جعلی ڈگریوں کا خاتمہ نئے پاکستان کی تکمیل

محمد شعیب احمدبھٹی

گذشتہ چند دنوں میں وکلاء کی جعلی ڈگریوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور دن بہ دن یہ آواز بڑی شدت کے ساتھ بلند ہو رہی ہے کہ جعلی ڈگری کے حامل وکلاء کے بار کونسل کے ممبرز بننے کی راہ روک لی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض ڈسٹرکٹ بار، ہائیکورٹ بار، پنجاب بار یا پاکستان بار کونسل کے عہدوں کے انتخاب کے لیے ہی جعلی ڈگری ہولڈرز کے راستے کیوں بند کیے جائیں بلکہ ایسے وکلاء کی وکالت کے لائسنس بھی فی الفور ختم کردینے چاہیں تاکہ وکلاء برادری میں شامل کالی بھیڑوں کو کالے کوٹ کے تقدس کو پامال کرنے سے مکمل طور پر روکا جاسکے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم کا پنجاب بار کونسل کے منتخب عہدیداران کی ڈگریوں کا تصدیق کروانے کا حکمنامہ ایک بہترین عمل ہے لیکن بہتر سے بہترین عمل یہ ہوگا کہ ناصرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر کے تمام وکلاء کی جملہ اسناد اور ڈگریوں کی ویریفکیشن کروائی جائے۔ کم از کم عدل و انصاف کے اداروں میں گھُسی ہوئی کالی بھیڑوں سے نظام عدل کو پاک صاف کیا جاسکے۔
بوگس میٹرک، انٹر کی اسناد سمیت ڈگری، پوسٹ ڈگری سمیت متعدد تعلیمی اور پروفیشنلز ڈگریوں کا اجراء کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بوگس تعلیمی اسناد اور جعلی ڈگریوں کی بدولت یہاں حق داروں کی حق تلفی عمل میں آتی رہی ہے۔ اگرچہ تعلیمی بورڈز اور پاکستان بھر کی مستند یونیورسٹیاں بوگس اسناد اور جعلی ڈگریوں کی روک تھام کے لیے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جعلی ڈگریوں کی بدولت مختلف عہدے، ملازمتیں حاصل کرنے میں بعض جعلساز کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ اس گمراہ کن گھناؤنے جرم میں فقط وکلاء برادری کے چند لوگ ملوث نہیں ہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایسی وارداتوں کے ذریعے تعلیم یافتہ افراد کے حقوق پر ڈاکہ زنی کرنے والے لوگ بکثرت ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ان حالات میں وزیر ہواباز ”محمد سرور“ کے انکشافات بھی کچھ حقیقتوں سے مکمل پردہ اٹھاتے دکھائی دیئے تھے۔ پی آئی اے کے پائلٹ کی ملازمت تک اگر جعلی اسناد، ڈگریوں اور تربیتی سر ٹیفکیٹ کا حصول عام رہا ہے تو پھر عام سول اداروں میں جعلی اسناد، ڈگریوں کی بدولت نوکریوں کا حصول کیونکر خارج از امکان قرار دیا جاسکتا ہے؟ جعلی اسناد، بوگس ڈگریوں کی ویریفکیشن کو درست قرار دینے والے تعلیمی بورڈ افسران اور ماتحت عملے سمیت یونیورسٹیز کے کرپٹ عناصر کو بھی چُن چُن کر اگر نشان عبرت بنادیا جائے تو اس کی روک تھام عملاً ممکن دکھائی دیتی ہے لیکن اگر بوگس اسناد اور جعلی ڈگریوں کی تصدیق کرنے والے یونیورسٹی حکام اور کلرک مافیا کو محض رسمی دفتری انکوائری رپورٹ کے مطابق بے قصور قرار دیا گیا تو یہ جعلسازی کا عمل کبھی رکنے کا نام نہیں لے گا اور یوں رفتہ رفتہ یہ مکروہ دھندہ ایک کرپشن کی آمان گاہ ہی نہیں بلکہ انڈسٹری کی صورت اختیار کر جائے گا۔ پرائیویٹ سیکٹر کی درس گاہوں کو تو پہلے ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اب سرکاری تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز کو بھی ڈگری فروش یونٹ قرار دیا جانے لگا ہے۔ ملک بھر کے تمام پرائیویٹ، سرکاری ملازمین کی جملہ اسناد اور ڈگریوں کی ویریفکیشن اگر شفافیت کے ساتھ کروالی جائے تو ہر سرکاری شعبے سے کالی بھیڑوں کا خاتمہ عمل میں لایا جاسکتا ہے۔ حکومت وقت کو چاہے کہ تمام ضلعی، صوبائی، وفاقی نجی و سرکاری اداروں کے تمام ملازمین، عہدیداران کی جملہ اسناد، ڈگریاں ازسرنو ری چیک کرے۔ بہتر عمل تو یہ ہوگا کہ اگر تمام تعلیمی بورڈز، یونیورسٹیز کی جاری کردہ اسناد، ڈگریوں کا اجراء نادرا کے کمپیوٹرائزڈ کارڈ نمبر اور فوٹو کے ساتھ دوبارہ کردیا جائے اور سابقہ اسناد اور ڈگریوں کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔ ان حالات میں صرف اصلی ریکارڈ رکھنے والے شہری ہی نئی اسناد اور ڈگریاں حاصل کر پائیں گے۔ بوگس، جعلی ڈگریوں والے از خودفلٹر ہو جائیں گے۔ اس طرح 100% درست ڈگری کے حامل افراد ہی اسناد اور ڈگریوں کے حصول میں کامیاب ہو سکیں گے۔ CNIC نمبر کے اندراج کے ساتھ اسناد اور ڈگریوں کے نئے اجراء سے صرف اوریجنل ریکارڈ ہولڈر ہی نئی اسناد اور ڈگری حاصل کرنے کے اہل ہوں گے تو جعلسازی سے اسناد اور ڈگریاں حاصل کرنے والے ازخود قانون کی گرفت میں آجائیں گے۔ CNIC نمبر کے ساتھ نئی اسناد، ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے فیس کی مد میں ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز، یونیورسٹیز کو کثیر آمدنی بھی فی الفور حاصل ہوگی جس سے وہ اپنے مالی مسائل کو بہتر انداز میں حل کرنے میں خود کفیل ہوں جائیں گے۔ تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹی ریکارڈز روم میں اصل امیدواران کے جملہ کوائف اور سابقہ تصاویر پرانے شناختی کارڈ کے نمبرز اور فوٹو کاپی سمیت محفوظ ہیں اس طرح پاکستان بھر کے تمام بورڈز، یونیورسٹی کے ریکارڈز میں نادرا CNIC کااندراج بھی با آسانی شامل ہو جائے گا اور فول پروف ویریفکیشن کا عمل شفافیت سے ہمکنار ہو جائے گا۔ جب تک تعلیم سمیت دیگر شعبوں سے جعلی اسناد، بوگس ڈگری ہولڈرز کا خاتمہ عمل میں نہیں لایا جائے گا۔ تب تک معاشرتی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ جعلی اسناد، ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن، جی پی فنڈز، بنوولنٹ فنڈ، گریجوایٹی سمیت دیگر مالی بچتوں سے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اربوں روپے کی بچت اور آمدنی حاصل ہوگی۔ جعلسازوں کی بدولت حاصل ہونے والی یہی کثیر رقم حکومت عوام کے فلاح و بہبود کے متعدد نئے پراجیکٹس پر خرچ کرسکتی ہے۔ مالی وسائل کی کمی پورا کرنے سے حکومت کی پراگریس پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سرکاری اداروں میں بھرتی ہونے والے جعلسازوں کی بیخ کنی کا یہ نادر موقع ضائع نہیں کرنا چاہے بلکہ اسناد اور ڈگریوں کی شفاف تصدیق کے عمل سے ملک و قوم کی بہتری کے عمل کو تیز تر کرکے پاکستان کا مستقبل تابناک بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ اسناد اور ڈگریوں کی ویریفکیشن اور نادرا کے CNIC کارڈ نمبر کے اندراج کے ساتھ نئی ڈگریوں کا اجراء کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ایک بہتر پاکستان کی تشکیل کے لیے ہمیں اس مشکل کام کا آغاز کرنا ہوگا۔ بقول شاعر
اگرچہ کام مشکل ہے مگر یہ کام ہے کرنا
کسی آغاز پر لاکر اسے انجام ہے کرنا
جھوٹ، مکر، فریب، جعلسازی، دھوکہ دہی، اندھیر نگری کے نظام کے خاتمہ کے لیے جعلی ڈگری ہولڈرز کی بیخ کنی کرنا ہوگی۔ صرف وکلاء ہی کیوں موردِ الزام ٹھہرائے جائیں کہ وہ جعل سازی میں ملوث ہیں۔ جعلسازی میں تو سبھی شعبہ ہائے زندگی کی کالی بھیڑوں کو نکال کر ایک نئے پاکستان کی تکمیل ممکن کی جاسکتی ہے۔ شفاف ویریفکیشن کے عمل سے ملک بھر کے بار کونسل ہی نہیں بلکہ تمام ادارے جعل ڈگریوں سے پاک ہو جائیں گے۔ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف کریمنل کیسز بنا کر ضابطہ کی کاروائی عمل میں لاکر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے سے پورے معاشرے کی اصلاح عمل میں آئے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com