تعلیم ہی ہمارا بہترین اثاثہ ہے

تحریر: شفاعت علی مرزاؔ
تعلیم ہی ہمارا بہترین اثاثہ ہے
تعلیم کا حصول ہر انسان کے لئے بے حد ضروری ہے۔ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب دونوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا وقت کی اہم اور بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ بہتر سے بہتر تعلیم کا حصول انسان کا بنیادی حق بھی ہے جو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا۔ دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم، ملک یا معاشرے کی ترقی کی ضامن ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول،کالج یا یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اورا قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے۔ دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے کم ہوتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اور اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔ آج کے اس جدید دور میں تعلیم ہی کی وجہ سے انسان ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اورٹیکنالوجی کی ترقی کا دور ہے، یہ سب تعلیم ہی کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔جدید دوری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کیلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے۔ اسی تعلیم کی وجہ سے انسان میں اللہ کی وحدانیت،اس کی عبادت،مخلوق خدا سے محبت و خلوص، ایثارو قربانی، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے ایک اچھا امن پسند اور انصاف پسند معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ تعلیم کا اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی،جسمانی اور روحانی نشونما کرنا ہے۔
تعلیم کے حصول کیلئے قابل اساتذہ کا ہونا بھی بے حد ضروری ہیں ہے جو بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ استاد وہ نہیں جو محض کتابوں سے پڑھا کر اپنے فرائض سے دستبردار ہوجاتا ہے بلکہ استاد وہ ہے جو طلبا و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور،علم و آگہی اور فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جو اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سرانجام دیتے ہیں ان کے شاگرد ان کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس مکمل طور پر بدنام ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ پیشہ صرف زیادہ آمدنی کے حصول کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ کل تک حصول علم کا مقصد انسان کی ذہنی و روحانی اور اخلاقی نشوونما کرنا تھا۔ مگر آج تعلیم کو زیادہ نمبروں اور بڑی سے بڑی ڈگری لے کر اچھی نوکری حاصل کرکے امیر ہونے کے لئے حاصل کیا جاتا ہے۔ نمبروں اور ڈگریوں کے حصول کے لئے سمجھ کر پڑھنے کے بجائے رٹہ سسٹم آگیا ہے۔ طلباء و طالبات رٹہ لگا کے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں باقی سب پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے مالکان بھی اپنا بنک بیلنس بڑھانے اور اپنے ادارے کا نام بنانے کے لئے تعلیمی نظام کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں کا تعلیمی معیار بالکل صفر ہے جبکہ فیسوں کے معاملے میں بہت آگے ہیں۔ اپنے ادارے کا نام بنانے کے لئے سکول مالکان کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ چند ہونہار طالب علموں پر توجہ دے کر کسی طریقے امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ چند طالب علم ہی ان کی کمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
قارئین! اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں۔ آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔ بلاشبہ ہمارے ادارے تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کے لئے بہت کوشش کر رہے ہیں۔ ان اداروں کو نظام تعلیم کو بہتر سے بہتر کرنے کی مزید کوشش کرنی چاہیئے تاکہ حقیقی و بنیادی تعلیم مستقبل کے ہر معمار تک لازمی پہنچ سکے۔ زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے۔ فطرت بشری سے مطابقت کی بناپر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک سے ملتے ہیں۔ چنانچہ عزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کیلئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے، اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوراس کا حصول کتنا ضروری ہے۔جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔ ایک نوجوان بچے کی قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہیں۔ توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں کیونکہ تعلیم ہی ہمارا بہترین اثاثہ ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائیں گے جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔ان شاء اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com