فادر آف دی نیشن

سید ذیب حسن ۔عمان

محترم المقام جناب سلطان قابوس بن سعید المعظم اب اس دنیا میں موجود نہیں رہے یہ خبر نہ صرف سلطنت عمان میں بلکہ پوری عالمی دنیا میں انتہائی دکھ اور غم سے سنی گئی جناب سلطان قابوس بن سعید المععظم نے اک بادشاہ ،سلطان اور حکمران کی طرح نہیں بلکہ ” فادر آف دی نیشن ” کی طرح سلطنت عمان کے امور مرتب کئے آپ نے پچاس سالوں میں جس طرح محبت ، محنت اور لگن سے اس ملک کے چپے چپے کو تعمیر کیا اس میں رنگ بھرے اور اسے اپنی عوام دوست فیصلوں سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا اس پر رشک کیا جا سکتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ ساحلوں ،سمندروں، صحراؤں ،وادیوں جھرنوں اور ندیوں سے بھرا ہوا عمان ہمیشہ سلطان قابوس کے نام سے جانا جاتا رہا ہے اور جانا جاتا رہے گا ۔جس شان سے سلطان قابوس بن سعید المععظم کی آخری رسومات ادا کی گئی وہ واقعی ان کا حق تھا عظمت سے بھرپور تھا اک بادشاہ کا جنازہ دوسرے بادشاہ نے اپنے کندھوں پر اٹھایا عمان کے نئے سلطان صاحب جلالہ ہیںثم بن طارق بن تیمور السعید المعظم حفظہ اللہ کو سلطان قابوس بن سعید المعظم کی وصیت کے مطابق عمان کا نیا سلطان مقرر کر دیا گیا ہے اس قدر پرامن طریقے سے اقتتدار منتقل ہوا کہ آج کے دور میں اس کی مثال ناممکن ہے عمان نے ثابت کیا کہ وہ اک پرامن ملک ہے اور اپنے فادر آف دی نیشن صاحب جلالہ سلطان قابوس بن سعید المععظم کی وصیت پر ان کی وفات کے بعد بھی آمین کہتا ہے –
عمان کیا تھا اور کیا ہے ،ہم اس کا مختصر جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں
عمان جنوب مغربی ایشیامیں ایک ملک ہے جو جنوب مشرقی جزیرہ نمائے عرب پرواقع ہے۔ اس کا دفتری نام سلطنت عمان ہے۔ اس کی سرحدیں شمال مغرب میں متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں،مغرب میں سعودی عرب سے جبکہ جنوب مغرب میں اس کی سرحدیں یمن سے ملتی ہیں۔ سلطنت عمان کا دار الحکومت مسقط ہے۔ اس کا ساحل جنوبی اور مشرقی بحر ِ عرب اورشمال مشرقی علاقے میں خلیج ِ عُمان تک پھیلاہواہے۔عدل کے ایک اور معنی برابر کرنے کے ہیں۔ عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنا حاکم و رعایا سب پر یک ساں ہیں۔ حکام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا: ترجمہ ’’ اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف سے کرو یقینا وہ بہتر چیز ہے اس کی نصیحت تمہیں اﷲ کر رہا ہے، بے شک اﷲ سنتا اور دیکھتا ہے۔‘‘ (سورہ النساء)
عمان میں مساجد اور مدرسے گورنمنٹ کے زیر سایہ اپنا بہترین رول ادا کر رہیں ہیں۔اور امید ہے وطن عزیز پاکستان میں بھی یہ ہی رول ماڈل آپ نایاب جائے ۔۔کسی بھی ملک و قوم کے تشخیص کا اصلی سر چشمہ انکی تہذیب و ثقافت ہوتی ہیں۔ جو کہ انسانی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔
ایک معاشرہ اور ایک کے کلچر اور تہذیب کے اعلٰی مظاہر اس کے خصوصیات، طرز فکر نظام اخلاق علم و ادب، اسکا دینی نظریہ ، زبان ، رہن سہن ، رسم و رواج ، فن تعمیر روایات لباس اور طرز حیات میں نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں جو ایک قوم کو بہادر، شجاع و غیور ، غیرت مند قابل فخر اورع خود مختار بنا دیتی ہے اور انکا فقدان قوم کو حقیر ، غلام اور بزدل بنا دیتا ہے۔ یہا ں تک کہ انکی شناخت تاریخ کے اوراق سے مٹ جاتا ہے۔
اپنی تہذیب اور ثقافت کو قائم رکھنے کی اعلی مثال عمان نے قائم کی جو کہ ہمارے لیے ایک حیات نمونہ ہے۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ شہریوں کے بنیادی مسائل، صحت وصفائی، تعلیم اور چند دیگر امور بنیادی طور پر بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ نچلی سطح کے یہ منتخب ادارے اختیارات کی مرکزیت کے مقابلہ میں دنیا بھر میں عوام دوست ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر بلدیاتی نظام اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں سیاست میں گلی محلوں کے مسائل برادری ازم وغیرہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس پر ستم یہ ہوتا ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء کیا جاتا ہے۔ قانونی اور اخلاقی طور پر یہ درست نہیں تھا۔اگر ہمارہ بلدیاتی نظام عمان سے ادھار لے لیا جائے تو ۸۰% مسائل کا حل ممکن ہے ۔۔کیسی معاشرے میں اگر حکومتی اداروں اور خاص کر پولیس کا رویہ درست عام عوام سے دوست نہیں تو یہ اس ملک اور قوم کی بدقسمتی ہے۔ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عمان کے سلطان معظم جناب قابوس بن سید نے بہترین ادارے بنائے اور ان اداروں کو بہترین اساتذہ اکرام دئیے جنہوں نے پولیس نظام میں اصلاحات، اور پاکستان کی طرح بار بار پولیس وردی بدلنے کی بجائے لہجے بدلنے، اور پولیس کا برتاؤ خوشگوار بنانے کی ضرورت پر زور دیا،اور صرف قانون کی بالادستی کو مقدم سمجھتے ہوئے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کر سکنے پہ زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر شخص پولیس پہ پورا اعتماد رکھتا ہے ۔اور ہمیں بھی اپنے وطن عزیز پاکستان میں کچھ اسطرح کی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔
سلطنت عمان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہاں کا امن و امان ۔ مذہبیی رواداری۔ غیر جانبدار خارجہ پالیسیاں ہیں جسکی وجہ سے عمان کو ساری دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ اگر عمان اپنے آپ کو پڑوسی ملک یمن میں جاری جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے تو پاکستان افغانستان کے حالات سے کیوں نہیں رکھ سکتا؟ اسی طرح اگر عمان جیسے ملک میں شیعہ اور سنی اتحاد اور اتفاق کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں اور اگر وہاں کے سنی سعودی عرب کے حق میں اور شیعہ ایران کے حق میں مظاہرے نہیں کررہے ہیں تو ہمارے ہاں یہ سلسلہ کیوں بند نہیں ہوسکتا۔۔ملک پاکستان کے حکمرانوں کو چاہئے کہ عمان کی پالیسیوں سے سیکھتے ہوئے اپنے ملک میں بھی امن و امان قائم رکھنے کیلئے مضبوط پالیسیاں مرتب کریں اس میں سب سے زیادہ ضروری ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات ہیں ۔ عمان میں ہر طرف صفائی کا بھترین انتظام ہے ہمارے ملک پاکستان کو بھی دور حاضر کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے صاف ستھرا پاکستان پروگرام شروع کرنا چاہئے
سید ذیب حسن
عمان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com