عشرہ مغفرت

عشرہ مغفرت
آؤاپنی مغفرت کرالیں
علی جان
اللہ پاک نے خودتوبہ واستغفار کا حکم دیا ہے اوراوراسے قبول کرنے کاوعدہ بھی کیا ہے”اللہ پاک فرماتے ہیں:کہ میں سے بخش دینے والاہوں جوتوبہ کریں،ایمان لائیں اورنیک اعمال کریں اورراہ راست پررہیں“ اسی لیے شاید ہماری کوتاہیوں کے باوجود ہمیں دوسراعشرہ مغفرت عطافرمایا۔ انسان خطا کا پتلا تو ہے مگراللہ پاک سدھرنے کا بار بار موقع بھی دیتے ہیں اسی لیے تو ہمیں تحفہ میں ماہ رمضان دیا یہ مہینہ تحفہ اس وجہ سے کیونکہ اس میں نفل اور سنت کا ثواب فرض کے برابر ہے اور فرض نماز کا ثواب سترگنا بڑھ جاتا ہے عشرہ رحمت میں ہم نے کچھ نمازیں چھوڑیں کچھ روزے چھوٹ گئے کیونکہ عادت نہیں تھی نہ۔سارا سال کھاتے پیتے گزرجاتا ہے اس وجہ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی مگراللہ پاک نے عشرہ رحمت کے بعدہمیں دوسراعشرہ مغفرت نصیب فرما کرہم پراحسان کیا ہے اسی وجہ سے جو عبادات ہم پہلے عشرہ میں نہیں کرسکے دوسرے عشرہ میں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرکے کامیاب وکامران ہوسکیں ویسے توپورے ماہ رمضان ڈھیروں نیکیوں سے بھراہوا ہے اگرہم سوچیں کہ پہلے عشرہ سے زیادہ دوسرا میں زیادہ انعام واکرام ہیں توہم سے جونماز روزہ وعبادت رہ گئی ہیں اس عشرہ میں عبادات کرسکتے ہیں۔آج کل ہم لوگ سحری افطاری کے وقت یا توTVلگا کے کھانا کھاتے رہتے ہیں یا آپس میں گپیں لگانے میں وقت ضائع کردیتے ہیں حالانکہ سحروافطارکا وقت قبولیت کا ہوتا ہے اس وقت میں ہمیں اللہ پاک سے دعائیں مانگنی چاہیں۔روزہ دار کی دعا کے متعلق ابن ماجہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”افطارکا وقت بندہ اپنے رب سے جو بھی دعا کرے گاوہ لوٹائی نہیں جاتی“۔یہ مہینہ ہمیں پیارے نبی کریم ﷺکے صدقے ملا ہے تا کہ ہم نیکیاں کما کرجنت میں جاسکیں۔حضرت موسی ؑنے اللہ پاک سے کلام کرتے ہوئے کہا کہ یا اللہ پاک میں آپ سے ہم کلا م ہوتا ہوں کیا مجھ سے بڑھ کربھی کوئی خوش نصیب ہوگا اس دنیا میں تو اللہ پاک نے جواب دیا اے موسی ؑ اس دنیا میں ایسی بھی امت آئے گی جس کے اور میرے درمیاں کوئی پردہ حائل نہ ہوگا تو حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کی یہ اللہ وہ کونسی امت ہوگی تو اللہ پاک نے فرمایا وہ محمدی ہونگے اور وہ جب ماہ رمضان میں میری خوشنودی کیلئے روزہ رکھیں گے اور افطار کے وقت سوکھے ہونٹ پیاس سے نڈھال ہوکردعامانگیں گے تب انکے اور میرے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا ان کے روزے کی وجہ سے اور مجھ سے بے پناہ محبت کی وجہ سے میں انکی دعا کورد نہ کرسکوں گا۔تمام تعریفیں اللہ پاک کیلئے جوتوبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہے اورجو لوگ مغفرت طلب ہیں ان کی مغفرت قبول فرماتا ہے۔ہمیں اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانی چاہیں اوراپنی مغفرکروانی چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ حضورنبی کریم منبرپرچڑہے اورہرسیڑھی پرآمین آمین آمین کہاجب آپﷺ خطبہ سے فارغ ہوئے توصحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہﷺ آپ نے تین بارآمین فرمایا اس کی وجہ توآپ ﷺ نے فرمایامیرے پاس جبرائیلؑ آئے تھے اورکہاجس نے اپنی زندگی مین والدین یاکسی ایک کوپایا اوراپنی مغفرت نہ کروائی تواللہ اسے اپنی رحمت سے دورکردے تواس لیے میں نے آمین کہاپھرجبرائیلؑ نے کہا جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آئے اوروہ اپنی مغفرت نہ کروائے تواللہ اسے بھی اپنی رحمت سے دورکرے تومیں نے کہاآمین پھرجبرائیلؑ نے کہاجب کسی کے سامنے آپ ﷺ کاذکرہواوروہ آپ پردورودسلام نہ بھیجے اللہ اسے بھی اپنی رحمت سے دورکرے(مسنداحمدوصحیح مسلم)ایک جگہ ارشاد ہے تباہ ہوجائے وہ شخص جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آئے اوروہ اپنی مغفرت نہ کروائے۔