بوٹ والا شُوٹ اور بچپن کی کہانی


ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ الگ بحث کہ پاکستان کی سیاست میں کس کا کیا کردار رہا ہے؛ یہ بھی ایک طرف کہ موجودہ حالات میں کون سا سیاسی شخص کس جگہ کیوں ہے اور کس کی وجہ سے ہے؛ اس سے بھی ہٹ کر کہ وہ بوٹ دکھا کر اصل نشانہ کس کو بنانے کی کوشش کی گئی۔۔ایک بات بڑی واضح ہے کہ یہ عمل انتہائی خطرناک تھا جس پر ریاستِ پاکستان کو شدید ترین رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے۔
اس اعصاب شکن واقعہ سے بچپن میں پڑھی ہوئی ایک کہانی یاد آگئی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی کسی نادان سے دوستی ہو گئی۔ وہ جس جگہ بھی جاتا نادان کو ساتھ لے کر جاتا اوروہ نادان بھی ہر جگہ اپنی دوستی کا حق ادا کرتا۔ ایک دفعہ سفر کے دوران کسی جگہ وہ شخص آرام کی غرض سے کچھ دیر لیٹ گیااور اس دوران نادان اس شخص کی حفاظت کرتا رہا۔ لیٹے ہوئے ایک مکھی اس شخض کے منہ کے گرد بھنبھنانے لگی۔ کبھی یہ مکھی اس کے کان کے قریب جاتی اور کبھی ناک پر بیٹھنے کی کوشش کرتی۔ نادان کافی دیر تک ہاتھ سے مکھی کو اڑانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب مکھی بار بار اڑانے پر بھی باز نہ آئی تو نادان کو غصہ آگیا۔ اس نے ارادہ کر لیا کہ اب اس مکھی کو ختم کر دوں گا۔ مکھی کو مارنے کی غرض سے نادان نے مالک کے تھیلے سے حفاظت کی غرض سے رکھا ہوا چاقو نکالا اور مکھی کے شکار کے لئے چوکس ہو گیا۔ جونہی مکھی ناک پر بیٹھی، نادان نے مکھی پر وار کر دیا۔
مکھی تو خیر اڑ گئی مگر اس شخص کی ناک کٹ گئی۔ اب زخمی ناک اور پشیمان نادان کے ساتھ وہ شخص واپس آیا اور ایک بزرگ سے سارا قصہ بیان کیا۔ بزرگ نے سمجھایا کہ نادان کی دوستی بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ نادان شخص اپنی دوستی، وفاداری اور محبت کو ثابت کرتے کرتے ایسی حرکت ضرور کر جاتا ہے جس سے اسی کے دوست کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ ایک طرف کہ وہ نادان کون تھا،یا کیا تھا۔۔! اس شخص نے اس کی دوستی سے توبہ کر لی اور اسے دور نادانوں کے شہر میں چھوڑ آیا۔
صرف یہی واقعہ نہیں بلکہ اس سے بھی قبل موصوف کی حرکات سے عمران خان اور ان کی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا مگر اب کی بار تو نادانی اور غیر سنجیدگی کی حد ہو گئی۔
اس بوٹ سے ہمارے جذبات وابستہ ہیں۔ یہ پاکستان کے دفاع کی علامت ہے۔ یہ بوٹ ریاست کا اصل محافظ ہے۔ اسی بوٹ کی بدولت ہم راتوں کو چین کی نیند سوتے ہیں۔ اسی بوٹ کا مان ہے کہ یہ قوم طاقتور ترین ملک کی دھمکیوں سے بھی نہیں ڈرتی۔ لیکن افسوس کہ یہاں اسی بوٹ کو سامنے رکھ کراسے عجب موضوعِ بحث بنا دیا۔
اگرچہ اداروں کی سیاسی معاملات میں مداخلت پر بحث ہوتی رہتی ہے اور اس حوالے سے بعض دفعہ سخت انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے لیکن اداروں کا ہمیشہ یہی موقف رہا ہے کہ ان کا سیاسی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔اس موقف کو خاص طور پر گزشتہ ایک دہائی میں اختیار کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی اس موضوع پر کسی سنجیدہ اور پبلک فورم پر بات ہوتی ہے تو اس میں انتہائی محتاط انداز اختیار کرتے ہوئے اشاروں کنایوں میں بات کی جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔ ادارے کی اہم ترین علامت کو قومی سطح پر دیکھے جانے والے ٹی وی چینل پر سامنے رکھ کر اس بات کو کھلے انداز میں ثابت کرنے کی کوشش کرنا کہ اس ادارے کا کسی خاص سیاسی عمل میں کردار ہے، انتہائی خطرناک حرکت ہے۔ یہ غیر اخلاقی نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل برداشت عمل ہے۔ ایک انتہائی ذمہ دار شخص جو اہم حکومتی عہدے پر موجود ہے، اس کی جانب سے اس انداز کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ ڈان لیک سے بھی بہت آگے کا اقدام ہے۔
موصوف کی جانب سے نہ صرف اپنی حکومت کی تذلیل کی گئی ہے بلکہ اس نظام کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اداروں کے لئے بھی پریشان کن صورت حال پیدا کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل کے لئے ہر جگہ نا پسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ریاست پاکستان کو اس عمل پر سخت ترین رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے ورنہ انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔ اگر اس جگہ نرمی دکھائی گئی تو ممکن ہے کہ کل کو بات بوٹ سے آگے نکل جائے اورٹیلی ویژن پر اس سے بھی آگے کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔
وزیر اعظم پاکستان کو چاہئے کہ نہ صرف مذکورہ وزیر کو وزارت سے ہٹائیں بلکہ ان کی ٹیلی ویژن گفتگو پر تاحیات پابندگی لگائیں۔ کیونکہ جس شخص کو اداروں کی حساسیت کا اندازہ نہیں اور اس بات کا ادراک نہیں کہ کس جگہ کیا بات کرنی اور کتنی کرنی ہے اور کس انداز میں کرنی ہے اسے قومی سطح کے معاملات پر سنجیدہ نمائندگی کا ہر گز حق حاصل نہیں ہونا چاہئے۔
افواج پاکستان اس ملک کی سرحدوں کی ضامن ہے۔ ان کی لاکھوں قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان دنیا کے نقشے پر ممتاز حیثیت سے موجود ہے۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کے حوصلوں کو بلند کیا ہے۔ پاکستانی قوم یہ کبھی اجازت نہیں دے گی کہ بازاری حرکتوں اور شعبدہ بازیوں سے قومی اداروں کو کھلے انداز میں تضحیک کا نشانہ بنایا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com