یوم تاسیس احرارکی تقریبات کا احوال

حکیم حافظ محمدقاسم
یوم تاسیس احرارکی تقریبات کا احوال
برصغیر سے برطانوی سامراج کے انخلاء اور عقیدہ ٔ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دینے والی ایثا ر پیشہ جماعت ’’مجلس احراراسلام‘‘نے اپنے نوے سال پورے ہونے پر 29دسمبر 2019اتوار کوملک بھر میں ’’یوم تاسیس احرار کو نئے ولولے اورجوش وخروش کے ساتھ منایااورپرچم کشائی کی تقریبات منعقدکیں جس سے محسوس ہوتاہے کہ احرار کروٹ لے رہے ہیں۔احرار کی نئی قیادت نئے عزم وہمت اور صبرو استقلا ل کے ساتھ آگے بڑھتی نظر آرہی ہے اور اپنے اصول ومقاصد کے علاوہ زمینی حقائق کی روشنی میں بڑ امتوازن مؤقف لے کرچل رہی ہے گزشتہ29 دسمبر اتوار کو قائد احرارسید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ العالی کی سرپرستی میں ملک بھر میں سخت سردی کے باوجود یوم تاسیس احرا ر کے اجتماعات وتقریبات جگہ جگہ منعقدہ ہوئیںمجلس احراراسلام کے مرکزی دفتر نیومسلم ٹائون لاہورمیں لاہورجماعت کے امیرحاجی محمدلطیف کی صدارت میں یوم تاسیس کے حوالے سے تقریب پرچم کشائی صبح11:00بجے منعقدہوئی جس کے مہمان خصوصی پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہدالراشدی تھے اس موقع پرمرکزی دفترکوسرخ ہلالی پر چموں سے سجایا گیا تھا احرارکارکنوں نے سخت سردی کے باوجودبھرپورشرکت کی ،تقریب سے مختلف علماء کرام نے خطاب کیااور احرار کی تاریخ پر روشنی ڈالی ۔مولانا زاہدالراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں مجلس احراراسلام کا ایک ادنیٰ سا کارکن ہوں مجلس احرارنے 1935ء میں کوئٹہ میں آنے والے تباہ کن زلزلہ میں زلزلہ زدگان کی بحالی میں اہم کردار اداکیاتھا ، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ پاکستانی قوانین میں ردوبدل کرناچاہتی ہیں لیکن ہم سب مل کر ان کو ایسا کبھی نہیں کرنے دیں گے ،انگریز وں نے ہمارے اوپر سرمایہ دارانہ وجاگیردارانہ نظام مسلط کیا ۔ پہلے ہم ہندوبنئے کے شکنجے میں تھے اوراب ہم کلمہ پڑھنے والے بنئے کے شکنجے میں ہیں ،مجلس احراراسلام عام طبقاتی عوام کی ترجمانی کرنے والی جماعت ہے اس جماعت نے انگریز سامراج اور ڈوگرہ سامراج کے خلاف عوام کو آزادی کی زبان دی تھی۔ قادیانیت کے شیش محل میں زلزلہ برپاکرنے والی مجلس احرار کے کارنامے ہمیشہ تاریخ کاحصہ رہیں گے ۔حافظ محمدعابد مسعودڈوگر نے کہاکہ تاریخ کا مصنف مجلس احرار کے کردار کو ضرورلکھے گا،جھوٹی نبوت کے مرکز قادیان میں پہنچ کر ہمارے اکابر نے قادیانیوںکو دعوت حق دی تھی۔1940ء سے 1946ء تک ہمارے اکابر نے سٹریٹ پاور پر فوکس کیا۔1949ء میں جماعت نے اپنی سیاسی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت پر کام کرنے کا عہد کیاانتخابی سیاست سے خود کوعلیحدہ کرلیاگیا1958ء میں جماعت سے پابندی ختم کردی گئی تو امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے خودمجلس احرارکا پرچم لہر ایااورجماعت کی بحالی کا اعلان کیا۔قاری محمدقاسم نے کہاکہ ہماری جماعت کا مؤقف تھا کہ انگریز ہندوستان سے نکل جائے اور مسلمانوںسے چھیناہوا اقتدار واپس کردے،ہماری جماعت پاکستان بنانے کی مخالف نہیں تھی،بلکہ اس کی سیاسی تقسیم میں اختلاف رائے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد بنانے پراختلاف ہوسکتاہے لیکن بن جائے تو پھر کوئی اختلاف نہیں رہتا ہے امیرشریعت نے کہاتھا کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ہم اپنی جانوں کی قربانی بھی دینے کے لیے تیار ہیں،مجلس احراراسلام حکومت الہٰیہ کے قیام تک اپنی پر امن جدوجہد کو جاری رکھے گی، قادیانیت اور سامراج دشمنی ہماری گھٹی میں شامل ہے ۔۔چیچہ وطنی کے زونل آفس احرار میں صبح سب سے پہلے دارالعلوم ختم نبوت کے طلبہ نعتیں،نظمیں اورتقریریںپیش کیں ،تقریب کا باقاعدہ آغاز 9:15بجے صبح ہوا۔