ابھرتی نظریہ ضرورت،ڈوبتے سیاسی نعرے

ابھرتی نظریہ ضرورت،ڈوبتے سیاسی نعرے ۔۔۔!
عرفان مصطفٰی صحرائی
پاکستان میں حکمران ڈکٹیٹرہو یا جمہوری قیادت،عوام سے ایک جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ان کی جانب سے عوام کو اداروںکی مضبوطی،صحت،تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو مشن بتایا گیا۔کسی نے روٹی،کپڑا اور مکان کاجھانسا دیاتو کسی نے عوام کو حقوق ان کی دہلیز پر پہنچانے کا دعویٰ کیا۔کیوں کہ ہم من حیث القوم شخصیت پرست واقع ہوئے ہیں،اسی لئے عرصے سے خوابوں کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جن شخصیات سے عشق کر رہے ہیں،ان کی سیاست سمجھوتوں کی پیداوار ہے۔انہوں نے اگرکسی معاملے پر مزاحمت کی،وہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت کی ہے۔جب بھی ان کے پائوں جلتے ہیں، عوام کے سامنے نیلسن منڈیلا یا ابراہام لنکن بن کر پیش ہونے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔اگر کبھی عوام کی خاطر وقت اور حالات گرم ہوئے تو ان سے یہ تپش برداشت نہ ہو سکی۔جب ان کے اپنے پائوں جلے تو انہوں نے فوراً’’اینٹ سے اینٹ بجانے‘‘ اور ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگا دیئے۔اپنا مفاد نظر آیا تو ’’پاکستان کھپے‘‘کہہ دیا اور اگر ہاتھ شکنجے میں آنے لگا تو سندھ کارڈ کی باتیں شروع کر دی گئی،لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام کو اپنے نعروں کے پیچھے لگا لینے میں ان کا قصور نہیں ہے بلکہ قصور عوام کا ہے جنہیں ان میں دیوتا پن نظر آتا ہے۔
عمران خان نے بھی کوئی انوکھاکام نہیں کیا۔انہوں نے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا ،انہیں خوابوں کی دنیا کی اتنی بلندی سے سیر کروائی،جہاں زمینی حقائق نام کی کوئی شے موجود نہ تھی ۔جیسے میاں نواز شریف نے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرہ لگا کر سویلین بالا دستی کا خواب دیکھایا،مگر یہ وہ خواب ہے جو کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔اگر یہ کہا جائے کہ ہم اس خواب کی تعبیر کیوں حاصل نہیں کر سکتے؟اس کا جواب ہے کہ ہمارے ملک کی فوج ایک حقیقت ہے۔جمہوریت پسندوں نے فوجی ادارے کو ملکی سیاست میں بار بار ملوث کیا ہے،آج بھی سلسلہ جوں کا توں ہے۔کیوں کہ ہماری نیت میں فتور ہے۔ہم نے سویلین بالادستی کے لئے درست طریقہ کار اور صحیح راستہ اختیار ہی نہیں کیا۔جب سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہو گی وہاں موروثی بالا دستی عروج پر ہو گی ۔ان حالات میں ملک کی حکمرانی میں جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے۔۔۔؟جب اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچے تو عوامی بالادستی کی باتیں اور اگر مفاد کا حصول مقصود ہو تو پارلیمنٹ میں آرمی ایکٹ کی ترمیم پر تمام سیاسی پارٹیوں کی ہم آہنگی مثالی ہوتی ہے۔ملک کی اہم ترین سیاسی پارٹیوں نے آرمی ایکٹ کی ترمیم میں بھر پور حصہ لے کر کوئی انوکھا کارنامہ انجام نہیں دیا یہ ماضی کے تسلسل کا ایک حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے ادارے کمزور اور افراد مضبوط ہیں،اسی لئے ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ہے ۔میرٹ کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہے۔اس کا نتیجہ گروہ بندی اور تعصب کی صورت میں سامنے آتا ہے،یعنی انفرادی مفاد اجتماعی مفاد پر مقدم رکھا جاتا ہے۔حالاں کہ ہم اس روش کا خمیازہ 1971ء میں بھگت چکے ہیں،مگر ہم ماضی سے سیکھنے کے عادی نہیں اور مسلسل اسی راستے پر رواں دواں ہیں جس پر ملک ٹوٹا تھا۔
فوج کیوں اپنے آپ کو سویلین سے بالا دست سمجھتی ہے؟اس کی دو وجوہات ہیں ،ایک فوج ایسا ادارہ ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے۔دوسرا میرٹ کی ممکنہ طور پر پاسداری کی جاتی ہے۔ایک معمولی حیثیت کا انسان بھی چیف آف آرمی سٹاف بن سکتا ہے۔لیکن جمہوریت کے نام پر سیاست کرنے والی سیاسی پارٹیوں میں ممکن نہیں کہ عام آدمی وزیر یا وزیر اعظم بن سکے۔
