محکمہ تعلیم میں اندھیر نگری اور تبدیلی سرکار

محکمہ تعلیم میں اندھیر نگری اور تبدیلی سرکار
جام ایم ڈی گانگا
محترم قارئین کرام، نظام کی اصلاح، میرٹ اور انصاف کے حوالے سے موجودہ حکمرانوں کی قیادت اور رہنماؤں نے قوم سے جو وعدے کیے تھے. اداروں کو ٹھیک کرنے اور ان میں سیاسی مداخلت بند کرنے کے جو دعوے کیے تھے. ان پر کسی جگہ کوئی عمل ہو بھی رہا ہے یا نہیں. اگر عمل ہو رہا ہے تو ان پر کہاں کہاں اور کس حد تک عمل کیا گیا ہے. یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اداروں میں سیاسی مداخلت سے نہ صرف یہ کہ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ نظم و نسق میں پیدا ہونے والا بگاڑ کئی مزید خرابیوں کا باعث بن جاتا ہے. میں اپنی بات کو آگے بڑھانے سے قبل محکمہ تعلیم رحیم یار خان کے ایک واقعہ سے متعلق یہ نیوز رپورٹ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں.جس سے ماضی اور حال کا فرق یا تبدیلی کی حقیقت کا حقیقی اندازہ ہو سکے گا.
ُ ُ ُ میڈم شہناز نے میڈم عطیہ ناز کو ذہنی مریض بنا دیا. محکمہ تعلیم میں اندھیر نگری، تبدیلی سرکار کہاں سُو گئی?.ڈی ای او ایجوکیشن کے رویہ سے اے ای او سخت ذہنی دباؤ کا شکار.اہم سیاسی شخصیات کی مداخلت سے واہی جمن شاہ سکول کی ہیڈمسٹریس کا معاملہ تول پکڑ گیا. پولیس نے تشدد کا شکار اے ای او ایجوکیشن عطیہ ناز کی درخواست پر کوئی کاروائی نہ کی.محکمانہ انکوائری میں فیضان نسیم کی زیادتی ثابت پھر بھی پشت پناہی میرٹ اور انصاف پر سوالیہ نشان. تفصیل کے مطابق کچھ عرصہ قبل محکمہ تعلیم کی اے ای او میڈم عطیہ ناز اور واہی جمن شاہ کوٹسمابہ کی ہیڈ مسٹریس میڈم فیضان نسیم کے درمیان سکول کی چیکنگ وزٹ کے دوران سرکاری ریکارڈ چیک نہ کروانے کے معاملے پر تلخی کلامی ہوئی. ہیدمسٹریس فیضان نسیم نے اے سی او عطیہ ناز کو رجسٹرد و ریکارڈ دکھانے کی بجائے الٹا طیش میں آ کر اپنی آفیسر کی تھپڑوں اور مکوں سے دھلائی کر دی. واقعہ کی 15پر کال کرنے سے پولیس موقع پر آگئی. مگر بعد ازاں ایک فون کال آنے پر پولیس خاموشی سے واپس چلی گئی. اے ای او میڈم عطیہ کی جانب سے15اکتوبر2019 ء کو تھانہ کوٹسمابہ پولیس کو مذکورہ بالا واقعہ کی باقاعدہ تحریری دخواست جمع کروائی گئی جس پر پولیس نے ابھی تک کوئی کاروائی نہیں گی. اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر پولیس کے ذمہ داران نے بتایا کہ یہ محکمہ تعلیم اور سکول کا معاملہ ہے. مجاز آفیسر اور اتھارٹی کے لیٹر کے بغیر ہم فوجداری کاروائی نہیں کر سکتے. مجاز اتھارٹی کا جیسے ہی لیٹر آئے گا ہم اپنی کاروائی شروع کر دیں گے.دوسری جانب محکمانہ کاروائی کا آغاز ہوا.گو کہ خاصا لیت و لعل سے کام لیا جاتا رہا. اس دوران اے ای او کو مختلف طریقوں سے ڈرایا اور دھمکایا بھی جاتا رہا مگر وہ اپنے اوپر ہونے والے تشدد اور زیادتی کے خلاف کاروائی کرنے پر ہی ڈٹ گئی. بالاآخر انکوائری میں ہیڈ مسٹر فیضان نسیم کے منفی رویے اور اس کی جانب سے زیادتی ثابت ہو گئی.یہاں تک تو جیسے تیسے میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کو جزوی طور پر پورا ہونے دیا گیا مگر جرم اور زیادتی کرنے والی کو کوئی سزا دینے کی بجائے سیاسی دباؤ میں آکر محکمہ تعلیم کے آفسیران نے اے ای او پر اپنا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا. اول یہ کہ عطیہ ناز کو فوجداری کاروائی کے لیے لیٹر لکھ کر نہیں دیا جا رہا بلکہ الٹا اس پر وہ صلح کر لینے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہے ہیں. عطیہ ناز کو ڈی ای او ایجوکیشن میڈم شہناز کی جانب سے کبھی وضاحت کے لیے طلب کرکے اور کبھی شوکاز کا کہہ کر پابند کرکے سخت ذہنی اذیت سے دو چار کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے.