قرۃالعین سکندر کی فصیل محبت

جنہیں اللہ نے ہرصنف ادب میں عبور مہارت اور کمال عطاکیا
قرۃالعین سکندر کی فصیل محبت
ادب سے محبت کرنے والے افراد کے لئے ایک تحفہ

ان کا کلام اپنے اندر کئی الگ الگ رنگ اور انداز لیے ہوئے ہے وہ محبوب کے وصل
و ہجر دونوں جہتوں کو جی چکی ہیں ان کے الفاظ ان کے اندر کے حساس انسان کی
حساس باتیں ہیں جو محبت میں خود کو وار بھی دیتا ہے لیکن محبوب سے سوال بھی کرتا ہے

فلک زاہد
قرۃالعین سکندر کی یہ تیسری کتاب ”فصیل محبت” جو درحقیقت ایک شعری مجموعہ ہے ادب سے محبت کرنے والے افراد کے لئے ایک تحفہ ہے.
شاعری بنیادی طور پر میرا میدان نہیں لیکن اس شاعرہ باکمال کے کلام کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ اللہ نے ان کو ہر صنف ادب میں عبور مہارت اور کمال عطا کیا ہے.
انکی شاعری دورِ حاضر کے اعتبار سے بڑی مکمل, جاندار اور حقیقی ہے جو انسان کے سچے جذبات کی عکاسی کرتی ہے.ان کا ہر انداز تازہ دل کش اور دل نشیں ہے.
مجھے کلام کو پرت در پرت اپنے اندر سموتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا انہوں نے اپنی شخصیت اور اپنے دل کی آواز کو ہر ممکن حد تک الفاظ کے قالب میں ڈھال کر ہمارے ذوق مطالعہ کی نظر کر دیا ہو.
انکا ہر حرف روشن اور ان کی سوچ کا عکاس ہے.وہ اپنے جذبات کو کھلی کتاب میں کافی حد تک منتقل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہیں..مجھے ان کے محبت نامے کا لفظ لفظ اپنے دل کی منڈیر پر اترتا محسوس ہوا.
میں نے ان کے الفاظ خیالات اور احساسات کو اپنا ترجمان پایا. وہ جہاں جہاں محبوب کے وصل میں خوش ہوئیں میں نے خود کو ان کی خوشی میں شامل پایا.
ان سے ملے تو زندگی کی رت ہی بدل گئی
ہمیں بھی جان وفا کسی نے کہا تو سہی
جب جب وہ اپنے محبوب کے فراق میں تڑپیں ہر قاری کی طرح میں نے بھی وہ غم و حزن محسوس کیا.
”بعد چاہنے کے بری طرح تو مجھے تنہا کر دے
ندا میری ہو ندارد, کیا یہ بھی ہو سکتا ہے”
انہوں نے انسان کے خون کو ناحق بہائے جانے پر افسوس کا اظہار کیا تو میں نے اس کرب کو بھی محسوس کیا.
”میرے خدا نے تو انسان کو بنایا ہے اپنی فطرت پہ
پھر کیوں وہ ملوث ہے قتل و غارتگری و خوں ریزی میں ”
انکی اندر کی لڑکی ہر احساس کو شدت سے محسوس کرتی ہے ان کے اندر کی لڑکی بہت بیمول ہے جس کی وقعت صرف اس کے محبوب کے سامنے کم ہوتی یے اور اسکے لیے وہ پہروں رات کی تنہائیوں میں اشک بہاتی چاند سے محو گفتگو رہتی ہے تو کبھی محبوب کو اپنے جیسے گماں میں کر کے ایک فریب مسلسل خود کو دیتی ہے
وہ لڑکی اپنے اللہ کے بھی بہت نزدیک ہے اور اسی کے در پر گڑگڑاتی ہے رحم کی طلب رکھتی ہے اللہ کے محبوب محمدﷺ سے بھی بیپناہ عقیدت و عشق رکھتی ہے ان کے در پر پڑی رہنے کی خواہشمند ہے.
نیز ان کے اندر کی لڑکی سچے جذبات کی حامل بہت حساس ہے وہ کبھی کمزور ہوکر آنسو بہاتی ہے تو کبھی مضبوط بن کر چہرے پر ہنسی کا لبادہ اوڑھ کر سب کو فریب دیتی ہے.وہی لڑکی کبھی کبھی شدید محبت میں محبوب کے لیے اس قدر بیباک ہوجاتی ہے کہ اس کو کہتی ہے
پارسائی کا چولا اتار پھینکیں
مل کر دونوں خراب ہوجائیں
وہی لڑکی محبوب سے جابجا گلے شکوے بھی کرتی نظر آتی یے
اک پل تکنا دوسرے پل بے اعتنائی
اے متوالے یہ انداز تمہارے اچھے نہیں لگتے
ان کا کلام اپنے اندر کئی الگ الگ رنگ اور انداز لیے ہوئے ہے وہ محبوب کے وصل و ہجر دونوں جہتوں کو جی چکی ہیں ان کے الفاظ ان کے اندر کے حساس انسان کی حساس باتیں ہیں جو محبت میں خود کو وار بھی دیتا ہے لیکن محبوب سے سوال بھی کرتا ہے. وہ دعوی عشق پہ قائم ہیں لیکن ان کو اپنا فخر و غرور بھی عزیز ہے. وہ آنسو تو بہا لیتی ہیں لیکن خود کو گرانا پسند نہیں کرتیں. ایک حساس دل کی مالک لڑکی جو محبت کے ترانے گاتی ہے یکایک زمانے کے گھناونے رنگوں کو بھی بیان کرتی ہے وہ انسان کی حقیقت بھی کھول دیتی ہیں. آپی کا کلام کسی ایک نشت یا چند دنوں میں پڑھا جانے والا نہیں ہے بلکہ اس کو پڑھتے ہوئے شاعرہ کے جذبات احساسات کو بھی یاد رکھنا چاہیے جس نے ایک ایک لفظ جی جان سے لکھ کر لفظ کی آبرو قائم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے.
کتاب کا انتساب بھی انہوں نے اپنی اندر کی لڑکی جس کو وہ ”مونا” کا نام دیتی ہیں اسکے نام کیا ہے.
شاعری کے شوقین افراد کے لیے قرۃالعین آپی کی یہ کتاب پڑھنے لائق ہے اور اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے اللہ پاک انہیں مذید دن دگنی رات چگنی ترقی عطا فرمائے آمین.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com