“خود سے خدا تک“۔۔۔ایک جائزہ

تحریر…ناصر محمود بیگ
سب سے پہلے بندہ ناچیز اپنے اللہ کریم کا کروڑ ہا شکر بجا لاتا ہے کیونکہ وہ کریم صرف رب ہو کر اپنے بندے کی مادی ضروریات پوری نہیں کرتا بلکہ اس کی روحانی خوراک کا بھی بندوبست کرتا ہے.اس بندہ پروری کا مجھے شدت سے احساس اس وقت ہوا جب میں نے مذکورہ کتاب “خود سے خدا تک” کا مطالعہ مکمل کیا.کچھ ماہ پہلے اس کتاب کا اشتہار نظر سے گزرا تو اس کا عنوان دیکھ کر ہی دل میں کسک اٹھی کہ اس کو پڑھنا چاہیے.پھر خوشی مزید دوبالا اس وقت ہوئی جب علم ہوا کہ اس کے مصنف محمد ناصر افتخار صاحب میرے ہم نام بھی ہیں اور ہمارے شہر چیچہ وطنی سے بھی ہیں.قصہ مختصر ہم نے پھر ان کے عمر پلازہ والے دفتر سے یہ کتاب رعائتی قیمت پر خرید لی جو کہ صرف اہل علاقہ کے لیے انہوں نے خاص کر رکھی تھی.مصنف کا اتنا تعارف ہی کافی ہے کہ موصوف نامور سکالر پروفیسر احمد رفیق اختر کے شاگرد رشید ہیں.اور سب سے بڑی بات کہ یہ کتاب کسی چلہ کشی کرنے والے جوگی کی نہیں بلکہ قرآن و احادیث کی روشنی میں لکھی گئی ہے.کتاب پڑھ کر میرے قلم سے رہا نہیں گیا کہ جو میں نے اس کتاب سے استفادہ کیا سوچا اوروں کو بھی اس سے فیض یاب کیوں نہ کروں.چنانچہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کی ایک کوشش کرنے جا رہا ہوں.ویسے تو بہت کچھ ہے اس کتاب میں جسے جتنی بار پڑھیں گے اتنے ہی پہلو سامنے آئیں گے مگر جو علم میں نے سیکھا اس سے… اس علم و حکمت کا خلاصہ…اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیے دیتا ہوں.امید ہے آپ بھی خود سے خدا تک کے سفر میں میرا ساتھ دیں گے.

اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے.پہلا حصہ تعارف پر مشتمل ہے, دوسر ے حصے میں جبلیات نفس پر روشنی ڈالی گئی ہے.تیسرے حصے میں تربیت نفس کا سامان مہیا کیا گیا ہے اور آخری حصے میں اعلی شعور تک رسائی کا راستہ بتایا گیا ہے جس پر چل کر خود سے خدا تک کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔.
پہلے حصے میں نفس کی پہچان کرائی گئی ہے.سطحی طور پر انسان کی ذات کے تین حصے ہیں…جسم, حواس اور ذہن…اگر ان میں سے میں اپنے آپ کو تلاش کریں تو میں ان تینوں ماورا ہوں…میرا نفس ان سے بالا تر شے ہے…اس کو جاننے کے لیے مجھے علم اور عقل چاہیے.میرا علم اور عقل بہت محدود اور سطحی ہے.علم و عقل سے بھی آگے شعور کی آنکھ ہے……..نفس کی پہچان کے لیے جسم اور ذہن کے گٹھ جوڑ کو سمجھنا بھی ضروری ہے.کیونکہ ذہن صرف جسم کی غلامی کرتا ہے.اب اسے جسم سے آزاد نہیں کرنا بلکہ علم دے کر اللہ کی راہ میں لگانا ہے.بغیر علم کے یہ ہمارا دشمن ہے.اس نفس کو قابو کرنے کے کئی شارٹ کٹ ہیں.لیکن وہ سب بے کار ہیں جب تک اس نفس کی صحیح تربیت نہ کی جائے…ہمارا نفس سارا دن ہماری توانائی ہمارے جذبات پر خرچ کرتا رہتا ہے.اس توانائی کو بچانے کے لیے نفس سے جہاد کرنا پڑتا ہے یہی جہاد اکبر ہے….نفس کے دو کردار ہیں.ایک نفس امارہ اور دوسرا نفس لوامہ.امارہ گناہ کی ترغیب دیتا جب کہ لوامہ اس پر ملامت پیدا کرتا ہے.تربیت یافتہ نفس کا ایک اور کردار نفس مطمئنہ ہے….اس کردار کو پانا نفس کے علم کے بغیر ممکن نہیں.اس نفس کی جبلیات کا علم اگلے باب میں ملاحظہ فرمائیں.
