عشق دے پندھ اڑانگے اور اقبال کا مصنف فداشاہین

عشق دے پندھ اڑانگے اور اقبال کا مصنف فداشاہین
نگار ـمجیداحمد جائی
بیسویں اوراکیسویں صدی کے اردو اور فارسی شعراء میں اقبال کا مرتبہ بلند اور بے حد بلند ہے ۔تخیل کی عظمت ،نظر کی وسعت ،فکر کی رفعت ،ترجمانی حقیقت ،زور اثر اور صاحب درس وپیغام ہونے کے اعتبار سے کوئی دوسرا شاعر آپ کا مثیل و ہمسر نہیں ہے ۔اب سے ایک صدی قبل غالب نے شاعری میں ایک انقلاب پیدا کیا تھا مگر غالب کی رفعت نظر ان کو ’’ صشلکیت ‘‘کی حدود سے آگے نہ بڑھا سکی ۔غالب کو کبھی کبھی ’’رجائیت ‘‘کے نور کی شعاعیں نظر آتی ہیں ۔مگر ان پر جو ’’قنوطیت ‘‘طاری ہے وہ انہیں پھر طلسم تشکک میں گرفتار کر دیتی ہے ۔حالی بے شک پیغمبر سخن تھے جنہوں نے قوم کے دل ودماغ میں ہیجان و انقلاب پیدا کر دیا ۔حالی باوجود یہ کہ وہ ایک پیغمبر تھے پھر بھی حال کے تمام امراض کا علاج نہ بتا سکے ۔
اکبر کا دل بھی انہی جذبات سے لبریز تھا انہوں نے بھی اصلاح کا علم اٹھایا اور یورپ زدگی کے خطرناک عواقب سے قوم وملک کو باخبر کرکے مغربی رو میں بہہ جانے سے روکنا چاہا مگر یہ ان کے بس کا نہ تھا ۔
اقبال ’’شاعر ماضی ،شاعر حال اور شاعر مستقبل ‘‘تینوں حیثیتوں کے جامع ہیں ۔انہوں نے وہ کام بھی کیا جو حالی نے کیا تھا ۔وہ مقصد بھی ادا کیا جو اکبر پورا کرنا چاہتے تھے ۔اقبال بلاشبہ اس عصر کے واحد ’’مصلح اور مجدد‘‘تھے ۔وہ غزالی دوراں بھی تھے ۔عطارد سنائی بھی ،سعدی و رومی بھی ،حالی و اکبر بھی اور میر و غالب بھی ۔تصوف و حکمت ،عشق و موعظت ،اثر و رجائیت اور اصلاح ومجددیت ‘‘کا یہ اجتماع دنیائے ادب کے اس ’’خاتم الشعراء ‘‘ہی کے لیے محفوظ رکھا گیا تھا۔
یہ اقتباس فداشاہین بھٹی کی کتا ب’’علامہ محمد اقبال ‘‘سے لیا گیا ہے ۔فدا شاہین بھٹی میرے خطے کا قلم کار ہے ۔کہانی کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر ی بھی کرتے ہیں ۔ملنسار شخصیت اور میٹھے لہجے والے ہیں۔اپنی مٹی سے محبت کرنے والے فدا شاہین بھٹی سرائیکی اور اردو زبان کے ایوارڈ یافتہ شاعر اور ادیب ہیں ۔
’’عشق دے پندھ اڑانگے ‘‘سرائیکی ناول ہے جس میں فدا شاہین بھٹی نے سرائیکی خطے کا کلچر اورتہذیب کے ساتھ ساتھ عشق و محبت کا اظہار اپنے کرداروں سے کروایا ہے ۔وڈیروں ،جاگیرداروں کے ظلم ستم کا پردہ چاک کیا ہے ۔عشق دے پندھ اڑانگے ‘‘اپنی نوعیت کا بہترین ناول ہے ۔اسی طرح ’’نیناں دے تیر‘‘جس میں غزل ،قطعے اور اشعار ہیں ۔اس میں بھی فداشاہین بھٹی اپنے خطے اور مادری زبان سے محبت کااظہار کرتے ہیں ۔
فداشاہین بھٹی کے قلم سے لکھی گئی بچوں کی کہانیوں پر مشتمل خوبصورت کتا ب’’پرستان کی پری ‘‘بھی ایک معیاری اور شاندار کتاب ہے ۔فداشاہین بھٹی بچوں کے ادب کے لیے عمدہ کام کر رہے ہیں ۔’’پرستان کی پری ‘‘بچوں میں ہمت ،جذبہ ،اُمنگیں پیدا کرتی ہے ۔پرستان کی سیر کے ساتھ ساتھ بچے اخلاقی ،معاشرتی اور مذہبی درس حاصل کرتے ہیں ۔بچوں کے ذہنوں کی بہترین انداز میں آبیاری کرتی ہے ۔