مجلس احراراسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے چیچہ وطنی اور ساہیوال میں تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے سی آئی اے کے فندز سے چلنے والے ادارے یو ایس انسٹیٹوٹ آف پیس کے ایشاء سنٹر کے مطابق نائب صدر اورامریکی شہری ڈاکٹر معید یوسف کوقومی سلامتی ڈویژن اوراسٹیریجک پالیسی پلاننگ کے معاون خصوصی بنالیاہے جوہماری قومی سلامتی کے لیے بڑاخطرہ ہے۔انہوںنے کہاکہ امریکی تسلط سے جان چھڑانا قومی تقاضاہے ۔سابق صدر اور ڈکٹیٹر پر ویز مشرف کے بارے میں آنے والا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہیے اوراس فیصلے کے خلاف مہم جوئی آئین وقانون سے ماوراہے ۔انہوںنے کہا کہ پرویزمشرف کے دورحکومت کے مظالم ،انسانیت سوز سلوک ماورائے آئین اقدامات ،لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے معصوم طالبات اور علماء ومدرسین کا قتل عام اورلال مسجد کی دیواروں پرچپکے انسانی لوتھڑے کسی صور ت نہیں بھلائے جاسکتے نہ ہی معاف کیاجاسکتاہے۔چیچہ وطنی کے سماجی رہنما شیخ عبدالغنی ،مولانا احمدہاشمی،پیرجی عزیز الرحمن رائے پوری،مولانا محمد سرفرازمعاویہ ،حکیم محمد قاسم،بابائے صحافت رانا عبداللطیف ،ماہر تعلیم محمود احمد محمود،مولانامنظوراحمد اورکئی دیگر شخصیات نے شرکت و خطاب کیابعدازاں ختم نبوت سنٹر آبپارہ ٹائون ساہیوال میں منعقد ہونے والی تقریب تاسیس احرارجامعہ رشیدیہ ساہیوال کے مہتم مولاناکلیم اللہ رشیدی کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ساہیوال ڈویژن کے تعلیمی اداروںاور مدارس کے طلباء کے مابین’’عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ‘‘کے عنوان پر تقریری مقابلہ بھی ہوا اور مقابلہ جیتنے والے طلباء میں گرانقدر انعامات تقسیم کیے گئے جبکہ ختم نبوت خط وکتابت کورس مکمل کرنے والوں کو اسناد عطا کی گئیں۔اس موقع پر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر رحمت اللہ وٹو،جمعیت علماء اسلام کے ضلعی امیر چودھری ضیاء الحق اور مولانامحمداسماعیل قطری ،مسلم لیگ ن کے رہنما حاجی احسان الحق ادریس،بزم رضاکے چیئرمین شیخ اعجاز احمدرضا،قاری بشیر احمد رحیمی،قاری سعید ابن شہید،قاری عتیق الرحمن،مولانا شاہد عمران عارفی،پروفیسر مسعودالرحمن رشیدی،مولانا محمد عابد رشیدی،مولانا اسامہ عزیر اور دیگر شخصیات نے شرکت وخطاب کیا ۔چناب نگر (ربوہ)میں پرچم کشائی کی تقریب سے جامع مسجد احرار کے خطیب مولانا محمد مغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قادیانیوں اورملک دشمن عناصرکو پرموٹ کیاجارہاہے اور دشمن ہمارے ایٹمی پر وگرام کی تاک میں ہے ۔ برطانوی سامراج کیخلاف جدوجہد آزادی کے ہیروز کا نصاب تعلیم میں تذکرہ کیاجائے اور قادیانیوں کے بارے میں بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کروایاجائے ۔ملتان میں مرکزی تقریبِ پرچم کشائی نائب امیر سید محمد کفیل بخاری کی زیر صدارت مرکز احرار دار بنی ہاشم ملتان میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے نواسہء امیر شریعت سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ مجلس احرا ر اسلام اپنے قیام سے لے کر آج تک عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ احرار نے اپنا 90 سالہ پر امن آئینی و قانونی جدو جہد کا سفر عزم و ہمت اور جرات واستقامت کے ساتھ طے کیا۔ احرار روز اوّل سے حکومت الٰہیہ کے قیام، عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد اور قادیانیوں سمیت تمام غیر مسلم اقلیتوں کو دعوت اسلام کا فریضہ دہراتی چلی آرہی ہے۔ اور آئندہ بھی احرار اپنی اس پر امن دعوت کو جاری رکھے گی۔ وطن عزیز پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ ہم سب کا قومی فریضہ ہے۔ قادیانی ملک کی سلامتی کے لیے روز اول سے خطرہ ہیں۔ جب تک محب وطن احرار کارکن اور دیگر پاکستانی زندہ ہیں قادیانیوں کا اکھنڈ بھارت کا خواب کبھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین پاکستان میں موجود اسلامی دفعات اور تعزیرات پاکستان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے کیونکہ اسی میں وطن عزیز کی بقا اور سلامتی مضمر ہے۔ سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ آئین پاکستان قومی وحدت اور ملکی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ماورائے آئین اقدامات اور سرگرمیاں وطن عزیز تمام مسالک کے لیے کھلے ہیں۔ اقلیتوں کو بھی آئین کے مطابق قومی دھارے میں ساتھ لے کر چلیں گے۔ کشمیر میں مودی حکومت کے مظالم اور بھارت میں متنازعہ شہریت بل نے بھارتی سیکولرازم کی قلعی کھول دی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ اب بھارت میں ایک اور پاکستان بننے جارہاہے۔۔انہوں نے کہاکہ احرارسرفروشوں نے برطانوی سامراج کو ہندوستان سے نکال باہر کیاتھا اب وقت ہے کہ قوم امریکی تسلط کیخلاف یک جان ہوجائے ۔انہوںنے کہاکہ اقتصادی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ڈکٹیشن پربن رہی ہیں ۔معاشی طور پر ملک دیوالیہ ہوچکاہے ۔تقریب سے مجلس احرار اسلام کے مرکزی رہنما مولانا سید عطاء المنان بخاری، ضلعی امیر مولانا محمد اکمل، سیکرٹری اطلاعات فرحان حقانی، شیخ حسین اختر لدھیانوی، حافظ احمد رشید، حافظ محمد اکرم احرار، قاری عبد الرحمن ملتانی اور حافظ عمر فاروق نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان اور احرار کے پرچم لہرائے گئے اور وطن عزیز کی سلامتی کے لیے دعاء کی گئی۔رحیم یار خان میں مجلس اھراراسلام کے مرکزی رہنما سید عطاء اللہ نے پرچم کی دلفریب سے خطاب کیا،اورر تحریک آزادی ،تحریک ختم نبوت اور تحریک احرار اوپر تفصیلی روشنی ڈالی۔جبکہ کراچی میں اس سلسلہ میں دوتقریبات منعقدہوئیں ۔پہلی تقریب 27دسمبر کو بعد نماز عشاء مدرسہ سیف الاسلام ناظم آباد میں قاری علی شیر قادری کی میزبانی اور بابائے احرارمحمد شفیع الرحمن احرارکی زیرنگرانی ہوئی ،جس سے مرکزی سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالدچیمہ نے ٹیلی فونک خطاب کیا ،دوسری تقریب29دسمبرکو بعدنمازظہر مجلس احراراسلام کراچی کے دفتر میٹروول سائیٹ ایریا میں حضرت مولانا مفتی عطاء الرحمن قریشی کی میزبانی میں منعقد ہوئی اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اوروطن عزیز کی سلامتی کے لیے تجدید عہدکیاگیا۔
اس کے علاوہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ، تلہ گنگ ،گجرات ،بوریوالہ،راولاکوٹ آزادکشمیر اورکئی دیگر شہروں میں یوم تاسیس احرارشایان شان طریقے سے مناباگیاجن میں احرار رہنمائوں اور دیگر دینی وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں مجلس احرار اسلام کے جرأت مندانہ 90سالہ روشن کردار پرروشنی ڈالی۔علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانافضل الرحمن نے مجلس احراراسلام کے نائب امیر سید محمد کفیل بخاری کوٹیلی فون کرکے یوم تاسیس پر مبارک باد پیش کی اورکہاکہ جمعیت علمائے اسلام اور مجلس احرار اسلام کی باہمی محبت و اشتراک عمل قائم رہنا چاہیے۔ اس موقع پر مجلس احرار اسلام پاکستان کے مرکزی نائب صدر سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ احرار مذہبی جماعتوں کی فطری حلیف ہے اور ختم نبوت و ناموس رسالت کے محاذ پر احرار کارکن جمعیت علمائے اسلام کی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احرار اور جمعیت ایک ہی چمن کے پھول ہیں، ان پھولوں کی مہک سے یہ چمن معطر رہے گا۔دعاہے کہ اللہ تعالیٰ مجلس احرار اسلام پاکستان کی قیادت کو الوالعزمی کے ساتھ اپنے اکابر کے افکار ونظریات کو آگے بڑھانے کی توفیق عطافرمائے اوریہ ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com