اردو کا چمکتا ستارا: فرہاد احمد فگارؔ

راجا کاشف حسین،مظفرآباد
دنیا پر نگاہ ڈالیں تو ہر شخص کچھ نہ کچھ کر تا دکھائی دیتا ہے مگر اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو عام زندگی سے ہٹ کہ قوم، ملک، زبان اور ادب کے لیے کام کر رہے ہیں۔ میں اپنے جس شخصیت کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ دوسری صف میں موجود ہیں۔اگر ان کا نام اکیس ویں صدی کے اردو ادب سے نکال دیا جائے تو کشمیر میں اردو کی تاریخ مکمل نہیں ہو گی۔ اردو کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ جہاں بھی اردو زبان و ادب کا تذکرہ ہو گا وہاں ان کا ذکر ناگزیر ہو گا میری مراد،میرے استاد گرامی فرہاد احمد فگارؔ ہیں۔
آپ بہ یک وقت شاعر، تذکرہ نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق اور سفرنامہ نگار ہیں۔ آپ کی پیدائش سولہ مارچ انیس سو بیاسی کو آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں محلہ لوئر چھتر میں عبدالغنی اعوان کے گھر میں ہوئی۔ آپ اعوان خاندان کا چشم و چراغ ہیں اور سلسلہ قریب چالیس واسطوں کے بعد حضرت علیؓ سے جا ملتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے ایک نجی اسکول سے حاصل کی اور تیسری جماعت میں آپ نے علی اکبر اعوان گورنمنٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ میٹرک کا امتحان اسی اسکول سے پاس کیا۔ انٹر کا امتحان آپ نے پرائی ویٹ امید وار کے طور پر ۴۰۰۲ ء میں پاس کیا۔
انٹر کے بعد آپ تعلیم سے دور ہو گئے اور اپنی فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر کام کرنے لگے۔ آٹھ سال کے طویل عرصے کے بعد اس ادب کے متوالے میں حصولِ علم کی پیاس جاگ اٹھی اور علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں گریجویشن میں داخلہ لیا۔ گریجویشن کے بعد آپ نمل اسلام آباد میں زیر ِتعلیم رہے اور کام یابیاں آپ کے قدم چومتی رہیں۔ ۴۱۰۲ء میں آپ نے اسی جامعہ سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ایم اے کے بعد ۷۱۰۲ء میں ایم فل بھی نمل سے مکمل کیا۔بعد ازاں پی ایچ ڈی بھی نمل سے جاری ہے۔ اس حسین سفر میں فرہاد احمد فگارؔ صاحب کو بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ آپ پی ایچ ڈی کے کورس ورک کے دوران میں روزانہ مظفرآباد سے اسلام آباد کا سفر کرتے گرمی اور سردی کی شدت آپ کے ارادے کو نہ توڑ سکی۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے آپ کو اس کا فوراً انعام عطا کیا۔ آپ پی ایچ ڈی کا کورس ورک کر کے فارغ ہوے تو آپ نے اسی دوران میں پی ایس سی کا امتحان پاس کیا اور گورنمنٹ کالج، میرپورہ ضلع نیلم میں لیکچرر تعینات ہوئے۔
فگارؔ صاحب نہایت رحم دل انسان ہیں۔ آپ کی آواز میں مٹھاس ہے۔ جو شخص آپ سے ایک مرتبہ ملاقات کر لے وہ آپ کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔ ملن ساری آپ کا شیوائے خاص ہے۔
آپ کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کے اندر غرور و تکبر نہیں آپ ہمیشہ سادگی میں رہتے ہیں۔ کبھی بھی کسی پر اپنا رعب جمانے کی کوشش نہیں کرتے ہیں ہاں اگر کسی کی اصلاح کرنی ہو تو فوراً اصلاح کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک دوست جیسا سلوک کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔
