بانی پاکستان کا جنم دن

بانی پاکستان کا جنم دن
مبارک علی شمسی
25 دسمبربانیْ پاکستان محمد علی جناح کی ولادت کا دن ھے جنہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں، انتھک محنتوں اور بیشمار کاوشوں سے ہمیں انگریزوں اور ہندوئوں کی غلامی سے نجات دلائی اور ہمیں ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا مالک و قابض بنایا۔ آپ نے کراچی میں 1876 ء میں آنکھ کھولی آپ کے والد کا نام جناح پونجا تھا جو چمڑے کے بہت بڑے تاجر تھے۔ 6 برس کی عمر میں تعلیمی سلسلہ گھر میں ہی شروع کیا اور 9 برس کی عمر میں سندھ مدرسہ ہائی سکول کراچی میں داخلہ لے لیا اس زمانہ کے رسم و رواج کیمطابق آپ نے 15 سال کی عمر میں شادی کر لی آپ کی ہمسفر کا نام ایمی بائی تھا۔ 1892 ء میں اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن کا رخ کیا اور وہیں رہنے لگے۔ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کی شریک حیات اس جہان فانی سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رخصت ہو گئیں اور قائد اعظم کو جدائی کا زخم دے گئیں۔ لندن میں آپ نے لنکن ان میں ایڈمیشن لے لیا کیونکہ وہاں آپ کو یہی درسگاہ پسند آئی تھی جس میں داخلہ لینے کی خاص وجہ آپ نے کافی مدت کے بعد 1947 ء میں بار ایسوسی ایشن کراچی سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی آپ نے فرمایا تھا کہ میں نے لنکن ان میں داخلہ اس لیئے لیا کہ اس کے صدر دروازے پر دنیا کے عظیم قانون سازوں کی فہرست میں ہمارے نبی کریم ﷺ کا نام بھی شامل تھا۔
لنکن ان سے فراغت کے بعد 1896 ء میں واپس آئے اور 1897 ء میں بمبئی میں پریکٹس شروع کر دی مگر اس پریکٹس کے دوران انہیں 3 سال تک سخت مایوسی کا سامنا رہا۔ تاہم بیسویں صدی کا آغاز ان کیلئے خوشی کی نوید لیکر آیا اور آپ کے مستقبل کیلئے بہتر ثابت ہوا۔ جب بمبئی کے قائمقام ایڈووکیٹ جنرل خاں میلزروتھ میک فرسن نے بانیْ پاکستان کی قابلیت، ذہانت اور دیانتداری سے متاثر ہو کر انہیں اپنے دفتر میں کام کرنے کی پیشکش کر دی اور اسی دوران بمبئی میں پریذیدینسی مجسٹریٹ کی سیٹ عارضی طور پر خالی ہو گئی اور قائمقام ایڈووکیٹ جنرل نے قائد اعظم کا نام تجویز کر کے ان کی سفارش بھی کر دی جہاں آپ چند ماہ تک اسی عارضی عہدہ پر فائز رہے جس کا خاص فائدہ یہ ہوا کہ قانون دانوں کے حلقوں میں آپ کی جان پہچان ہو گئی اور آپ کی عزت اور آپ کے وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا اور آپ کی پریکٹس بھی خوب چل نکلی اور گزشتہ برسوں سے جو مالی بحران پیدا ہو گیا تھا اس کا بھی خاتمہ ہوا۔ جبکہ تین سال بعد قائد اعظم کو بمبئی کارپوریشن میں ایک ہزار ماہانہ پر کام کرنے کی پیشکش کی گئی تاہم مشکل اور عجیب حالات کے پیش نظر آپ نے اسے قبول کر لیا۔
