بے باک صحافت ہوئی بے لگام

تحریر۔ محمد اقبال عباسی
میں نے کہیں سنا تھا کہ ایک شخص نے اخبار میں نوکری کا اشتہار دیا کہ ایک ایسے ملازم کی ضرورت ہے جس کو تین وقت کا کھانا مفت ملے گا، کام صرف ایک کرنا ہو گا لیکن تنخواہ نہیں ملے گی۔جب غربت اور بے روزگاری سے تنگ ایک نوجوان انٹرویو دینے پہنچا اور اشتہار دینے والے شخص سے پوچھا کہ کون سا ایک کام کرنا ہو گا؟ تو صاحب نے جواب دیا کہ داتا دربار جانا ہے، اپنا کھانا کھا کر آنا ہے اور میرا لے کر آنا ہے۔ آج اگر پاکستان کے چوتھے ستون یعنی صحافت کی بات کی جائے تو یہی داتا دربار کے لنگر والا ہے جہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاایسے کماؤ پوت کی تلاش میں رہتے ہیں جو نہ صرف اپنے گھر کا چولہا جلا سکے بلکہ اپنے مالکان کا حصہ بھی ہر ماہ کسی نہ کسی شکل میں مستقل بھیجتارہے۔ مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اس مضمون سے نہ صرف میرے بہت سے دوست ناراض ہو جائیں گے مگر کچھ دوست ایسے بھی ہیں جن کو نشتر کی طرح چبھتا میرا قلم بہت اچھا لگے گا۔ جب سے امریکہ اور اس کے حواریوں نے دنیا میں سوشل میڈیا کی نئی قسم متعارف کروائی ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نہ صرف اہمیت کم ہو گئی ہے بلکہ جھوٹ اور نفرت پھیلانے کی اس دوڑ میں صحافت کے تمام شعبہ جات نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ دنیا گلوبل ویلج تو بن چکی ہے لیکن اس گاؤں میں ہر نسل، مزاج اور مذہب کے لوگ موجود ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر قوم اور ہر مذہب کے افراد اپنی مرضی کے مطابق انٹر نیٹ کے استعمال کے لئے قوانین بنائیں لیکن ترقی یافتہ ممالک نے اس سہولت پر یو ٹیوب، گوگل، فیس بک، واٹس ایپ جیسی بڑی کمپنیوں کی شکل میں اپنا قبضہ جما کر مرضی کے قوانین و ضوابط مسلط کر رکھے ہیں۔جس کی بنا پر پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کے شعبدہ باز اسے اپنے مذموم اور ذاتی مقاصد کے استعمال کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اگر آپ کی جیب میں دس ہزار روپے ہیں تو آپ باآسانی ایک ویب اور یوٹیوب چینل کے مالک بن کر اپنا با عزت روٹی کما سکتے ہیں شرط یہ ہے کہ کہ آپ کو دو ہزار روپے میں ایک لوگو بنوانا ہو گا اور پانچ ہزار سے ایک سمارٹ فون موبائیل کا مائیک خریدنا ہو گا۔ چینل کے نام کی سلیکشن کے لئے بھی آپ کو کسی پریشانی کی ضرورت نہیں بس آپ کوئی بھی دو ہندسہ عدد لے کر اس کے آگے نیوز کا لفظ لگا لیں جیسا کہ ٹونٹی فور نیوز، ٹونٹی فائیو، ٹونٹی سکس نیوز وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد آپ مختلف حیلوں بہانوں ے سرکاری افسران تک رسائی حاصل کریں اور کرنٹ افئیرز ایشوز پر ان کے سامنے اپنے نیوز کا لوگو والا مائیک کر کے انٹرویو کوواٹس ایپ گروپس میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ اپنے فیس بک پیج اور یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر کے اس کے لنک متعلقہ افسران کو بھیج کر سر خرو ہو جائیں۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر آپ کی جیب میں چند روپے ہیں اور آپ ایک معزز اور شریف انسان ہیں لیکن کسی بھی شعبے میں ایسے عہدے پرتعینات ہیں جہاں آپ کے افسران بالا کو آپ کی اعلیٰ کار کردگی کا احسا س نہیں ہے تو صرف ایک چھوٹا سا کام کریں کسی ویب چینل یا کسی پی ڈی ایف اخبار کے نمائندے سے اپنے راہ و رسم بڑھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیں، ایک دو دن تک افسران کی نظر میں آپ کی عزت و عظمت ایسے ہی بڑھ جائے گی جیسے الیکٹرانک چینل کی بڑھ جاتی ہے اس کے علاوہ آپ کی تعریف و توصیف میں داد و تحسین کے وہ ڈونگرے برسائے جائیں گے، جن کوسن اور دیکھ کر آپ خود بھی شرما جائیں گے۔ یہ کمال موجودہ زردصحافت ہی کر سکتی ہے اس مقصد کے لئے اب کسی شاہ کو کسی درباری کی ضرورت نہیں ہے۔میرے ارد گرد کئی ایسے کردار موجود ہیں جو من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو کے مصداق نہ صرف موجودہ سوشل میڈیا کی صحافت سے اپنے زر خفیف میں اضافہ کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے اپنے ہم مزاج اور ہم خیال افراد کا ایک ایسا گروپ بنایا ہوا ہے جس پر ہاتھ ڈالنا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے وہ افسران بالا کی خوشامد کے ساتھ ساتھ دباؤ اوردھونس دھاندلی سے بھی بعض نہیں آتے۔
