پندرہواں عالمی اُردو مشاعرہ ابوظہبی2020

منتظم اعلیٰ ظہورالاسلام جاوید کی کاوشوں سے شعروادب کی تاریخ میں نیا باب رقم
پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل ابوظہبی کے زیراہتمام پہلے آن لائن عالمی مشاعرے میں نامور شاعروں کی شرکت

حسیب اعجاز عاشرؔ
کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چند ماہ میں کورونا کے باعث جہاں ہرشعبہ غم و اُداسی کی چھاؤں میں رہا وہاں ادبی حلقے بھی اِس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہے جبکہ حقائق اِس سے قدرے برعکس ہیں کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جب سے دنیا بنی ہے تخلیق کا عمل نہیں رُکا اور نہ ہی کوئی بندہ بشر اِسے روک پایا ہے۔یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں کہ کورونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال میں بھی شاعر ی ہو یا نثریا پھر ادب سے متعلقہ کوئی بھی صنف، شاہکار کے شاہکار تخلیق ہوئے ہیں بلکہ شعروا دب کے حوالے سے گزشتہ چند مہینوں میں روایت سے ہٹ کرعملی طورپر غیرمعمولی کام منظر عام پر آیا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ شاعروادیب کا بھی دیگر سرگرمیوں کو چھوڑ چھاڑ کر گھروں میں محصور ہوجانا تھا اوریوں اِس دوران سوشل میڈیا پروہ شاعر وادیب بھی نظروں سے سامنے رہے جوکئی عرصہ سے اوجھل تھے۔ اچھے سے اچھا شعر بھی پڑھنے کو ملا اور اچھے سے اچھا افسانہ بھی اور اِس پر ملنے والی غیرمعمولی دادوتحسین بھی اِس بات کی عکاس تھی کہ جو اہل ذوق طبقہ غم روزگار کے ہاتھوں مجبور ادب سے ہٹ گیا تھا واپس ادبی حلقے میں رونق افروز ہورہا ہے۔

بڑے شعبہ جات تو بُری طرح زیر تاب رہے مگر کورونا وبا کے باعث کچھ کاروباری معاملات سمیت تعلیمی نظام آن لائن ایپ پر منتقل ہونے لگا۔ تو ایسا کیسے ممکن تھا کہ ادبی سرگرمیاں اِس جدیدیت سے مستفید نہ ہوتی۔میری رائے کے مطابق ادب نوازوں نے مختلف ایپ کے ذریعہ اِن ادبی محافل کو غنیمت بھی جانا اور موثرترین بھی۔جہاں نہ لمبی مصافحت تھی نہ وقت کا ضیاع، نہ ہی مہمانان میں کسی کی غیرحاضری کا امکان،نہ ہی طے شدہ اوقات کار میں کوئی تعطل یا تاخیر اور نہ ہی محفل کے انعقاد میں روایتی اخراجات۔یہی وجہ ہے کہ کمپیوٹر سکرین میں تمام حاضرین کے چہروں پر نہ تھکن کے آثار ہوتے نہ بے زاری کے،ہرکوئی دلجمعی سے محفل سے جڑا رہتا کیونکہ ہر کوئی اپنی سکرین پر بڑی بڑی شخصیات کی آمد پر اپنے آپ کومیزبان تصور کرتا اور یوں ہرچہرے پر سجے تبسم کے باعث گھر میں عجب سی خوشی کا اُجالا اور آنگن میں مسکراہٹوں کا سماع رہتا،محفل میں رعنائیاں اور سبحان اللہ کی گونج رونقوں کو دوبالا کردیتی۔