تیسرے باب میں تربیت نفس کے طریق سمجھائے ہیں.نفس کی تربیت ایک بچے کی تربیت کی طرح ہے.اس کی فطرت کو سمجھنا.کڑی نظر رکھنا.کبھی ڈانٹنا.اور غفلت سے جگانا ہوتا ہے.نفس کو اپنے اندر وسعت پیدا کرنے دیں.تاکہ وہ زمان و مکان سے آزاد ہو سکے.نفس کی تربیت کے لیے مراقبہ کیا جاتا ہے.مراقبہ دو طرح کا ہے ایک تصوف والا اور دوسرا روحانیت والا…روحانی مراقبہ ہر مذہب میں کیا جاتا ہے جس میں نفس کے علم کے بغیر محض ارتکاز سے ہی نفس کو مارنے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ سراسر شیطانی دھوکہ ہے جب کہ اسلام میں مشاہدہ حق ہی اصل مراقبہ ہے.جیسا کہ مراقبہ لفظ رقیب سے ہے جس کا معنی نگہبان ہے.یعنی اپنے نفس پر لگاتار کڑی نگرانی رکھنا.اس کا کوئی خاص وقت یا طریقہ نہیں…یہ مسلسل عمل ہے.اس میں پسند ناپسند کا دخل نہیں.سوچ عمل وابستگی نیز ہر چیز کا مشاہدہ کرنا ہوتا ہے…..سوچ سے باہر نکل کر اپنے آپ کو پرکھنا ہوتا ہے…
انسان تربیت نفس کی ہر شعوری کوشش کے باوجود کہیں لاشعوری طور پر مار کھا جاتا ہے…اس سے ہار جاتا ہے.اس کتاب کا آخری باب سب سے اہم ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ کیسے انسان اپنے شعور کی سطح کو بلند کر کے اس میں کامیاب ہو سکتا ہے.اس کے لیے سب سیپہلے اللہ کی یاد ہے جیسا کہ بہت سے صبح شام کے اذکار مسنون ہیں.اس کے علاوہ ذکر اللہ کا کوئی پروٹوکول نہیں.ذکر کے خاص طریقے جو بنا لیے گئے سب خلاف سنت ہیں….خدا کی پہچان شعوری طور پر کی جائے داخلی اور خارجی ذرائع سے.روح کے اندر خدا کا احساس موجود ہے اور باہر الہامی کتابوں کیذریعے علم دے دیا گیا.نفس روح کو دبا کر رکھنا چاہتا ہے.اس لیے وہ اندر کی آواز کو دبا کر خدا سے نا آشنا رکھنا چاہتا ہے.اس لیے علم ضروری ہے.علم کا سمندر قرآن میں ہے.اللہ کو ماننا اور ہے اللہ کو جاننا اور بات ہے..لہذا اللہ کو جاننے کے لیے قرآن کا جاننا ضروری ہے.اور قرآن جاننے کا ایک ذریعہ سائنس ہے…..اللہ تک پہنچنے کا راستہ محبت رسول صل سے ہو کر جاتا ہے.ہم اللہ کو حضور صل کے طفیل ہی پہچانتے ہیں.آپ نے ہی اللہ کا تعارف کرایا…..اللہ تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ شیطان مردود ہے اس سے پناہ مانگنی بھی ضروری ہے…..نفس شیطان کا ایک کارندہ ہے جو اس خدائی تخلیق میں شیطان کے لیے استعمال ہوتا ہے…ان سب منزلوں سے گزر کر اپنے نفس کو پہچانننے اور اللہ کی معرفت کا یہ سفر ایک دم طے نہیں ہوتا.اور نہ کوئی کہ سکتا ہے کہ اس نے منزل پا لی ہے یہ تو جہد مسلسل کا نام ہے.یہ انسان ہر روز اس بچے کی طرح دنیا کے کھیل میں مگن ہو جاتا ہے اور پروردگار اس ماں کی طرح اسے سمجھاتا ہے کہ لوٹ آ میری طرف.لوٹ آ میری طرف….یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا ہے….خود سے خدا تک کا یہ سفر آپ کو مبارک ہو….! .والسلام.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com