آپ کے اندر ایک خوبی یہ بھی ہے کے آپ حاجت مندوں کی حاجت دور کرتے ہیں۔ آپ نے بہت سے طلبہ کی فیس اپنے جیب سے بھری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی طالب علم فیس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنا نہ چھوڑے۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ کہ پاس پیسے نہ تھے آپ نے ادھار لے کے ان طلبہ کی فیس ادا کی۔ راجا عثمان قاسم کے بہ قول:
”فرہاد ایک کنواں ہے جو پیاسوں کو سیراب کرتا ہے چاہے وہ علم کا پیاسا ہو یا مالی امداد کا طالب۔“
آپ کو بچپن سے ہی علم و ادب کے ساتھ دل چسپی تھی۔۔ آپ کی علم دوستی کی اس سے بڑھ کر اور کیا مثال پیش کی جائے کہ ۵۰۰۲ء کے زلزلے میں جب لوگوں کو اپنی زندگی کی پڑی تھی اس وقت سر فگارؔ خورشید نیشنل لائبریری سے کتابیں اکٹھی کر کے محفوظ مقام پر لے جا رہے تھے۔ آزاد کشمیر کے معروف مصنف رشید شاہ فاروقی صاحب آپ کے بارے میں کہتے ہیں:
”فرہاد احمد فگار ؔصاحب کی عمر،علم اور عمل میں اللہ تعالی برکت عطا فرماے آپ کراچی سے کیل تک علمی ادبی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں آپ اس وقت گورنمنٹ کا لج،میرپورہ وادی نیلم میں بہ حیثیت پروفیسر اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں آپ معروف اخبارات سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں اردو ادب پر آپ کا مطالعہ وسیع اور گرفت مضبوط ہے اردو ادب پر آپ کے کئی تحقیقی مضامین شائع ہو چکے ہیں۔آپ کا خاصا یہ ہے کہ آپ ادب کے حوالے سے کام کرنے والے گم نام لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر منظرعام پر لانے کا فریضہ بھی سر انجام دے رہے ہیں اس سلسلے میں آپ کو کئی طرح کی مشکلات کا سامنا بھی ہے مگر آپ کا حوصلہ لا جواب ہے۔“
آپ کے برادرِ نسبتی احسن ارشادقریشی صاحب آپ کی اردو کے ساتھ دوستی کے متعلق بتاتے ہیں:
”فرہاد بھائی کو اردو کے ساتھ بے حد لگاؤہے۔ ان کی اس محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے گھر میں ایک اچھی خاصی لائبریری بنا رکھی ہے جہاں کئی ہزار کتب موجود ہیں۔“
فگارؔ صاحب نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ آپ ماہ نامہ ”خاص بات“ اسلام آباد اور روزنامہ ”صبح نو“ مظفرآباد کے لکھاری کے ساتھ ساتھ رپورٹر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے ہیں۔ آپ نے اردو زبان و ادب میں غلطی کو کبھی برداشت نہیں کیا اور فوراً اس کی اصلاح کی ہے۔ غزل کی دنیا کا عظیم نام جناب ظفر اقبالؔ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں:
”ہمارے دوست فرہاد احمد فگار نے جگرؔ مراد آبادی والی غزل کے حوالے سے درستی کی ہے کہ وہ واقعی بہزاد لکھنوی کی ہے جس کی تصدیق شاعری کی مختلف کتابوں سے ہوتی ہے۔ سو اس سلسلے میں ہماری معذرت اور فرہاد احمد فگا رؔکا دلی شکریہ۔“