گزشتہ دنوں بیادِ حمایت علی شاعر اور راحت اندوری پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل(ابوظہبی) کے زیراہتمام پندرواں عالمی اُردو مشاعرہ وسیمینار (ابوظہبی 2020) کا انعقاد کیاگیا۔اِس سے قبل ایک تسلسل کے ساتھ ظہورالاسلام جاوید کی زیرسرپرستی ابوظہبی میں عالمی اُردومشاعروں کا انعقاد آرمڈ فورسز کلب میں ہوتے رہے ہیں مگر اِس بار یہ پہلا موقع تھا کہ عالمی مشاعرے کیلئے آن لائن سہولیات سے استفادہ کیا گیا۔یہ مشاعرہ جدت اور ادب کا حسین امتزاج لئے اپنی نوعیت کا منفرد عالمی مشاعرہ رہا جس میں صرف ایک سمندرپار سے شاعر کو شامل کر کے ”عالمی مشاعرے“ کا لیبل نہیں لگایا گیا تھا بلکہ پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، اسٹریلیا، بنگلہ دیش اور امریکہ سے نامور شعراء اور ادیب ذوم ایپ کے ذریعے اِس ادبی کہکشاں کا حصہ بنے۔تقریب کی نظامت محفل کے منتظم اعلیٰ ظہورالاسلام جاوید اور کلیم قیصر نے آن لائن ٹیکنالوجی کے تقاضوں کو بھانپتے ہوئے خوش اسلوبی سے کی اور بڑے احسن انداز میں مختلف اسٹیشنزپر انٹرنیٹ میں درپیش ہلکے پھلکے خلل کے باوجود سب شرکاء کو محفل سے منسلک رکھا۔محفل کا باقاعدہ آغازتلاوت قرآن پاک سے ہوا اور بعدازاں آپﷺ کے حضور نعت کا ہدیہ عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ڈاکٹر قیصر انیس صدر پاکستان بزنس پرفیشنل کونسل ابوظہبی نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں تمام مہمانان کو والہانہ خوش آمدیدکہا۔ تقریب دوحصہ پر مشتمل تھی حصہ اول میں پاکستان سے اوجِ کمال اور امارات سے ھادی شاہد، اقبال نسیم اور تابش زیدی نے اُردو زبان اور اسکی عالمی افادیت کے موضوع پرسیرحاصل گفتگو کی۔مقررین کا کہنا تھا کہ ہرزبان کا اپنا مزاج ہے اور یہ و حدت کی بھی علامت تصور کی جاتی ہے جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زبان کے معاشرے، تہذیب و تمدن‘افکار و نظریات پر اثرانداز ہوتی ہے اوراُردو زبان نے پورے آب و تاب کے ساتھ پوری دنیا کی تہذیبوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ عصری تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے اپنی اُردو زبان میں دیگر علوم کو بھی متعارف کرانا ہوگا
جبکہ حصہ دوم میں عباس تابش کی زیرصدارت پاکستان سے افضل خان، سیما غزل اور شکیل جازب۔بھارت سے ڈاکٹر کلیم قیصر۔امریکہ سے تسنیم عابدی اور عرفان مرتضیٰ۔کینیڈا سے خالد عزیز،اسٹریلیاسے اشرف شاد،بنگلہ دیش سے جلال عظیم اور متحدہ عرب امارات سے ڈاکٹر عاصم واسطی نے اپنے اپنے کلام سے خوب محفل جمائی۔ جبکہ رحمان فارس، عبدالحکیم ناصف اور شکیل جمالی ذاتی غیر متوقع وجوہات کے باعث شرکت سے قاصر رہے تھے۔
جیسے ادبی نشستوں میں عام رائے یہ ہے کہ گھریلومشاعرے عالمی مشاعرے سے زیادہ بھرپور اورجاندار ہوتے ہیں تواِسے شعرو ادب کے باب میں نئی تاریخ رقم ہونا کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پندرواں عالمی اُردو مشاعرہ وسیمینار2020 ایک گھریلومشاعرے کادلفریب اچھوتا رنگ لئے ہوئے تھاجہاں ہزاروں میل کے فاصلے مٹاکر سب کمپیوٹر سکرین کی صورت میں ایک بیٹھک میں ایک دوسرے کے قریب نشستوں پر براجمان تھے۔جہاں عالمی مشاعرے کے طرز سے ہٹ کر غیرروایتی طور پر نئے سے نیا کلام نذرِسماعت ہورہا تھا۔جہاں ہرکوئی ہمہ تن گوش تھا اور اچھے کلام کے سرور میں مدہوش ہر اچھے مصرعے پر خوب دل کھول کر داد و تحسین لُٹا رہا تھا۔شرکاء کرام نے منتظم اعلیٰ ظہورالاسلام جاوید کی جانب سے اِس انتظامات کو خوب سراہا اور پاکستان بزنس اینڈ پروفیشنل کونسل ابوظہبی سے بھی تشکر کا اظہار کیا۔
