گیم چینجرکورونا وائرس

گیم چینجرکورونا وائرس
عمران امین
مہذب دنیا میں چند ہفتے پہلے تک جنگل کا قانون نافذ تھا۔جہاں کمزور پر چڑھائی کرنا آسان اُور طاقتور سے اپنا حق لینا مشکل تھا۔ہر قسم کے قوانین موجود تھے مگر الگ الگ تشریحات کے ساتھ۔طاقتور کے لیے قانون اُور تھا،کمزور کے لیے قانون اُور تھابے بس کا فلسفہ زندگی الگ اُور اختیارات والے کی سُوچ اُور تھی۔بظاہر تمام قوانین کی موجودگی میں بھی عمدگی سے ”جس کی لاٹھی،اُس کی بھینس“ کا فارمولہ رائج تھا۔دنیا کے مضبوط ممالک کے حکمران ”سب انسان برابر ہیں“ کا زور دارنعرہ لگاتے اُور اُن کاظلم کو مٹانے،انصاف کو پھیلانے اُورحق سچ کہنے کا عزم بتاتا تھا کہ یہ دنیا کے طاقتورسوداگر اُور قابض حکمران اپنے غریب بنی نوح انسان کو بنیادی حق دینے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے ہیں۔مگر کسے خبر تھی کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔”ہاتھی کے دانت کھانے کے اُور ہیں اُور دکھانے کے اُور“۔یہ سب چل رہاتھا کہ اچانک کایا پلٹ گئی۔شائد زمین نے انگڑائی لی یافضا نے سانس لی اُور دنیا بدل گئی۔انسان دوستی،محبت،اخلاص،مدد اُور بھائی چارے کا سماں بندھ گیا۔اس زمین پر بسنے والے طاقتور لوگوں کواب ایک موقع ملا ہے کہ وہ اپنی سمت درست کر لیں،اپنی اصلاح کر لیں،اپنے معاملات پر نظر ثانی کر لیں۔یاد رہے کہ اللہ کا قانون ہے کہ وہ کسی بھی بستی کے بارے میں مکمل تباہی اُور بربادی کے فیصلے کرنے سے پہلے کئی بار انتباہ کرتا ہے۔جب معاملات حد سے زیادہ بڑھ جائیں تب الہامی فیصلے ہو تے ہیں توپھر اُس قوم اُور آبادی کو بُرے انجام سے کوئی نہیں بچا سکتا۔یہی سب کچھ ان دنوں اس کرہ ارض کے رہنے والے انسانوں کے ساتھ بھی ہوا۔خدا کی ایک ادنیٰ مخلوق اُور وہ بھی ایسی جو ننگی آنکھ سے نظر بھی نہیں آتی،آج کل اس کائنات کے راؤنڈپر ہے۔اس کے ننھے منے ہاتھوں میں بد قسمتی سے ہمارے نامہ اعمال ہیں جن پر سوائے سیاہی کے اُور کچھ نہیں ہے۔نیکی کے خانے خالی اُور برائیوں کے خانے بھرے ہوئے ہیں۔ایسے میں ہم اپنے رب سے،عذاب کے علاوہ کیا توقع کر سکتے ہیں؟۔پہلے اُداس مسجدیں نمازیوں کوپکارتی رہتی تھیں اُور لوگ بے حسی کے عالم میں کان پڑی اذان کو سننے کو تیار نہ تھے۔اب مسجدوں کو چھوڑو،گھروں سے اذانوں کی آوازیں آرہی ہیں مگراب وبا کے شکار،مصیبت کے مارے انسان کو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔یعنی اب مسجد نے بھی اس نافرمان اُور گستاخ انسان کو قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے،بھائیوں! یہ عذاب الہیٰ کی نشانیاں نہیں تو اُور کیا ہیں کہ اللہ کا گھر بھی بند تھا اُور مسجدیں بھی ویران ہیں۔مگر ٹھہرو،یاد آیا! توبہ کا دروازہ تو کھلا ہے۔یہ دروازہ تو کبھی بھی بند نہیں ہو نے والا اُورنہ کبھی اُس کی رحمت سے مایوسی ممکن ہے۔اب بھی وقت ہے ”ورنہ پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چُگ گئی کھیت“۔اپنے دل نرم کرو اُور اللہ سے اپنا ٹوٹا تعلق جوڑ لو،اُس کو منا لو، معافی مانگ لو،گڑگڑا لو،منتیں کر لو،سجدے لمبے کر دو،قرآن کی تلاوت بڑھا دو۔