عدلیہ اور فوج جیسے بڑے اداروں میں سیاست کا عمل دخل ملک و قوم کے لئے انتہائی نقصاندہ ہوتا ہے۔ملک و قوم کو اس کا خمیازہ ماضی میں بار بار بھگتنا بھی پڑا ہے۔دنوں محکموں میں چیف کی تعیناتی کو سینیارٹی پر لازم کرنا ضروری ہے۔ان اداروں کو آزادی اور خودمختاری سے کام سر انجام دینا چاہیے ۔لیکن ہمارے سیاستدان ہی فوج کو اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
جب وفاقی وزیر فیصل وائوڈا فوج کی خوشامدی میں اتنے آگے بڑھ جائیں کہ برملا حسد کا اظہار کرنا شروع کر دیں۔ان کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بوٹ چاٹنا تو ان کا کام تھا اور اس میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی نے بڑا حصہ ڈال کران کی تمام پلاننگ خراب کر دی ہے۔فیصل وائوڈا کی حرکت نے فوج کے سامنے تسلیم خم کے حوالے سے حکمرانوں کے ڈرامے کی منظر نامے کوصاف کر دیا ہے۔پہلے سمجھا جا رہا تھا کہ حکومت نے آرمی چیف کی توسیع کے بارے میں جو سمری بنائی وہ غیر دانستہ غلط ہو گئی تھی،دوسری سمری نا اہلی سمجھی گئی۔حکمرانوں کا خیال تھا کہ سمریاں غلط بنانے سے معاملہ ان کے لئے فائدہ مند ثابت ہو گا،لیکن جب ایسا نہیں ہوا تو پریشانی لا حق ہوئی،پھر عدالت کے حکم کے مطابق آرمی چیف کے عہدے کی توسیع پر قانون نہیں تھا ،عدالت نے اس معاملے کو پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔اس پر حکومت خوش ہو گئی کہ اب فوج سے وفاداری میں بازی اور اپوزیشن کو ان کی نظر میں برا بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔جس کی تیاری اس انداز میں کی گئی کہ شیخ رشید اور فیصل وائوڈا جیسے وزراء نے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔یہ سب اس لئے کیا گیا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی آرمی ایکٹ کی منظوری کے حق میں ووٹ نہ دیں اور اس کے نتیجے میں اس ایکٹ کا تمام کریڈٹ تحریک انصاف کی قیادت کے پلڑے میں گرے،مگر ایکٹ پاس کروانے والوں نے حکومتی ارادوںکو بھانپ کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے رابطے استوار کئے ۔جس کے نتیجے میں آرمی ایکٹ اکثریت کے ساتھ پاس ہوا۔یوں حکومت کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔اس عمل پر عمران خان سے لے کر بہت سے تحریک انصاف کے لوگوں کو دونوںبڑی سیاسی پارٹیوں پر غصہ ہے ۔انہیں توقع نہیں تھی کہ یہ دونوں پارٹیاں بل کی حمایت میں آرام سے مان جائیں گی۔لیکن یہ دونوں ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ پارٹیاں رہی ہیں،یہ سنہرا موقع کیسے چھوڑ سکتی تھیں ۔انہیں کسی طعنے یا کارکنوں کی ناراضگی کا فکر نہیں تھا۔آئین کی بالا دستی اور جمہوریت کی بحالی کے دعویدار نے وفاداری میں ریس جیت لی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں اس وقت این آر او ملاجب عمران خان بلندو بانگ دعوے کرتے تھے کہ مر جائوں کا این آر او نہیں دوں گا،لیکن ان کی پیٹھ پیچھے این آراوز کی ماں دیا گیا۔اب تو سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو تین ماہ تک نیب کے قوانین میں ترمیم کا حکم دیا ہے۔اس وقت تک نیب پلی بارگین نہیں کر سکتی ۔عمران خان کی ’’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘‘کی گردان ملک ریاض کے لندن میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر ختم ہوئی۔اب ملک ریاض عمران خان کے اپنے تھے۔ان پر آنچ تو نہیں آنے دی جاسکتی تھی۔اسی لئے ان کی برطانیہ میں ڈیل کروائی گئی،جسے اس لئے چھپانا پڑا کہ اگر یہ ڈیل منظر عام ہو جاتی تو بہت سی حکومتی شخصیات سرِ عام بدنام ہو جاتیں ۔
موجودہ حکمران طبقہ ماضی سے بھی کرپٹ ٹولہ ہے ۔فیصل وائوڈا سے ابھی تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کے لندن میں خریدے گئے چھے فلیٹوں کے بارے میں بتائوں کہ یہ کیسے خریدے گئے ہیں ۔اسی وجوہات کی وجہ سے فیصل وائوڈا جیسے لوگ بوٹوں کو عزت دینے میں اپنا ثانی برداشت نہیں کر سکتے ۔ایسے نظام اور اس طرح کے لوگوں کی حکمرانی میں ریاست کے حالات کیوں کر ٹھیک ہو سکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com