اللہ تعالیٰ نے روزے دار کے متعلق ارشاد فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا۔روزانہ اللہ پاک تین اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ہے جو سچے دل سے توبہ کرے میں اس کی توبہ قبول کروں؟کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا میں اسے عطا کروں؟کوئی ہے معافی مانگنے والا میں اسے معاف کروں؟ اسی لیے جتنے ہم نے گناہ کیے اس ماہ رمضان اور عشرہ مغفرت میں اللہ تعالٰی سے معافی مانگیں تاکہ ہماری آخرت سنور سکے اور اللہ پاک جسے معاف کردے تو وہ ایسا ہوجاتا ہے جسیی ابھی ماں کی گود سے جنم لیا ہو بے شک اللہ پاک انسانوں کو معاف کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے اسی وجہ سے جب انسان غلطی کرتا ہے تو اللہ پاک چھوٹ دیتا ہے کہ شاید یہ بندہ میری طرف لوٹ آئے مجھ سے معافی مانگے تواتنی دیرمیں آسمان کہتا ہے کہ اے اللہ آپ حکم کریں میں اس پر ٹوٹ پڑوں زمین کہتی ہے اے اللہ آپ حکم کریں میں اس کو نگل جاؤں تواللہ تعالٰی فرماتے ہیں تم ان کے مالک الملک ہوتو اسے سزادو اگریہ میرابندہ ہے تو اس کے ساتھ جو سلوک کرنا ہے میں اچھے سے جانتا ہوں میں انتظارکروں گا کہ یہ بندہ کب مجھ سے معافی مانگے۔اسی وجہ سیتورسول نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ آخرت کے روز قرآن اور روزہ انسان کی شفاعت کریں گے حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا تین لوگوں کی دعاردنہیں ہوتی ایک عادل بادشاہ کی دوسرا مظلوم اور تیسرا روزہ دار کی جب وہ افطاری کے وقت دعاکرتا ہے اللہ تعالٰی قبول فرماتے ہیں اس لیے رمضان کے پہلے روزے سے ہی شیاطین کوقید کرلیا جاتا ہے اور جنت کے دروزے کھول دیے جاتے ہیں اور آواز آتی ہے آؤ جنت کے حقدار بن جاؤ اور بدی کو چھوڑکرنیکی کی طرف آؤ اور جنت کے حقداربنواور آخرت کے دن روزہ دار کو آواز دی جائے گی کہ ان دروازوں سے گزر جاؤ کیونکہ تم نے اللہ کی خوشنودی اور اسے منانے کیلئے رکھے تھے تو تمہارا انعام جنت ہے اسی لیے ہمیں پیچھے مڑکردیکھنا چاہیے کہ ہم نے پہلا عشرہ میں کتنی عبادات کی ہیں ہمیں ایک بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کو راضی کرنے کیلے رات دن ایک کردینی چاہیے کیونکہ اللہ تعالٰ فرماتے ہیں رجب میرا مہینہ ہے اور شعبان حضورنبی کریم ﷺ کا اور ماہ رمضان امت محمدی کا مہینہ ہے کیونکہ ہم روزہ رکھ کر اللہ کے قرب کو حاصل کرسکتے ہیں سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے کہ جو مسلمان اس مہنے کو پائے وہ روزہ رکھے۔حضور نبی کریم نے اس مہینہ میں چارچیزوں کو کثرت سے کرنے کوکہاپہلا کلمہ طیبہ دوسرااستغفارتیسراجنت کی طلب اور چوتھا جہنم سے پناہ اللہ پاک دوسراعشرہ میں ہمیں ہمت اور قوت دے کہ ہم اس عشرہ میں عبادات کرکے جنت کے مستحق ہوسکیں جیسا کہ میرے پیارے آقاحضرت محمدﷺ نے فرمایا”جس نے رمضان کا قیام اللہ پرایمان لاتے ہوئے اوراسی سے اجروثواب کی امیدرکھتے ہوئے اس کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے“۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com