فرہاد احمد فگار صاحب نے ایم اے کی سطح پر جو تحقیقی مقالہ لکھا وہ اب کتابی شکل میں دستیاب ہے۔ ایم فل میں آپ نے”آزاد کشمیر کے منتخب غزل شعرا: تحقیقی و تقابلی جائزہ“ کے عنوان سے مقالہ لکھا ہے یہ بھی بہت جلد کتابی شکل میں دستیاب ہو گا۔ پی ایچ ڈی کے لیے آپ نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے وہ موضوع بہت مشکل ہے۔ اس موضوع کے انتخاب سے بھی فرہاد احمد فگارؔ صاحب کی اردو دوستی کا پتاچلتا ہے اور یہ موضوع ہے”اردو املا اور تلفظ کے بنیادی مباحث۔“
ایک رابطے کے دوران میں میری محترم فرہاد احمد فگارؔ صاحب سے ان کے مستقبل کے بارے میں بات ہوئی کہ وہ اب کیا کرنا چاہتے ہیں؟انھوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں مستقبل میں اپنی تخلیقات کو منظر عام پر لاؤں گا اور نایاب کتاب کی تدوین کر کے ان کی دوبارہ سے اشاعت کرواؤں گا۔
آپ کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ایک کتاب”کشمیر آزادی کی دہلیز پر“ کی تدوین کر کے دوبارہ سے اس کی اشاعت کروانا چاہتے ہیں۔خواجا غلام احمد پنڈت مرحوم کی یہ کتاب اب دستیاب نہیں۔
آپ کشمیر کے شعرا کے حوالے سے تذکرہ بھی لکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سوشل میڈیا پر بھی لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر کوئی شعر کا حوالہ غلط دے تو فوراً اس کی اصلاح کرتے ہیں۔
شاعری پر بھی طبع آزمائی کی ہے تاہم شاعر کہلوانا پسند نہیں کرتے۔ آپ کی شاعری میں نعتیہ کلام کے ساتھ ساتھ عشق مجازی بھی نظر آتا ہے۔ ان کا ایک شعر ملا حظہ کریں۔
جا چکا چھوڑ کر مجھے وہ فگارؔ
سب سے جس کے لیے پرایا ہوا
آپ کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ۸۰،نومبر،۰۲۰۲ء کی اشاعت میں انٹر نیشنل میگزین، فیصل آباد نے کچھ اس طرح سے آپ کا تعارف شائع کیا ہے:
“Mr. Farhad Ahmed Figar amazing and young intallectual personality of Azad Kashmir. He has out standing qualities as teacher,writer,poet and author.Farhad Ahmed Figar belongs to rich knowledge and glorious family of AJK.His thoughts regarding Urdu literature clear and very strong against other literature.”
محترم جناب فرہاد احمد فگار صاحب کو سیاحت کے ساتھ بھی گہری دل چسپی ہے۔ آپ کی آمدنی کا ایک حصہ سیاحت اور کتابوں کی خریداری پر صرف ہوتا ہے۔ آپ جس علاقے میں بھی جاتے ہیں اس علاقے کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہاں تک معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس علاقے کا یہ نام کس وجہ سے رکھا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کی اگر سر فرہاد سے کسی علاقے کے بارے میں معلومات دریافت کی جائیں تو آپ بہ آسانی معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔ آپ نے تقریباً پورے پاکستان کی سیاحت کی ہے۔
سر فرہاد احمد فگارؔ کی شخصیت کے حوالے سے نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر محترم حسنؔ ظہیر راجا صاحب کچھ اس طرح بتاتے ہیں:
”اردو تحقیق کی یہ خوش قسمتی ہے کہ اُسے فرہاد احمد فگارؔ جیساا سکالر میسر آیا۔ سوشل میڈیائی دور میں جہاں لوگ گھروں میں بیٹھے محض ایک پوسٹ کے ذریعے متعلق مواد تک رسائی کو ترجیح دیتے ہیں وہیں فرہاد تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی نہ کسی تحریر کی تصدیق کے لیے میلوں سفر طے کر چکے ہوتے ہیں۔ایسے قابلِ بھروسا محقق ہیں کہ معروف شاعر ظفر ؔاقبال اپنے کتنے ہی کالموں میں فرہادکی صلاحیتوں کا اعتراف کر چکے ہیں۔ فرہاد اب تک دوسروں سے منسوب سیکڑوں اشعار کو ان کے خالقِ حقیقی کے نام سے متعارف کرانے کا فریضہ سر انجام دے چکے ہیں۔ اصلاحِ تلفظ کے معاملے میں اتنے سخت واقع ہوئے ہیں کہ میں فرہاد کے سامنے کچھ بھی کہتے ہوئے احتیاط سے اس لیے بھی کام لیتا ہوں کہ کہیں کسی لفظ کے باب میں کوتاہی کا مرتکب ہو کر فرہاد کی ناراضی کا شکار نہ ہو جاؤں۔
نمل اسلام آباد میں ایم اے اردو کے دوران میں فرہاد احمد فگارؔ سے میرا تعارف ہوا اور ہماری دوستی روز بہ روز پختہ تر ہوتی چلی گئی۔ لیکچر کے بعد جامعہ کی لائبریری فرہاد کا ٹھکانا تھا۔ مجھے کیفے ٹیریا جانا ہوتا لیکن فرہاد کو ضد کہ فلاں شاعر یا ادیب کے بارے میں جاننا زیادہ اہم ہے لہذا مجھے بھی اپنے ہم راہ لائبریری میں پہنچا کر دم لیتا۔ کتاب،فرہاد کا اولیں عشق رہا ہے اس لیے لائبریری میں بیٹھے ہوئے اُن لڑکے لڑکیوں سے فرہاد کو کوئی دل چسپی نہیں رہی جو یہاں پڑھنے نہیں آتے تھے۔میں اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے فرہاد جیسا دوست عطا کِیا۔“
المختصر فرہاد احمد فگار صاحب اردو کے حقیقی وارث ہیں۔ اگر تمام نوجوان آپ کی طرح محنت کریں گے تو زندگی کے کسی بھی میدان میں نا کام نہیں ہوں گے۔ ایک نشت میں آپ پر بات کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے کیوں کہ آپ کی خدمات بہت زیادہ ہیں۔ محترم فرہاد صاحب نے اپنی زندگی میں جو مقام حاصل کر لیا ہے وہ شاید ہی کوئی حاصل کر سکے۔ اس سب کے پیچھے آپ کی ان تھک محنت ہے اور محترم ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہیں گے۔آپ کی شخصیت ایسی ہے کہ آپ کے شاگرد،آپ کے دوست اور آپ کے ہم جماعت سبھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کی ایک ہم جماعت ڈاکٹر نگہت نورین صاحبہ سے جب فرہاد احمد فگارؔ صاحب کی شخصیت کے حوالے سے سوال کیا تو انھوں نے بتایا:
”فرہاد احمدفگارسے پہلی ملاقات ۴۱۰۲ء میں ہوئی۔نمل اسلا م آباد میں ایم۔فل میں ان کے ساتھ پڑھنے کا موقع ملا۔ایک اچھے محقق،استاد،شاعر اور ان سب سے بڑھ کر بہت نیک صفت انسان ہیں،اپنے کام میں ایمان دارہیں۔علمی و ادبی شغف کے مالک ہیں۔کوئی بات تحقیق کے بنا نہیں کرتے۔ان کی ایک عمدہ اور لازوال کاوش شعرا سے منسوب غلط اشعار کوتحقیق کر کے درست شعرا کا پتا لگاناہے۔ذاتی طورادبی تحریروں میں جہاں بھی کوئی مستند رائے درکار ہوئی وہیں سب سے پہلے جس کا خیال آیا وہ فرہاد بھائی ہیں۔“
میرے استادِ محترم فرہاد احمد فگارؔ کی شخصیت پر لکھنا میری خواہش تھی۔ میری اس خواہش کی تکمیل کے لیے محترمہ ثنا صفدر کا مضمون معاون ثابت ہوا ان کا شکر گزار ہوں۔ میں ہمیشہ اس بات پر فخر محسوس کرتا ہوں کہ میں بھی فرہادا حمد فگارؔ صاحب کا شاگرد ہوں۔ ان الفاظ کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔
آخر زباں پر آ ہی جاتے ہیں
وہ جو دل میں رہتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com