تم جو خوابوں میں چلے آتے تو اچھا ہوتا

غزل

تم جو خوابوں میں چلے آتے تو اچھا ہوتا
ذہن و دل کو مرے مہکاتے تو اچھا ہوتا
ابر ہے , پھول ہیں , اور ٹھنڈی ہواؤں کا سرور
ایسے میں تم بھی جو آ جاتے تو اچھا ہوتا
جس طرح آج تغافل پہ ہیں اس کے نالاں
ہم اگر پہلے یوں جھنجھلاتے تو اچھا ہوتا
آج یہ دردِ جدائی تو نہیں ہوتا ہمیں
ان سے نظریں نہ ملا پاتے تو اچھا ہوتا
خیر مقدم ہے جناب آپ کا دل سے لیکن
ساتھ میں ان کو بھی جو لاتے تو اچھا ہوتا
سن کے اظہارِ محبت کو مرے کاش کہ تم
ہونٹوں سے پھول نہ برساتے تو اچھا ہوتا
بار بار اس کو منانے کے بجائے اے “ذکی”
اپنے اس دل کو جو سمجھاتے تو اچھا ہوتا
ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج۔بارہ بنکی
یوپی۔بھارت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com