ادبی تنظیم دھنک کے زیراہتمام شام سخن

قمرریاض
محبت خوشبو کی طرح ہوتی ہے ہمیشہ پھیلتی چلی جاتی ہے آپ لوگوں سے محبت کریں لوگ آپ سے محبت کرنا شروع کر دیں گے اسی طرح اپنا شہر اپنی عزت ہوتی ہے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ جس مٹی پر پیدا ہوئے ہوں اس کا حق ادا نہیں کریں گے تو وہی مٹی آپکو فراموش کر دے گی اس مٹی سے جڑے لوگ آپکو پہچاننے سے انکار کر دیں گے اور اگر آپ اپنی مٹی سے جڑے لوگوں سے محبت کریں گے تو وہی لوگ آپکو اپنے سر کا تاج بنا لیں گے میں اللہ تعالی کا صد شکر بجا لاتا ہوں کہ میں اپنے وطن اور اپنے شہر کی مٹی سے جڑا ہوں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے جس قدر عزت و احترام سے نوازا ہے اس کا شکرانہ ادا کرنا بھی میری اوقات سے باہر ہے البتہ اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوں کہ وہ اس وقار اور عزت کو کسی بھی کم ظرف سے محفوظ رکھے –
چوہدری اکمل سیف چٹھہ ہمارے علی پور چٹھہ کے سابقہ ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری رہے اور جہاں تک ممکن ہوا مسلم لیگ ن کے دور میں ترقیاتی فنڈ اس علاقے کے لئے لے کر آئے اور کام بھی کروائے جبکہ علم و فن کے فروغ کے لئے بھی ہمیشہ پیش پیش رہے گزشتہ انتخابات میں پارٹی تعلقات میں سرد مہری کے باعث الیکشن سے دور رہے مگر اپنی وفاداری نہیں بدلی – آجکل ہوم اسکولز علی پور چٹھہ کے نام سے ایک بڑے اور معیاری اسکول کی سرپرستی کر رہے ہیں جسے اسکول کے روح رواں پرنسپل جناب بابر بلال بہت احسن طریقے سے چلا رہے ہیں اور دن بدن طلباء کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے –
وہ دوست جنہوں نے پل پل مشاعرہ کے انتظام کو دیکھا دوستوں یہ سب میرے وہ دوست ہیں جو کاروباری لحاظ سے اپنے بہترین کاروبار چلا رہے اور کئی اعلی عہدوں پر فائز ہیں مگر محسوس ایسا ہوتا تھا کہ میرا پورا شہر اس دن میزبان ہے اور یہی میرے علی پور چٹھہ کی خاص بات ہے یہ میرے والد گرامی چوہدری ریاض احمد چشتی کا شہر ہے جہاں ہم نے ان کی زیر نگرانی انجمن طلباء اسلام کو بنتے دیکھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی تنظیموں کے بانی بننے کے علاوہ کئی مساجد کی تعمیر کی بنیاد انہوں نے رکھی جنازہ گاہ جہاں دن میں جاتے ہوئے ڈر لگتا تھا اس کی اس طرح صفائی کروائی کے رات کو لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر چراغاں کرنے لگے اللہ تعالی انہیں جوار رحمت میں جگہ دے – آمین
شام سخن مشاعرہ کیا تھا ایک تاریخ تھی جو علی پور چٹھہ میں رقم ہو رہی تھی خوبصورت شامیانوں میں روشنیوں اور شہنائیوں سے بھری شام دوستوں کا اکٹھ تھا ایک شاعر کی طرف سے دوسرے شاعروں کا استقبال تھا بنیادی وجہ یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ کسی لابی کے بغیر بھی مشاعرے کامیاب ہو سکتے ہیں ایک دوسرے کے لئے دلوں میں اتنی جگہ پیدا کی جائے کہ ادبی دنیا میں ہر نئے آنیوالے کے لئے دلوں میں وسعت پیدا کی جا سکے –
شہر لاہور سے میرے محبی و مہربان و محبتی ہمہ جہت لیونگ لیجنڈ عطا الحق قاسمی گھٹنوں کی سرجری کے باوجود بھی شریک ہوئے ان کے جملے اب بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں ” قمر یار ہے تو تکلیف لیکن میں آواں ای آواں ” اور وہ آئے اور چھا گئے. عباس تابش, قمر رضا شہزاد,کاشف مصطفی،سید سلمان گیلانی،یوسف خالد, وقاص عزیز،سعد اللہ شاہ،تہذیب حافی،خرم آفاق،اسد رضوی، علی زریون،ابرار ندیم،نبیل نجم،ڈاکڑ سلیمان عبداللہ ڈار،یونس تحسین،ثاقب تبسم ثاقب،شکیل خان آفریدی اور ادریس قریشی نے بھی محفل کی رونق کو خوب دوبالا کیا