یہاں ایک واقعہ بیان کرتا چلوں کہ ایک مرتبہ کسی مقدمہ کی سماعت کے دوران لوگوں کا ہجوم بڑھ گیا جس کے باعث کمرہْ عدالت کے دروازے بند کرنا پڑے اسی اثناء میں قائد اعظم کمرہْ عدالت میں داخل ہوئے اور دیکھا تو وہاں کوئی نشست بھی خالی نہیں تھی مگر وکلاء کیلئے مختص کردہ مخصوص نشستوں میں سے ایک نشست پر بمبئی کارپوریشن کا مالک میکڈانلڈ بیٹھا تھا قائد اعظم نے اسے کرسی چھوڑنے کا کہا تو اس نے اپنی جگہ سے اٹھنے سے صاف انکار کر دیا جس پر قائد اعظم نے متعلقہ عدالتی اہلکار کو کہا جس نے تذبذب سے کام لیا تو بانیْ پاکستان نے اسے خبردار کیا کہ وہ جج صاحب کے علم میں یہ معاملہ لائیں گے اس پر اہلکار ھٰذا کو مجبوراً نشست خالی کرانے کیلئے کہنا پڑا۔ میکڈانلڈ نے غصہ کرنے کی بجائے خوش اسلوبی سے نشست خالی کر دی اور قائد اعظم کے اس رویہ سے متاثر ہو کر انہیں اپنی کارپوریشن میں 6 ہزار روپے کی ملازمت کی پیشکش کر دی۔
اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قائد اعظم شروع سے ہی آئین و قانون کے ذرائع اختیار کرنے والے تھے۔ قائداعظم کی ذات کا ہمیشہ سے ہی یہی خاصہ رہا کہ آپ نے ہمیشہ ھمدردیاں بانٹی ہیں اور محبتیں سمیٹی ہیں کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی اور ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ جو فیصلہ کر لیا اسی پہ ڈٹ گئے ایمانداری دیانتداری حق گوئی شرافت اور مستقل مزاجی زندگی بھر ان کا شعار رہی۔اور ان کی کامیابی کا باعث بنی۔
برطانوی لیبر پارٹی کے مندوب کرنل ویج ووڈ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو بھر پور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہند میں صرف ایک فرد واحد اپنی مضبوطی کردار کے ساتھ اپنے اس مئوقف پر قائم رہا جسے وہ درست سمجھتا تھا نہ وہ بھر پور مخالفت سے مرعوب ہوا اور نہ ہی حماقت و تائید کے فقدان سے اس کے حوصلے کا پرچم سرنگوں ہوا۔
برصغیر کی تحریک آزادی کے سیاسی لیڈروں کے کردار کا بے لاگ جائزہ لیا جائے تو قائد اعظم منصف مزاجی اور بے لوثی سمیت ہر اعتبار سے سر فہرست نظر آتے ہیں انہوں نے ہمیشہ خدمت سمجھ کر سیاست کی کیونکہ وہ سیاست برائے خدمت کے قائل تھے اور سیاست میں نا جائز ذرائع اور گھٹیا ہتھکنڈوں کوہمیشہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ جب بھی کوئی مئورخ پاکستانی سیاست کی تاریخ مرتب کرے گا تو قائد اعظم کا نام نمایاں رہے گا اور ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
قائد اعظم پاک و ہند کے مسلمانوں کے عظیم لیڈر تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی لعنت سے آزادی دلا کر آزاد اسلامی ریاست کا مالک و قابض اور متصرف بنا دیا یہی وجہ ہے کہ آج ہم اپنی الگ اسلامی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آزادی سے زندگی کے ایام بسر کر رہے ہیں اور بلا خوف و خطر اپنی مذہبی عبادات کر رہے ہیں۔جس پر ہمارا سر فخر سے بلند ہے اور ہر پاکستانی اپنے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح سمیت تحریک آزادی کے تمام کارکنان کی ممنون ہے یقیناً قائد اعظم جیسے عظیم انسان ،عظیم لیڈر قسمت سے ہی پیدا ہوا کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس مرد مجاہد کے سفر آخرت کی منزل آسان فرمائے۔ آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com