شعراء اکرام کے مشہور کلام سے انتخاب اہل ذوق قارئین کی نذر کیا جارہا ہے۔
جلال عظیم آبادی
عزیز رکھنا ہے گر مجھ کو دوستوں کی طرح
کبھی ملا نہ کرو تم منافقوں کی طرح
افضل خان
میں جان بوجھ کے آیا تھا تیغ اور ترے بیچ
میاں نبھانی تو پڑتی ہے دوستی ہے نا
خالد عزیز
جب سے میری بیگم کا میں منظور نظر ہوں
تب سے ملا اعزز کہ میں صاحب گھر ہوں
سیماء غزل
دل میں اترا وہ دیر سے لیکن
میرا پہلا لگاؤ آنکھیں تھیں
اشرف شاد
تہہ تک میں کھوج آیا ہوا غرق بار بار
آیا نہ پھر بھی تیرنا منجھدار عشق میں
تسنیم عابدی
فریب سادہ دلی دیکھ اس ستم گر نے
بیان راز کیا راز داں کے بارے میں
عرفان مرتضیٰ
رکھی تھی رسم جس نے رتجگوں کی
اُسی کو نیند آتی جا رہی ہے
شکیل جاذب
داد بیداد تو جاذب یہاں سب ایک ہوئی
جو سخن فہم نہ تھا وہ بھی غزل خواں نکلا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی
کھلتی نہیں ہیں تجھ پہ ہی عریانیاں تری
عاصمؔ ترا لباس ہے اچھا بنا ہوا
ڈاکٹر کلیم قیصرؔ
پہلے نقطے سے بنایا دائرہ، پھر تِل کیا
اس نے میرے حال کو ماضی سے مستقبل کیا
ظہورالاسلام جاوید
نہ جانے کب کوئی آشوب تم کو آگھیرے
عجیب وقت ہے دستِ دعا دراز کرو
برائے امن میں ہتھیار پھینک دیتا ہوں
مگر یہ شرط کہ تلوار تو بھی میان میں رکھ
عباس تابش
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابشؔ
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں
اوجِ کمال نے حمایت علی شاعرکوبھی اِن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بھرپور تحسینی کلمات سے نواز تے ہوئے کہا کہ ریڈیو پر صداکاری ہو، شاعری ہو یا ٹیلی ویژن پر پروگرامز کے حوالے سے تنظیمی امور اِنہوں نے ہر فیلڈ میں اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اُنہوں نے نئے افکار اور جدید جہتوں کو اپنی شاعری میں متعارف کرایا ہے۔حکومت پاکستان کی جانب اُنہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا جانا اُن کی خدمات کا اعتراف ہے۔اُنہوں نے راحت اندوری کوبھی شاندار خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی شاعری اور انداز بیان سے محفل لوٹنے کا ہنر خوب آتا تھا ادبی فلک پر اِن کا کلام ستاروں کی مانند دمکتا رہے گا۔ اُنہوں نے تمام شرکاء سے اظہار تشکربھی کیااور اختتامیہ کلمات پیش کرتے ہوئے اِس اُمید کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ برس تک کورونا شکست دیتے ہوئے حالات ایک بار پھر سازگار ہو جائیں گے تو ان شاء اللہ حسب روایت باقاعدہ عالمی مشاعرے کا انعقاد کیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com