بس ایک بار اپنے اللہ کے ناز اُٹھا لو پھر دیکھو وہ اپنی رحمت سے سب بیماریاں اُور مشکلات کیسے دُور کر دے گا۔کیا تم نے نہیں دیکھا اُس کا عذاب اُور غصہ کہ ایک ہی جھٹکے سے تمام برائیوں کے گڑھ بند ہو گئے،انا اُور خود پرستی کے بُت ٹوٹ گئے،رنگ و نسل کے فرق مٹ گئے،قومیت میں بٹی انسانیت ایک ہی جھنڈے تلے اکھٹی ہو گئی۔”ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز“۔آج عالمی پاور پلے کے چمپیئنز ہوں،سُپر پاورز یا اقتصادی میدان کے بادشاہ غرضیکہ سب اپنے روٹھے رب کو منانے کی فکر میں ہیں۔اللہ کرے!اُن کی یہ کوششیں کامیاب ہوں۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ اس مشکل وقت میں ہماری حکومت نے اب تک انتہائی مناسب اُور بروقت اقدامات سے اس سارے معاملے کو ہینڈل کیا ہے۔عمران خان نے ایک حقیقی سٹیٹسمین کا کردار ادا کرتے ہوئے ملک کو کسی بھی افراتفری میں ڈالے بغیراس مسئلے کے حل کے لیے مختلف ٹھوس قدم اُٹھائے ہیں۔ مگر افسوس!بار بار اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے اُورکرپشن کی دلدل میں پھنسے سیاسی مخالفین صر ف سیاسی پوئنٹ سکورنگ کر تے ہوئے”مخالفت برائے مخالفت“کر رہے ہیں۔وہ بھی اس لیے کہ شائد موجودہ نازک صورتحال میں اُنکی کرپشن پر پردہ داری کا سامان ممکن ہو سکے اُورعدالتوں میں جاری مقدمات میں انہیں ریلیف مل سکے۔مگر یہ صرف اُن کی خام خیالی ہے کیونکہ مضبوط اعصاب کا مالک عمران خان ہمیشہ چیلنج پسند کرتا ہے اُور مشکل وقت پر بہترین فیصلے کر کے جیت جاتا ہے۔ دُوسری طرف تمام صوبوں کی حکومتیں اپنے اپنے علاقوں میں ”کورونا“ کے اثرات کے مطابق مختلف اچھے فیصلے کر رہی ہیں۔ مقصد سب کا ایک ہی ہے کہ سارا پاکستان اس مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ اب ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے اعلانات کے مطابق اپنی سرگرمیوں محدود کر لیں۔میل جُول ختم کر دیں۔گھروں میں رہیں تاکہ حکومت اپنے ٹارگٹس جلد حاصل کر کے اس مہلک بیماری سے ہمیں نجات دلا سکے۔ عوام میں اس بات کا شعور پیدا کرنابہت ضروری ہے کہ اس بلا سے بچنا سب کی مجبوری ہے۔ہماری حکومت اپنی بھرپور کوشش میں ہے کہ عوام کو کم سے کم تنگی دے کر اس موذی مرض سے نجات حاصل کی جائے، مگر افسوس کہ ہمارے لوگ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ہمارے لوگ اب تک اس بات کا ادراک نہیں کر سکے کہ اس طرح کی غیر سنجیدگی کی بنا پر آج اٹلی،سپین، امریکہ، جرمنی اُور دیگر ممالک میں یہ مرض موت بانٹ رہا ہے۔وفاقی حکومت اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے اپنے عوام کو بہترین پیکج دے رہی ہے اُور اسی طرح صوبائی حکومتیں بھی عوامی خدمت میں پیش پیش ہیں۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک مہذب قوم ثابت کرتے ہوئے حکومتی احکامات پر پُوری طرح عمل کریں کیونکہ ان پر عمل درآمد میں ہی ہماری نجات ہے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ اس عذاب سے جلد از جلد نجات دلائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com