گوجرانوالہ آرٹس کونسل ہال میں سائبان ویلفیئر سوسائٹی کے زیراہتمام سیمینار


گوجرانوالہ آرٹس کونسل ہال میں سائبان ویلفیئر سوسائٹی رجسٹرڈ کے زیر اہتمام سیاحت کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سرپرست سائبان چوہدری طاہر جاوید نمبردار نے کہا کہ آج جب ملکی حالات بہت حد تک پر امن ہوچکے ہیں تو بہت ضروری ہے کہ نوجوانوں کو سیاحت کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے ان کے ذوق کی تسکین کا ساماں مہیا کرنے کی کوشش کی جائے۔سعید احمد تاج سابق صدر چیمبر نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ملک سیاحت کے زریعے نہ صرف اپنے لوگوں کو روزگار مہیا کر رہے ہیں بلکہ وہ بیرونی دنیا سے سیاحوں کی بہتر مہمانوازی سے اپنی معیشت بھی مضبوط بنا رہے ہیں۔شازیہ سہیل میر نے کہا آج کل اچانک سے خواتین کے ساتھ ایسے واقعات ہونے لگے ہیں جو ملکی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ایسے میں سماجی حلقوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سامنے آئیں اور نوجوانوں کو ادبی و ثقافتی ماحول سے وابستہ کر کے معاشرے کو پر امن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈائریکٹر آرٹس کونسل ڈاکٹر حلیم خان نے کہا کہ گوجرانوالہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ اس دھرتی نے ہر دور میں بڑے فنکار،شاعر،ادیب اور لوک گلوکار پیدا کیے ہیں۔اس کے علاوہ تاریخی اعتبار سے بھی یہ شہر اپنے اندر بہت سی داستانیں لیے ہوئے ہیں۔اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اپنے شہر کی ثقافت سے روشناس کرائیں تا کہ سیاح اسے دیکھنے کے لیے کھنچے چلے آئیں۔چوہدری اشرف مجید نے کہا کہ وہ شروع دن سے سائبان کی کوششوں کے معترف رہے ہیں۔یہ لوگ حقیقی معنوں میں اپنی زبان،روایات اور ثقافت کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔سید واجد علی نے بتایاکہ کورنا کے بعد اس محفل میں شرکت کر کے واقعی خوش ہوئی ہے اور امید ہے کہ مل بیٹھنے کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی چلتا رہے گا۔اس باوقارتقریب کی صدارت چوہدری اشرف مجید نے کی جبکہ مہمانان گرامی قدر میں سعید احمد تاج،شازیہ سہیل میر،مقصود احمد مٹو،حافظ محمد عرفان، سید واجد علی،سہیل بشیر،چوہدری محمد انور،ساجد شاد،وحید الیاس مغل،گلزیب،اسامہ طارق،عابد سیالوی،سجاد مشتاق،رانا اظہر،سجاد سردار وڑائچ،فرحانہ عنبر،عرفانہ امر،پروفیسر نائلہ بٹ،یسین گجر اور دیگر شامل تھے۔صدر سائبان عتیق انور راجہ نے کہا کہ سیاحت کا مطلب شمالی علاقہ جات کو جانا ہی نہیں ہے بلکہ ہمیں یہ نقطہ سمجھ لینا چاہیے کہ سیاح دنیا کی پرانی اور منفرد عمارتوں،قلعوں اور بازاروں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔اگر دیکھا جائے توثقافتی، تاریخی،مذہبی اور جغرافیائی طور پر پنجاب اپنے اندر ہر وہ کشش رکھتا ہے جو ایک سیاح کو اپنی طرف کھینچ لے۔حکومت کا کام صرف اتنا ہے کہ تھوڑی توجہ سے سیاحوں کو اس جانب راغب کرنے کی کوشش کرے۔پنجاب میں تاریخی قلعے ہیں,دریا ہیں,ریگستانی سلسلے ہیں۔خوبصورت باغات ہیں۔پہاڑی سلسلے ہیں اورپنجاب اپنے صحت بخش اور مزیدار کھابوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔اس کے علاوہ موجودہ حکومت کی طرف سے کوٹلی ستیاں، چکوال، کوہ سلیمان، اٹک، کالا باغ، خوشاب، بہاولپور اور جہلم میں نئے سیاحتی مقامات عوام کے لیے کھولنے کا عندیہ بھی ایک اچھی خبر ہوگا۔سکھوں کی مذہبی اور ثقافتی سیاحت خصوصاً ننکانہ صاحب,ایمن آباد اور کرتارپور راہداری سے بھی پنجاب کی سیاحت کو بھر پور فروع ملنے کی امید ہے۔پنجاب کے میلے بھی آباد کرنے بھی بہت ضروری ہیں۔کیونکہ ان میلوں کو دیکھنے بھی کبھی سیاح دنیا بھر سے یہاں آیا کرتے تھے۔پنجا ب کی ثقافت کا ایک بہت خوبصورت رنگ پنجا ب بھر میں سجنے والے میلے ہوا کرتے تھے۔پچھلے دور میں ان میلوں کو بند یا محدود کر کے عوام کی خوشیوں پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔کیونکہ یہ میلے بھی ہماری سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا کرتے تھے۔ان میلوں میں ہونے والے کھیل تماشو ں کو دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ آیا کرتے تھے
۔آخر میں سب نے اس بات پہ اتفاق کیا کہ سب سے پہلے گوجرانوالہ شہر میں موجود ثقافتی ورثے کے لیے آگاہی مہم شروع کی جائے گی اور پھر دوسرے شہروں میں دوستوں کے ساتھ مل کے سیاحتی سفر کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com