اسے مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر مشروط اور تحریری طور اپنا کیس واپس لے کر معافی کا لکھ دے. آفیسران کا یہ رویہ میرٹ، انصاف اور جزا و سزا کے قانون کے سراسر خلاف ہے. اس سے محکمانہ چیک اینڈ بیلینس اور نظم و ضبط کے نظام میں مزید دراڑیں پڑیں گی.ماتحت سٹاف کی جانب سے آفیسران کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ہو گا. اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بااثر ہیڈ مسٹریس کی طرفداری میں ضلع کی کن بااثر حکومتی شخصیات کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے. کیا یہ تبدیلی سرکار کے دعوؤں کی کھلی نفی نہیں ہے. بات کے مزید بڑھنے سے قبل ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان، وزیر تعلیم پنجاب اور وزیر اعلی پنجاب کو اس واقعہ کا نوٹس لینا چاہئیے. مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا کی جانے والی اے ای او عطیہ نازکو انصاف فراہم کیا جائے. رابطہ کرنے پر اے ای او ایجوکیشن میڈم عطیہ ناز نے بتایا کہ ان مذکورہ بالا حالات کی وجہ سے وہ سخت ذہنی اذیت کا شکار ہے.میں نے اپنے آفیسران سیکہا ہے کہ ہیڈ مسٹریس تحریری طور پر معافی مانگے اور میرے موبائل کے نقصان کا بھی ازالہ کریتو میں آپ کے کہنے پر صلح کر لوں گی. بصورت دیگر قانونی کاروائی میرا حق ہے مجھ سے میرا یہ حق زبردستی سلب نہ کیا جائے میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے.ڈی ای او ایجوکیشن میڈم شہناز نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ دونوں بچیاں مجھے عزیز ہیں.ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر آپس میں صلح کر لیں تو یہ اچھی بات ہے.دونوں کا باہم پروفیشنل کلیش بھی سامنے آیا ہے. میں نیصلح کی کوشش ضرور کی ہے کوئی دباؤ نہیں ڈالا. دونوں موبائل کے معاملے پر اٹکی ہوئی ہیں.ٗ ٗ
محترم قارئین، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی حکومتی اہم شخصیات ایم پی اے، ایم این اے اور وزراء صاحبان کی اداروں میں مداخلت اور شفارشی کلچر ماضی کی طرح ہی چل اور پھل پھول رہا ہے. پولیس مخصوص کیسز میں پولیس کاروائیوں میں طرفداری اور محکمانہ انکوائریز میں لیت و لیل، دباؤ سے جھکاؤ، جزا و سزا میں قانون، اصول و ضوابط،اخلاقی تقاضوں کو سامنے رکھنے کی بجائے حکومتی اثر و رسوخ کے پیش نظر معاملات کو بھگتانے جا سلسلہ جاری ہے.مذکوہ بالا معاملے اور کیس میں دونوں فریقین جس طرح اپنے اپنے موقف پر ڈٹ ہوئے ہیں پیچھے ہٹنے میں اپنی بے عزتی کا تصور اور خدشہ لیے ہوئے ہیں. مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ اگر متعلقہ ذمہ داران آفیسران بالا نے انصاف کی فراہمی میں کوتاہی یا طرفداری کا مظاہرہ کیا یا سیاسی دباؤ کی وجہ سے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا تو معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے.بات ادارے سے باہر نکل کر عدالت تک بھی جا سکتی ہے.انصاف کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ انا پرست وزیر کو سمجھایا جائیتاکہ تبدیلی سرکار اپنے دعووں کے برعکس عمل کر کے جگ ہنسائی کا باعث نہ بنے. بہتر یہی ہے کہ میرٹ اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرکے معاملے نپٹایا جائے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com