احساس کمتری کے ماروں کی نفسیات | تحریر۔قدسیہ انار ملک

اختیارات انسان کے ظرف اور حوصلے کا امتحان ہیں۔ اکثر لوگ اس امتحان میں ناکام ہیں اکثر دیکھا گیا کہ آفیسران صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے ضرورتمند کو بٹھا رکھتے ہیں۔ کچھ تو اس کی عزت نفس کے ساتھ اس کی جیب پہ بھی نظر رکھتے ہیں۔دفاتر میں اس قسم کے لوگ جاتے ہیں دفتر یا شعبہ سے متعلقہ اہلکار ماتحت عملہ شکایت کرنے والے یا جن کے خلاف شکایت ہوتی ہے۔اور عموما ان کے تادیب یا ازالے کا سطحی رویہ اپنایا جاتا ہے۔اکثرکلرک آفیسر اور چپڑاسی تک اپنی اپنی کسر نکال لیتے ہیں۔میڈیا کی آزادی یا شکایت کا کہیں خوف ہو تو پھر یہ کام ماتھے کی سلوٹوں اور لہجوں کی تلخیوں سے لیا جاتا ہے۔ آپ بہت کم دفاتر کے عملہ و آفیسران کو اعلی ظرف پائیں گے۔وہ بھی دیکھے گئے ہیں جو
بظاہر رشوت و ھدیے نہیں دیتے لیتے لیکن اپنی انا اور آفیسری کے شیطان کے لیے سائل کی عزت نفس سے خراج ضرور لیتے ہیں۔انسان کی پہچان اور پرکھ کے لیے اچھے اور برے حالات کسوٹی ہیں۔برے حالات میں خالق و مخلوق کے شکوے اور اچھے حالات میں مخلوق خدا سے اچھا سلوک نہ کرنا انکی مجبوریوں سے کھیلناانسان کی اخلاقی حثیت کا ٹیسٹ ہے۔اس بیوروکریٹک نفسیات کا مظاہرہ ھم ہر سطح زندگی پہ دیکھتے ہیں۔لیکن جب تعلیم جیسے مقدس پیشہ سے وابستہ لوگوں کی اخلاقی مفلسی سامنے آتی ہے تو اور دکھ ہوتا ہے جنھیں اچھی مثال بننا ہوتا ہے وہ اتنے کمتر رویوں کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں کہ گھن آتی ہے۔خاص طور پہ خواتین کے ساتھ روابط رکھے گے رویے زیادہ قابل اعتراض ہوتے ہیں۔ کئی بار انٹرویوز۔ انکوریز یا اپنے کام کے سلسلے یں آنے والی خواتین کو معمول سے زیادہ روکے رکھنا یا اس کے کام کو جلد انجام دے کر احسان جتانا۔مزید روابط اور لنک جوڑنا اصولی طور پہ یہ ہراسانی کی ایک شکل ہے۔کئی مواقع پہ خواتین اپنی معاشی اور صنفی مجبوروں کی وجہ سے اس پہ مناسب رد عمل بھی نہیں دے سکتیں،جس سے اس نوعیت کے مریضانہ رویوں کے حامل آفیسران مزید اپنی احساس کمتری کی ماری فطرت کا نزلہ گرانے لگتے ہیں۔مرد عورت کی تخصیص کے بغیر یہ ایک نفسیات سامنے آئی ہے۔عہدے پہ اگر کوئی خاتون بھی ہو تو وہ بھی کم و بے پیش ایسے ہی طرزعمل کے ساتھ نظر آئے گی۔میں اسے بچہ سقہ بیوروکریٹک نفسیات کہوں گی جو حکمرانی کے لیے ترستے غلاموں کی نفسیات ہوتی ہے۔اس نفسیات کی تعمیر و تشکیل میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا سامراجی فیض بھی شامل ہے۔میری تجویز ہے تمام محکموں کے بالعموم اور محکمہ تعلیم کو آفسران کادیب بالخصوص نفسیاتی ٹیسٹ لیا جائے اور پھر ان کی تربیت کا مصاب تشکیل دے کر مسائل کے حل اور دفتری امور بارے انھیں ایماندارنہ اور بہترین انسانی رویوں کے ساتھ اپنے اداروں کو چلانے اور لوگوں کو ڈیل کرنے کا طریقہ سکھایا جائے ورنہ بہت سے ذھنی مریض یونہی انسانی عزت نفس سے کھیلتے رہیں گے اس معاملے میں سائلین و ایمپلائیزمرد و خواتین کی بھی کمزوریاں ہیں لیکن اکثر بے بس ہوتے ہیں کیونکہ اپنی یا دوسروں کی عزت نفس کو بچاتے ہوئے ان کا رزق اور جان داؤ پر لگ جاتی ہے۔میں ظرف کی بات بچے کھچے ظرف پہ دستک کی غرض سے کرنے لگی ہوں۔دیکھیے دریا قطرہ بنتا ہے یا سمندر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com