موجودہ صحافت کی ایک اور قسم اعزازی صحافی ہیں جوبجا طور پرنٹ میڈیا کے کماؤ پوت کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ موجودہ دور میں کسی بھی اخبار کا پریس کارڈ حاصل کرنا انتہائی آسان ہے، آپ کسی بھی مقامی صحافی کی خدمات حاصل کریں، وہ اپنا حصہ وصول کر کے دو ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک آپ کو صحافی بنا دے گا۔دو ہزار میں آپ ایک ایسے اخبار کا کارڈ حاصل کر سکتے ہیں جو آپ کو روزانہ واٹس ایپ پر پی ڈی ایف فارمیٹ میں ملے گا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ آپ کو اس اخبار کی پرنٹ کاپی کے حصول پر بھی کوئی سرمایہ خرچ نہیں کر نا پڑے گا۔جنوبی پنجاب ریجن میں کئی اے بی سی سے منظور شدہ اخبارات سے میں زاتی طور پر واقف ہوں جو صرف آپ کو میڈیا گروپس میں سافٹ شکل میں ہی مل سکتے ہیں اور اگر غلطی سے آپ کو اس کی ہارڈ کاپی کی ضرورت ہو تو کسی بھی ہاکر یا اخبار فروش سے یہ اخبار نہیں ملے گا۔ ایک اعززی صحافی کا سب سے بڑا کام کسی بھی اخبار یا ادارے کے لئے بالواسطہ یا بلا واسطہ سرمایہ مہیا کرنا ہے۔ یہ سرمایہ اشتہارات کی مد میں بھی ہو سکتا ہے یا پھر پیڈ نیوز کی شکل میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ اس صحافی پر منحصر ہے کہ وہ معاشرے میں موجود کوئی ایسے شکار تلاش کرے جن کی کسی بھی محکمے میں داد رسی نہ ہو رہی ہو یا پھر وہ مظلوم پارٹی اپنے آپ کو اپنے موقف میں سچا ثابت کرنا چاہتی ہو۔اس میں سب سے بڑا حصہ اخبارات کے دفاتر میں بیٹھے ان ملازمینکی جیب میں جاتا ہے جو براہ راست کسی بھی علاقے کے صحافی سے رابطے میں ہوتے ہیں۔ میں اپنے علاقے میں موجود ایسے کئی اخبارات کے ملازمین سے بھی واقف ہو ں جو اپنے مالکان سے بالا ہی بالااپنا کمیشن کھرا کر کے ایک دو ماہ کے بعد کوئی نیا اخبار جوائن کر لیتے ہیں۔
اب دوسری جانب حکومتی کار کردگی کا بھی حال سن لیں کہ 2020 ء میں فریڈم آف دی ورلڈ کی آزادی اظہارِ رائے پر مبنی عالمی فہرست میں پاکستان 100 میں سے 38 ویں نمبر پر تھا۔ جبکہ رپورٹ میں پاکستان کو ’جزوی طور پر آزاد‘ کہا گیا تھا۔اب اگر پاکستان میں آزادی اظہار پر اتنی پابندیاں ہیں تو کون سا ایسا ملک ہے جہاں کے شہری کو اتنی سہولیات حاصل ہیں جہاں وہ جب بھی چاہے، جیسے بھی چاہے بغیر ثبوت کے کسی بھی شریف آدمی یا ادارے کی پگڑی اچھال سکتا ہے۔ سیاست سے لے کر معاشرت تک زندگی کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں جہاں آپ کے حقو ق اور عزت نفس کا خیال کیا جا رہا ہو۔ میرے تمام قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے ساتھ ساتھ اینکرز بھی اپنی ٹیم کے ساتھ یوٹیوب اور ویب چینل کی مدد سے بہت سا سرمایہ جمع کر رہے ہیں اگر حکومت پاکستان یا خفیہ ادارے کسی بھیی فرد یا میڈیا ہاؤس کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو غیر مرئی ہاتھ آگے آ جاتے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگ جاتے ہیں۔فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں اور کالم نگاروں، کے خلاف پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کا سیکشن 37 استعمال کیا گیالیکن پیمرا کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں جو حقیقی معنوں میں چھان بین کر کے ایک ایسا لائحہ عمل اپنا سکے جس کے ذریعے کسی بھی پاکستانی شہری کے حقوق کی پامالی نہ کی جا سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام اخبارات جو چھپ کر مارکیٹ میں نہیں آتے ان کی ڈیکلریشن منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ یوٹیوب کے ساتھ بھی کوئی ایسا معاہدہ کیا جائے جس کے تحت تمام پاکستانی یو ٹیوب چینل پر مخصوص ٹیکس اور حدود و قیود لاگو کر کے ان ویب اور یو ٹیوب چینلز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ صحافتی اور قومی دھارے میں لایا جا سکے۔ اعزازی صحافی کی تعلیمی قابلیت اور ریکارڈ بھی متعلقہ اداروں کو بمعہ ثبوت دیا جائے تا کہ صحافت کے شعبہ کو کالی بھیڑوں سے پاک کیا جا سکے۔
٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com