’’علامہ محمد اقبال‘‘کتاب بھی بچوں کے لیے لکھی گئی ہے ۔جس میں علامہ محمد اقبال کے کردار و شخصیت اور شاعری کی باتیں کی گئی ہیں ۔124صفحات پر مشتمل یہ کتاب نیر پبلشرز نے لاہور سے شائع کی ہے ۔جس کی قیمت 350روپے ہے جو زیادہ نہیں تو مناسب بھی نہیں ہے ۔انتساب کچھ یوں دیا گیا ہے ’’پیارے بچوں کے نام علامہ محمد اقبال کا پیغام ،میل جو ل ،دوستی اور خلوص وہمدردی کو اپنائو ۔اپنے اخلاق و کردار کو محبت کی روشنی سے جگمگاتے رہو۔‘‘
’’علامہ محمد اقبال‘‘کتاب میں عنوانات کے ذریعے علامہ محمد اقبال کی شخصیت اور شاعری پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔جیسے حیات اقبال ایک نظر میں تاریخ وار معلومات دی گئی ہیں ۔آئیں اقبال کو سمجھیں ،جس میں مشکل الفاظ کے معانی اور اشعار کی تشریح کی گئی ہے ۔اسی طرح قرآن کے حوالے دئیے گئے ہیں ۔دُنیا کے مفکرین کی اقبال کے بارے رائے بھی دی گئی ہے ۔
’’فدا شاہین بھٹی ‘‘علامہ محمد اقبال سے متاثر ہیںاس لیے اپنے نام کے ساتھ ’’شاہین ‘‘ملا یا ہے ۔علامہ محمد اقبال کا ملازموں کے ساتھ سلوک ،مطالعہ اور گھریلو معاملات ،سحر خیزی اور نجی معمولات کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔ایک جگہ فدا شاہین بھٹی اپنے تاثرات کچھ یوں لکھتے ہیں ’’اے علامہ محمد اقبال !ہم آپ کے پاکستان اور قائداعظم کی اس خوبصورت ریاست کی قدر نہیں کر پا رہے ۔ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں اور آپ کے پاکستان کی خاطر بہائے جانے والے خون کو بھول گئے ہیں ۔دولت کی حرص نے ہمیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا کر دیا ہے ۔اپنے اپنوں کو لوٹ رہے ہیں ۔دہشت گردی قتل و غارت ،لوٹ مارکا بازار گرم کر رکھا ہے ۔نشے کی لعنت ہمارے بچوں میں روز بروز بڑھتی جا رہی ہے ۔شراب نوشی ،چرس فروش جو ہمارے اپنے ہی ہیں نئی نسل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں ۔عریاں انڈین فلموں اور گانوں کی ہماری نسل دلدادہ ہوتی جا رہی ہے ۔ڈش ،کیبل نے رہی سہی کسر نکال کے رکھ دی ہے ۔ہم شرمندہ ہیں ۔ہم شرمندہ ہیں ۔
’’علامہ محمد اقبال کا پیارے سرورکائنات ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عشق تھا ۔علامہ محمد اقبال کی شخصیت کے کئی پہلو ہمارے سامنے ہیں ۔آپ ایک شاعر تھے ،فاضل تھے ،مفکر تھے ،مدبر تھے ۔ایک عظیم قومی رہنما تھے ۔ایک نامور فلسفی تھے ۔راز دان مشرق تھا ۔مزاج شناس مغرب تھے ۔رمز شناس فطرت تھے مگر سب سے بڑھ کر عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔یہی ایک پُروقار ،پُربہار ،دلنواز ،جہاں ساز اور سماںساز پہلو تھا جس سے اقبال کے شخصیت کے تعمیر نو ہوئی اور پھر اقبال بلند اقبال بن گئے۔
فدا شاہین بھٹی ’’علامہ محمد اقبال ‘‘کتاب میں علامہ محمد اقبال کے بارے میں ہر طرح کے عنوان کے ساتھ احاطہ کرتے نظر آتے ہیں لیکن ہر مضمون میں پیدا ئش اور وفات کا ذکر گراں گزرتا ہے ۔مضامین کے ساتھ حوالے جاتے نہیں ہیں اور کمپوزنگ کی خال خال غلطیاں بھی طبیعت پر گراں گزرتی ہیں ۔
فدا شاہین بھٹی کی چاروں کتابوں کو دیکھا جائے تو آپ بچوں کی کردار سازی میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں ۔وطن سے محبت اور اپنے ہیروزسے والہانہ محبت کرتے ہیں ۔فدا شاہین بھٹی کا بچوں کی کردار سازی میں کام ادب کی دُنیا میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com