بابر بلال اور میرے بھائی اکمل سیف چٹھہ بے حد مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جن کے ارادے پر اس شام سخن کا اہتمام کیا گیا اور بابر بلال اور ہوم اسکولز بھی اس بڑی تقریب کی میزبانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اس اسکول کی یہ بڑی ایک بہت بڑی تقریب تھی جہاں شہر بھر سے لوگ اس میں شریک ہوئے وہیں اسکول ٹیچرز سے لے کر بچوں کے والدین بھی بہت شوق اور انہماک سے آخر تک مشاعرے میں شریک رہے بابر بلال کی صلاحیتوں کے اکمل سیف چٹھہ تو قائل ہیں ہی ہم بھی قائل ہو گئے البتہ اگر اسکول کی کنٹین پر کھانے کی اشیاء کے ساتھ چائے کے انتظامات بھی ہو جاتا تو بہت سارے دوستوں کا گلہ دور ہو جاتا – اللہ تعالی ہوم اسکولز کو مزید ترقی دے –
مجھے علم ہے کہ تحریر بہت لمبی ہو چکی ہے مگر مجھے سب دوستوں کا بطور میزبان شکریہ ادا کرنا تھا اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا سید مستجاب زیدی کا میں دن بدن گرویدہ ہوتا جا رہا ہوں انتظامی اور صحافتی صلاحیتوں سے بھرپور ہمارے علاقے کی نامور کاروباری شخصیت جو جس بھی تقریب میں موجود ہوں یا اس کے انتظامی معاملات میں انہیں جگہ دی جائے ان کے مشوروں سے اور اقدامات سے معمولی غلطیاں بھی درست ہو جاتی ہیں شاہ جی سلامت رہیں آپکے دم قدم سے علی پور چٹھہ میں رونقیں آباد ہیں
وسیم شیخ، ناصر کٹرا، سرفراز احمد، عبدالکریم چوہدری، طارق چوہدری، رفاقت جنید مرزا اور مظفر زیدی کئی سالوں سے علی پور چٹھہ میں صحافتی رپورٹنگ کر رہے ہیں اور کئی مسائل کے ساتھ یہاں کی تقاریب کو پاکستان بھر کے میڈیا پر لے کر آنے میں ان کا بڑا کردار ہے جس سے علی پور چٹھہ کا نام بھرپور طریقے سے متعارف ہو رہا ہے –
سب سے زیادہ جو ہمارے مہمانوں کا گلہ رہا وہ اس شہر کو آتی ہوئی سڑکیں تھی جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں بس ہماری کسمپرسی دیکھیئے کہ سیاسی حکومتیں ہونے کے باوجود کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا اخلاق حیدر چٹھہ ہمارے علی پور چٹھہ کا وہ سپوت ہے جس نے حال ہی میں تحصیل بناو تحریک سیمینار کا انعقاد کیا اور لوگوں کو احساس دلایا کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں یہ سیمینار بہت کامیاب رہا اور ان شاء اللہ جلد یا بدیر اگر علی پور چٹھہ کو تحصیل کا درجہ دے دیا جاتا ہے تو اس سے جڑے کئی مسائل حل ہونے کی امید ہے اور ہو سکتا اگلے چند سالوں میں ہم کسی بڑیمشاعرے کا انعقاد کریں تو یہاں کی سڑکیں بن چکی ہوں –
رانا رضوان اختر، پروفیسر ارشد، ڈاکٹر جاوید اقبال تبسم، ڈاکٹر عاصم عاطف، تبسم اورنگ زیب چٹھہ، جاوید تابی، ناصر ادیب شائق، ڈاکٹر نبی احمد، نوید یعقوب ، تبریز اکرم، شفیق احمد خاں اور محسن منیر کے علاوہ کئی علم و ادب سے بے حد رغبت رکھنے والی شخصیات بھی اس شام سخن میں آخر تک موجود رہیں – محسن منیر نے ہمیشہ کی طرح انتظامات میں بہت ساتھ دیا –
آخر میں بتاتا چلوں کہ کھانے کی لذت جس کا سب دوستوں نے ذکر کیا اس کا سہرہ میرے چھوٹے بھائی اسد ریاض اور کزن چوہدری افضال کے سر ہے جنہوں نے بہترین انتظامات کر رکھے تھے – اس مشاعرہ میں خصوصی نعت جناب سید لیاقت الحسن گیلانی نے پیش کی جن کی خوبصورت آواز اور ادائیگی کو بہت سراہا گیا – اس علی پور چٹھہ کے یادگار اور تاریخی مشاعرے کو مدتوں یاد رکھا جائے گا –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com