ڈاکٹر صاحب زیادہ جانتے ہیں!

عابد انور
بچپن میں کسی رسالے میں ایک لطیفہ پڑھا تھاجو اب حقیقت کی طرح عیاں ہے، اس وقت اس لطیفے سے زیادہ ہنسی نہیں آئی تھی اور بہت بے کار لطیفہ سمجھا تھا اس لطیفے کے اسی پہلو نے اس لطیفے کو میرے ذہن میں تازہ رکھا۔سوچتا تھا کہ ڈاکٹر اور عوام کیسے اتنے بے وقوف ہوسکتے ہیں،میں ہر چیز میں امکان کا پہلو تلاش کرتا ہوں، ایسا ہوسکتا ہے یا نہیں، یہ لطیفہ میرے امکان سے پہلو سے کوسوں دور تھا اس لئے میں اس لئے اس پر زیادہ ہنسی نہیں آئی تھی لیکن گزشتہ چھ برسوں کا عرصہ نے مجھے اس لطیفہ پر نہ صرف ہنسنے پر مجبور کردیا بلکہ اس میں امکان کا پہلو بھی بدیہی طور پر اور سورج کی طرح سچ دیکھا اور صرف دیکھا ہی نہیں ہے بلکہ اس پر شدت سے عمل ہوتے دیکھا ہے۔لطیفہ تو ہوبہو تو یاد نہیں ہے لیکن اس میں کیا تھا وہ اچھی طرح یاد ہے۔ لطیفہ کچھ یوں تھا کہ”ایک درانتی (بہار میں کچھ علاقہ میں اسے کچھیا بولتے ہیں جس سے دھان گیہوں اور گھاس پھوس کاٹا جاتا ہے)بہت گرم (دھوپ رکھے ہونے کی وجہ سے)ہوگیا تھاتو دیہاتی اسے گاؤں کے ڈاکٹر کے لے گیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب اسے بخار ہوگیا ہے اس کا علاج کردیجئے، ڈاکٹر نے اسے رسی سے باندھی اور اسے کنویں میں ڈال کر نکال لیا اور کہاکہ لو اس کا علاج ہوگیا، دیہاتی درانتی کو ٹھنڈا پاکر خوش ہوا اور چلا گیا کچھ عرصے کے بعد اس کے گھر میں کسی شخص کو بخار ہوگیا تو اس دیہاتی نے وہی ڈاکٹر کا طریقہ اپنایا اسے رسی سے باندھ کر کنویں میں ڈال کر نکال لیا، ٹھنڈ کی وجہ سے وہ اکڑ گیا اور بیہوش ہوگیا، دیہاتی نے جب دیکھا کہ وہ کچھ بول نہیں ہورہا ہے اور آنکھ بھی بند ہے تو ڈاکٹر کے پاس لے گیا اور ڈاکٹر نے کہااس کی موت ہوگئی، دیہاتی اس کے کریہ کرم کرنے کے لئے اسے ارتھی پر لٹاکر رام نام ستیہ ہے کا بولتے ہوئے شمشان گھاٹ لے جانے لگے، تو راستے میں اسے ہوش ہوگیا اور کہا کہ میں زندہ ہوں مجھے کہاں لے جارہے ہو، دیہاتیوں نے کہاکہ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ تم مر چکے ہواس لئے تمہارا انتم سنسکار کرنے جارہے ہیں، لیکن اس نے میں تو زندہ ہوں، تو دیہاتیوں نے کہ چپ بے، تو زیادہ جانتا ہے یا ڈاکٹر صاحب“
گزشتہ چھ برسوں کے حالات دیکھیں تواسی لطیفہ کے ارد گرد نظر آتے ہیں۔ پوری دنیا چیخ رہی ہے ملک کے ہر طرح کے حالات بہت خراب ہیں لیکن حکومت اور اکثیریتی عوام کا ایک بڑا طبقہ ماننے کے لئے تیار نہیں اور مخالفین سے یہی بات کہی جاتی ہے کہ تو ڈاکٹر صاحب زیادہ جانتے ہیں۔ملک کی معیشت منفی تقریباً  24فیصد نیچے چلی گئی ہے لیکن ’سب کچھ چنگا سی‘۔ تمام عالمی اداروں میں ہماری رینکنگ شرمندی کی حد تک گرچکی ہے لیکن اہل تکثریت کو اس کا احساس نہیں ہے اور اہل تکثیر کایہی کہنا ہے کہ ڈاکٹر زیادہ جانتے ہیں۔ باقی سب پروپیگنڈہ ہے۔ اسی نظریہ نے ملک کو بین الاقوامی سطحً پر ذلیل و خوار کیا ہے اور ملک کی وہ عزت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی لیکن ہمارے اہل وطن ڈاکٹر صاحب کو بھگوان مانتے ہیں۔ وہ ہر موضوع پر بھاشن (تقریر) جھاڑتے ہیں حالانکہ اس موضوع پر انہیں اے بی سی معلوم نہیں ہوتا لیکن یہاں کے لوگ انہیں سب سے بڑا گیانی (عالم) مانتے ہیں۔ ادب و احترام یہ عالم ہے کہ ان کے کہنے پر کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں، پڑھا لکھاکیا، جاہل کیا، استاذ کیا، پروفیسر کیا، ڈاکٹر کیا انجیئر کیا،آئی اے ایس افسر کیا، آئی پی ایس افسر، آئی ایف ایس کیا، سیاست داں کیا، وکیل کیا، جج کیا، نچلی عدالت کیا اونچی عدالت کیاسب ان کے آرزو کو پورا کرنے کے لئے نتمستک (سجدہ ریز) ہے۔سارا سسٹم ان کے عزم کی تکمیل کے لئے آئین و قانون کی دھجیاں اڑارہا ہے۔ الیکشن کمیشن، ای ڈی، سی بی آئی، آئی بی، انکم ٹیکس، این آئی آے اور این سی بی ان کے اشارے پر رقص کرنے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ اشارے کے بغیر محض منشا سمجھ کر ا ن کے مخالفین چڑھ دوڑتے ہیں جیسا کہ محاذ جنگ پر دشمنوں سے لڑتے ہیں۔ کیوں کہ صاحب ایسے ہی ڈاکٹر ہیں جو زندہ کو مردہ قرار دیتے ہیں اور پوری قوم سرخم تسلیم کرلیتی ہیں۔ دنیا چیختی رہی ہے کہ وہ مرا نہیں ہے زندہ ہے لیکن چوں کہ ڈاکٹر صاحب نے کہہ دیا ہے اس لئے میں نفی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پورا ملک اسی طرح کے حالات کی زد میں ہے اور ماہرین کا طبقہ کچھ بھی کہے لیکن کوئی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کیوں کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے۔
گزشتہ چھ برسوں کے ڈاکٹر صاحب کے کارنامے دیکھیں تو پوری طرح اڑیل رویے، کسی کے جذبات و خیالات کو نظر انداز کرنے کی فطرت،عوام کی بات نہ سننا اور اپنے طے کئے گئے نظریہ کو عوام پر تھوپنے کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ مسلم خواتین پر ظلم روکنے کے نام پر تین طلاق پر متعدد بار آرڈی نینس لیکر آئے، جب کہ پورے ملک کی مسلم خواتین نے پوری شدت سے احتجاج کیا اور پوری شدت کے ساتھ انسداد تین طلاق آرڈی نینس کی مخالت کی تھی۔مسلمانوں کی عائلی تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس کی مخالفت کی اور اس کی خواتین ونگ میں پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں، اس آرڈی نینس کے خلاف احتجاج اور کہا کہ وہ ہمارے حق میں نہیں ہے اور اس سے ہمارا گھر تباہ ہوجائے گا۔ تمام ماہرین قانون نے حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ اس سے معاشرہ تباہ ہوجائے گا۔ جے پور میں ہی مسلم خواتین اس کے خلاف چھ تا سات کلو میٹر لمبی ریلی نکالی تھی اور چار سے پانچھ لاکھ خواتین نے جمع ہوکر اس آرڈی نینس کے خلاف مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس آرڈی نینس کو واپس لے لیکن حکومت نے ان تمام لوگوں اور مسلم خواتین کے احتجاج کو نظر اندا ز کرتے ہوئے انسداد تین طلاق قانون پارلیمنٹ سے پاس کرایا اور صدر نے بھی آنافاناَ اس پر دستخط کردئے۔ کیوں کہ ڈاکٹر زیادہ جانتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ سال پانچ اگست (2019)کو پورے کشمیرمیں فوج اور نیم فوجی دستہ کو تعینات کرکے دفعہ 370اور دفعہ 35اے ختم کردیا۔ اسے اسمبلی سے منظوری لینی ضروری تھی لیکن چوں کہ ڈاکٹر صاحب زیادہ جانتے ہیں اس لئے اس نے بھی کسی کی بھی بات نہیں سنی اور نہ اسے ضروری سمجھا۔ بغیر کسی سے مشورہ کئے اور کشمیریوں سے پوچھے بغیر تکثیری جمہوریت کے دم پر پارلیمنٹ میں دفعہ 370اور 35 کی تنسیخ کا قانون پاس کردیا اور دلیل دی کہ یہ سب کشمیریوں کو ترقی اور حقوق و اختیارات دینے کے لئے کیا گیا ہے۔جب کہ 80 فیصدکشمیر دیگر ریاستوں کے معاملات کے مقابلے بہتر صورت تھا اور کشمیریوں نے اس تنسیخ کو ان کے حق پر شب مارنے اوران کے اختیارات پر ڈاکہ زنی سے تعبیر کیا تھااور ایک سال تک کشمیر بند رہا۔ امن و قانون کے نام پر کشمیریوں کے تمام راستے مسدود کردئے گئے، ہوائی سفر، زمینی سفر، ٹرین تمام چیزیں بند کردی گئی ہیں، راہل گاندھی سمیت اپوزیشن لیڈر کو وہاں جانے سے روک دیا گیا۔تمام بڑے رہنماؤں کو نظر بند یا جیل میں ڈال دیا گیا۔ کشمیری نوجوانوں کی بے تحاشہ گرفتاریاں ہوئیں۔ ایک سال کے اندر کشمیری معیشت کو 40ہزار سے زائد کا نقصان ہوا۔ لاکھوں طلبہ مقابلہ جاتی اور دیگر امتحا ن میں شرکت سے محروم ہوگئے لیکن اس کے باوجود کہاگیا ہے کہ کشمیر دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہاہے۔ زمین چھیننے اور تمام اختیارات سلب کرنے کی نیت سے کئے گئے اس فیصلے نے کشمیر کی تمام چیزوں کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ہندوستان کی شاخ پر سخت دھبہ لگا اور پور ی دنیا میں رسوائی ہوئی لیکن ڈاکٹر صاحب زیادہ جانتے ہیں۔گزشتہ سال 12دسمبر کو قومی شہریت (ترمیمی) قا نون پاس کروایا گیا اور اس کے خلاف پورے ملک کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ تین مہینے سے زائد شاہین باغ تحریک چلی اور اسی طرح طرز پر ملک میں کم و بیش چھ سو سے زائد جگہ خواتین کی تحریک چلی،ہزاروں ریلیاں ہوئیں ماہرین قانون نے بنیادی قانون اور بنیادی حقوق کے خلاف بتایا لیکن ڈاکٹر صاحب یہی کہتے رہے کہ یہ مسلمانوں کے حق میں ہے اور مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔ شہریت دینے کے لئے شہریت لینے کے لئے نہیں ہے۔نوٹ کی منسوخی اور جی یس ٹی بھی ڈاکٹرصاحب ایسے ہی کارناموں میں شامل ہے۔
اسی طرح گزشتہ 20ستمبر سے کسان تین زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب میں ریل روکو تحریک چلی، سڑک جام ہوئے اور احتجاج کے تمام طریقے اپنائے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے عالمی وبا کورونا کے دوران خاموشی سے جون میں تین زرعی آرڈی نینس لے آئے۔ جن کے لئے یہ قانون لیکر آئے تھے یعنی کسان ان سے کوئی صلاح و مشورہ تک نہیں کیا گیا۔ ان کے ساتھ کوئی میٹنگ نہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی تنظیم کے ساتھ کوئی تبادلہ خیال کیا گیا اور بالآخر ان تین زرعی قوانین کو پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا زبردستی،بزرو طاقت اور ضابطے کو طاق پر رکھتے ہوئے پاس کروالیا۔ اب ڈاکٹر صاحب اس پر بضد ہیں کہ یہ قوانین کے کسانوں کے مفادمیں ہیں۔ داکٹر صاحب کہتے ہیں کسانوں کوقانون کی سمجھ نہیں ہے، انہیں بہکایا جارہا ہے، انہیں ورغلایا جارہاہے، ان زرعی قوانین سے کسانوں کی آمدنی میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا،وہ خود کفیل ہوجائیں گے، انہیں اپنا اناج منڈی کے باہر اپنی مرضی سے فروخت کرنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔ کسانوں نے کہاکہ منڈی سے باہر فروخت کرنے کا اختیار اب بھی ان کے پاس ہے اور جہاں منڈی نظام نہیں ہے وہاں سے اپنی مرضی سے ہی کسان اناج فروخت کرتے ہیں اور وہ بنیوں اور ساہوکاروں کے ہاتھوں کم ازکم سہارا قیمت سے آدھے داموں پر اناج فروخت کرنے مجبور ہوتے ہیں۔ بنیے اور ساہوکار اپنی مرضی کے حساب سے اناج کی قیمت طے کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کا کسانوں کو اناج فروخت کرنے کے اختیار دینے سے یہی مطلب ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں دیگر صوبوں کے کسانوں سے بیدار ہیں اور وہ حکومت کی ہر چال سے واقف ہیں اس لئے انہوں نے گزشتہ 20 ستمبر سے احتجاج کر رہے ہیں اور جب حکومت نے کوئی سدھ نہیں لی تو وہ دہلی کوچ کرنے پر مجبور ہوئے اور اس وقت دہلی ہریانہ اور اترپردیش دہلی کے بارڈر جمے ہوئے ہیں۔ حکومت کے ساتھ پانچ دور کی میٹنگ ہوچکی ہے لیکن یہ بات اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے اور حکومت بہت کچھ کسانوں کے حق میں کرتی نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت کی منشا کسانوں کو تھکادینے کی ہے جس طرح اس نے شاہین تحریک کو تھکادینے کی چال چلی تھی۔ وہ کورونا کی وجہ سے اس تحریک کو ملتوی کرنا پڑا تھا لیکن کسان اپنا راشن پانی اور ضروریات کے تمام سامان لیکر آئے ہیں اور اس عزم کے ساتھ آئے ہیں کہ اگر چھ ماہ بھی یہاں رکنا پڑے تو وہ رکیں گے۔
ڈاکٹر صاحب کے اشارے پر میڈیا نے پہلے کسان کی تحریک کو بدنام کرنے کی بھرپور کوشش کی اور پہلے اسے خالصتانی کہا، پھر ٹکڑے ٹکڑے گینگ قرار دیا، پھر اسے بچولیا کہا، پھر اسے ملک کے غدار سے تعبیرکیا، جہادی اور پاکستان اور چین کے اشارے احتجاج کرنے والا کہا اور دیگر غلط پروپیگنڈہ کے ساتھ اسے ملک کو توڑنے والا قرار دیا لیکن کسانوں نے یہ ثابت کردیا یہ مسلمانوں کی تحریک نہیں ہے جس طرح چاہوگے بدنام کرلوگے۔ تمہارا پالا کسان اور سکھ قوم سے پڑا ہے اور اپنا حساب بے باق کرنا بخوبی جانتی ہے۔ اسی خوف نے حکومت کو بات چیت کرنے پر مجبور کردیا لیکن حکومت کی نیت صاف نہیں ہے اور کسانوں کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد وہ بات چیت کا ڈھونگ کر رہی ہے لیکن حکومت کسی طرح بھی ان تین زرعی قوانین کو واپس لینے پر آمادہ نظر نہیں آرہی ہے بلکہ ان میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ اس لئے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے لیکن کسان بھی حکومت کے منشا کو خوب جانتے ہیں اس لئے وہ بھی حکومت کے کسی جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ تین زرعی قوانین سے کسانوں سے کھیتی چھن جائے گی اور خاص طور پر چھوٹے کسان اور بٹائی دار جو محنت کرکے اپنے بچوں کو پرورش کرتے ہیں ان کی روزی روٹی چھن جائے گی۔ کھیتی باڑی پر کارپوریٹ کا قبضہ ہوجائے گا اور پھر وہ اپنے حساب سے اناج فروخت کریں گے اور دام طے کریں گے جو غریبوں کے بس سے باہر کی بات ہوگی۔ حکومت نے اب تک سارے کام کارپوریٹ کے مفادمیں کئے ہیں اور یہ زرعی قوانین بھی کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے منظور کئے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com