Pakistani soldiers stand at an army-run school a day after an attack on an army-run school by Taliban militants in Peshawar on December 17, 2014. Pakistan began three days of mourning on December 17 for the 132 schoolchildren and nine staff killed by the Taliban in the country's deadliest ever terror attack as the world united in a chorus of revulsion. AFP PHOTO / A MAJEED

انتہا پسندی

تحریر۔مہوش احسن
انتہا پسندی کسی بھی درجے کی حدود کو توڑ کے انسانیت کو شرمندہ کر جاتی ہے۔آج میں یہاں انتہا پسندوں سے لڑتے اور ڈٹے رہنے والے شخص کو لے کے حاضر ہوں ہارون یحییٰ (Harun Yahya)، جن کا اصلی نام عدنان اکتار ہے، (پیدائش: 2 فروری سنہ 1956ء) ایکترکی مصنف اور مؤلف ہیں۔ سنہ 2007 میں انہوں نے اسلامی تظریہ تخلیق پر مبنی اپنی کتاب دی ایٹلس آف کریشن کے ہزاروں نسخے امریکی سائنس دانوں، کانگریس کے ارکان اور سانئسی میوزیم کو ہدیہ میں دیں۔ وہ دو تنظیمیں چلاتے ہیں جن کے وہ اعزازی صدر ہیں سائنس ریسرچ فاؤنڈیشن اور نیشنل ویلیوز پریزرویشن فاؤنڈینشن۔ دونوں کو بالترتیب 1990 اور 1995 میں قائم کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں وہ ٹی وی پر بہت فعال رہے ہیں اور انہوں نے اپنا ایک ٹی وی چینل اے9 ٹی وی کے نام سے قائم کیا ہے۔ ان کی تنظیموں کو مذہبی تنظیم مانا جاتا ہے۔ اور ان کو ترکی کا سب سے بدنام مذہبی رہنما تصور کیا جاتا ہے۔ہارون نے گزشتہ دہائی میں 5000 سے زیادہ لوگوں کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ترکی میں کافی اہم ویبسائٹیں بلاک کر دی گئی ہیں۔ہے نا حیرانی کی بات اگر تم حق پہ ہو تو دلیل سے بات کرو بزدلانہ طریقہ ہے قتل کر دینا بلاک کر دینا۔ہر جاہلانہ کوشش کرنا۔
اعدنان ان کی ولادت سنہ 1956 میں انقرہ میں ہوئی اور ہائی اسکول تک وہیں تعلیم مکمل کی، وہیں انہوں نے بدیع الزمان سے اسلامی علوم سے آگاہی حاصل کی۔ بدیع لازمان ایک کرد مسلم عالم ہیں جنہوں نیرسالہ نور تحریر کیا ہے۔ وہ ایک ماہر مفسر قرآن ہیں اور ان کا اپنا ایک الگ سیاسی اور مسلکی نظریہ ہے۔ہارون یحییٰ 1979میں استمبول آئے اور میمار سینان یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔اس دوران ترکی میں بغاوت اور کشیدگی کا در دورہ تھا۔ سیاسی اور تہذیبی افراتفری کا ماحول تھا۔ سرد جنگ کے خدشات منڈرا رہے تھے۔ اور سیکیولر اور مذہبی گروہوں کے درمیان زبردست جنگ جاری تھی۔ اس ماحول میں انہوں نے بلا ناغہ فندکلی کی محلہ مسجد میں حاضری دی۔ یہ مسجد اکیڈمی کے قریب تھی جہاں انہوں نے داخلی آرکیٹیکچر کی پڑھائی کی۔ ادیب یوکسیل جو ان ہارون یحیی کو انہی دنوں سے جانتے ہیں کہتے ہیں کہ وہ ایک حوصلہ مند سنی مسلمان تھے۔ 1980 کے اوائل میں ہارون نے طلبہ کی ایک جماعت کو اکٹھا کیا تاکہ مذہب سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ یہ طلبہ استامبول کے سماجی طور پر متحرک اور خوشگوار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ مزید ہائی اسکول کے وہ طلبہ جڑ گئے جو استمبول کے مالدار خاندان کے تھے اور نئے نئے مذہبی تھے۔ 1982 سے 1984 تک 20 سے 30 لوگوں کا گروہ تیار ہو چکا تھا۔ ادیب کا کہنا ہے کہ ہارون نے ان کو بڑے ہی جدید انداز میں اپنی تعلیمات پیش کیں۔ اور بدیع الزمان کیایک بہتر اوتار کے طور پر لوگوں کے سامنے آئے۔ اپنی مذہبی تعلیمات میں انہوں نے مارکسیت، اشتمالیت اور مادیت کے خلاف خوب دلائل پیش کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے نظریہ ارتقا اور ڈارونیت پر بھی جم کر ہلہ بولا۔ کیونکہ انکولگتا تھا کہ ڈارونیت سے ہی مادیت، دہریت اور دیگر نظریات کو بڑھاوا ملا ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی مالیت سے اک پمفلیٹ شائع کرواکر تقسیم کیا جس کا عنوان“نظریہ ارتقا“ تھا اور جس میں باطنیت کو سائنسی حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
سنہ 1986 میں انہوں نے استامبول یونیورسٹی میں فلسفہ میں داخلہ لیا۔وہ نقظہ مجلہ کے صفحہ اول پر ظاہر ہوئے جس میں یہ بتایا گیا کہ کیسے انہوں نے دوستوں اور دوسرے لوگوں کو جمع کر کے مساجد میں تقریریں کیں۔ ترکی کی سب سے اہم یونیورسٹیوں میں سے ایک باسفورس یونیورسٹی کے طالبعلموں نے شرکت کرنی شروع کی۔ ہارون یحیی کا نام میڈیا اوریہاں تک کہ سرخیوں میں آنے لگا۔ انہوں نے“یہودیت اور فری میسن“ نام سے 550 صفحوں کی ایک کتاب لکھی۔ یہ کتاب سازشی نظریات پر مبنی تھی جس کے مطابق حکومتی دفاتر، یونیورسٹیاں، سیاسی جماعتیں اور میڈیا ایک“ مخفی گروہ“ سے متاثر تھیں تاکہ ترکی باشندوں کی روحانی، مذہبی اور اخلاقی قدروں کو ختم کر کے ان کو جانوروں جیسا بنا دیا جائے۔ ہارون کو گرفتار کر لیا گیا اور ان پر نظریاتی انقلاب کا مقدمہ کیا گیا۔ حالانکہ ان پر کبھی کوئی سرکاری مقدمہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے 10 ماہ پاگل خانے میں گزارے چلیکن انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ کبھی پاگل تھے ہی نہیں بلکہ وہ سیاسی قیدی بن گئے ہیں جنکو انکی کتاب یہودیت اور فری میسن کے عوض سزا دی جارہی ہے۔ 1980 اور 1990 کے اوائل میں ہارون نے صرف کمیونٹی بنانے پر زور دیا۔ اس کے متبعین خاص طور پر بحیرہ مرمرہ کے موسم سرما کے ہوٹلوں میں بھرتی کیے گئے تھے۔ گروہ کے دوران سماجی تنظیم مزید منظم اور منسق ہو گئی اور مسیحائی فطرت اختیار کر لی۔ ہارون کا کہنا ہے کہ ان دنوں دہشت اور انتشار کی باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکے۔ انہوں نے دوران تعلیم ہی کتابوں پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ لہذا جیسے اسکول سے فراغت ہوئی انہوں نے ساری محنت کتابوں پر صرف کردی۔
سہ 1990 میں سائنس ریسرچ فاؤنڈیشن (ایس آر ایف) کی بنیاد رکھی۔ ہارون نے ایس آر ایف کی بنیاد ان سائنسی کارروائیوں کے لیے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرنے کے لیے رکھی جو ایک بڑے پیمانے پر سماجی اور سیاسی شعور کو بیدار کرتے ہیں۔ اور ان تنازعات کو ختم کریں کو مادیت اور ڈاروینت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ حالانکہ کچھ میڈیا والے ان کو ایک خفیہ اسلامی گروہ بتاتے ہیں۔مجھے تو پتا ہی اب چلا ہے اتنا بہادر دلیر اور زندہ دل شخص ایک خفیہ اسلامی گرو کا حصہ ہے۔
تاریخ ہم شرمندہ ہیں۔
جس سے حق بات کا اظہار نہیں ہو سکتا
کچھ بھی ہو سکتا ہے وہ فنکار نہیں ہو سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com