہماری اکثریت کا گزر بسر روزانہ کی مزدوری سے ہی چلتا ہے۔جن دوست احباب کے دل میں واقعی مزدور کا درد ہے، ہے تو اپنے ان بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں تا کہ ان کی عزت نفس مجروع نہ ہو۔ان حالات میں اس وقت حل صرف کفالت اجتماعیہ میں ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور ہی میں اس کا طریقہ کار بھی وضع کر دیا گیا تھا، آپ دیکھیں مدینہ کی ریاست کی ابتدا ء میں سب سے پہلا کام بھائی چارہ کا کیا گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا نظام اور العفو کے بارے ترغیب دی گئی۔ زکوٰۃ اسلام کا اتنا اہم رکن ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کیا۔کسی بھی حکومت کی معیشت کا دارومدار ٹیکس کی وصولی سے ہوتا ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے خیرات دینے میں پاکستان کا کوئی ثانی نہیں ہے لیکن اس کی عوام ٹیکس نہیں دیتی۔اس میں قصور یا کمزوری حکومت کی ہی ہے۔اسے زبر دستی ٹیکس وصول کرنا چاہیے۔اگر حکومت ٹیکس وصول نہیں کر سکتی تو اس کو حکومت کرنے کا کیا حق ہے۔یہ بات بالکل ایسے ہی ہے کہ قانون بنانے کا کیا فائدہ اگر ان پر عمل کروانے کی سکت کسی حکومت میں نہ ہو۔اگر صرف ٹیکس کا نظام ہی درست ہو جائے تو ملک کو درپیش مسائل کا حل ممکن تھا۔
اب ان وبا ء کے دنوں میں کمزوروں اور غرباََ کی کفالت کے لیے حکومت کو مانگنا نہیں پڑتا۔یہ نظام بنانے اور سختی سے عمل کی وجہ سے ہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں کوئی زکوٰۃ و خیرات لینے والا نہیں ملتا تھا، ہر کسی کو روٹی کپڑا مکان، عزت نفس اور تحفظ جان کے حقوق حاصل تھے۔ اس وقت پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس میں مال داروں کو آگے آنا چاہیے اور غرباََ کی مدد کرنا چاہیے۔یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے اگر مال دار اپنے دل میں ان غربا َکا درد یا خوف خدا محسوس کریں۔اللہ کا شکر ہے بہت سے افراد اس پر کام کر رہے ہیں خاص طور پر مذہبی جماعتوں میں جماعت اسلامی ہمیشہ کی طرح مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔جماعت اسلامی نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنا فرض پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے نبھایا ہے۔اسی طرح جماعت الدعوۃ بھی پیچھے نہیں ہے۔
عمران خان نے جب سے وبا ئی مرض”کرونا وائرس”پھیلا ہے تب سے ایک بہترین حکمران ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس کے لہجے میں سچ اور درد بولتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس مشکل ترین وقت میں تین اہم قابل تحسین کام کیے ہیں سب سے اہم اور ضروری کام جس پر عمران خان کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے وہ ہے عوام کو خوف سے نکالنا۔یہ خطرناک وائرس ہے لیکن اس سے ڈرنا نہیں ہے اس سے لڑنا ہے۔ہم یہ جنگ احتیاط کر کے ہی جیت سکتے ہیں۔آپس میں فاصلہ رکھیں۔زیادہ سے زیادہ صفائی کا خیال رکھیں۔خود ہی اپنے گھر وں تک محدود ہو جائیں۔حکومت کو سختی نہ کرنا پڑے۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حکومت سخت ایکشن لے گی۔انتہائی ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی رہیں گی۔حکومت کا یہ احسن قدم تھا کہ پہلی ترجیح میں تعلیمی ادارے بند کر دیے۔اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے کورونا وائرس ریلیف فنڈ قائم کر دیاہے۔اس فنڈ میں جمع کروائی گئی رقم سالانہ ٹیکس سے کٹوائی بھی جا سکتی ہے۔
ہمارامسئلہ ہے کہ ہماری 25فیصدآبادغریب ہے، جو دووقت کی روٹی نہیں کھا سکتی ان تک اشیاء ضرورت کی فراہمی کے لیے نوجوانوں پر مشتمل ٹائیگر فورس کا قیام بھی اچھے کاموں میں سے ایک ہے۔کیونکہ نوجوان ہی اس وبا ء کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے غرباََکا ڈیٹا بھی اکھٹا کیا جا رہا ہے۔عوام کو چاہیے کہ اس مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دے۔حکومت کے ان احسن اقدامات کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ یہ اقدام کفالت اجتماعیہ پر مشتمل ہیں۔افسوس یہ ہے کہ اس وقت بھی بعض شر پسند عناصر اپنا بغض نکالنے سے باز نہیں آ رہے۔یہ عناصر کسی بھی طرح ملک و قوم کے دوست نہیں ہیں۔آج بھی یہ لوگ سیاسی ومذہبی فرقہ پرستی میں مبتلا ہیں۔یہ کچھ لوگ ہیں جو کسی حال میں بھی خوش نہیں ہیں یہ لوگ ملک میں انتشار چاہتے ہیں۔
ان چند لوگوں کو ہمارا میڈیا بھی جانے انجانے میں اور اپنی ریٹنگ کے لیے سہارا فراہم کرتا ہے ورنہ یہ اپنی موت مر جاتے۔پہلے یہ ہمارا جسم ہماری مرضی کا نعرہ لائے۔ اللہ نے کرونا وائرس مسلط کیا تو علم ہوا کہ ہمارا جسم ہماری مرضی نہیں خالق کی مرضی ہے۔پھر جب چین میں وباء پھیلی تو وہاں موجود طلبہ کی ہمدردی کرنے لگے چین نے ذمہ داری نبھائی اور فتح حاصل کی۔ ان لوگوں نے زائرین کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور آج کل یہ تبلیغی جماعت کے خلاف اپنی توانائیاں لگائے ہوئے ہیں۔جب انہیں کوئی نہ ملے تو یہ عمران خان کے خلاف شروع ہو جاتے ہیں۔یہ لوگ اصل میں پاکستان کے دشمن ہیں۔اور جو بھی پاکستان سے محبت کرے گا یہ اس کی مخالفت کریں گے۔
میں بھی کن باتوں کو لے کر بیٹھ گیا۔میں کہہ رہا تھا آزمائش کی ان گھڑیوں کا تقاضہ ہے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں۔ گناہوں سے توبہ کریں۔اور یاد رکھیں سب سے بڑی عبادت خدمت خلق ہے۔ہمیں اپنے غریب بھائیوں کی کفالت کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔اللہ ہم سب کو معاف فرمائے، مشکل کی اس گھڑی میں ہمارے لئے آسانیاں فرمائے۔اس موذی بیماری ” کرونا وائرس “سے ہمیں نجات مل جائے۔ آمین۔اپنا اور اپنے سب پیاروں کا خیال رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com