نابغہ روزگار ہستی ڈاکٹر رفیق احمدؒ

صاحبزادہ حذیفہ اشرف عاصمی

یہ سن 1946 کی بات ہے.اسلامیہ کالج گراؤنڈ میں تقریب تقسیم انعامات جاری تھی یہ دل فریب تقریب ایک بڑے خیمے میں منعقد ہوئی تھی۔ اس تقریب کے روح رواں قائداعظم محمّد علی جناحؒ اسٹیج پر رونق افروز تھے تمام انعام یافتہ طالبعلم اسٹیج پر جا کر اپنے عظیم قائد سے انعام وصول کر رہے تھے۔ قائداعظم ؒکی دلکش اور سحر انگیز شخصیت کی ایک جھلک پانے کی کوشش میں تمام طلباء بے تاب ہوئے جا رہے تھے۔
قائد اعظمؒ کو کرشماتی شخصیت کا اثر تھا جس کی وجہ سے بعض طالبعلم سیڑھیاں چڑھتے پھسل گئے۔ اپنے لیڈر کی محبت میں اس دن پھسلنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ جب میں لکڑی کی سیڑھیوں سے پھسلا تب قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے مجھ سے کہا:
”you have to getup yourself, nobody is going to pick you up.”
میں نے اسے اپنے اور قوم کے لئے ایک پیغام سمجھا۔ مجھے اپنے قائد سے دو کتابیں ملی تھی۔یہ الفاظ ڈاکٹر رفیق احمدؒ صاحب ادا کر رہے تھے تو ہم نوجوان ان کو بس دیکھتے چلے جا رہے تھے.
ڈاکٹر رفیق احمد صاحبؒ تحریک پاکستان کے کارکن، پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین اور ہم نوجوانوں کے رہنما تھے،انکی ہم نوجوانوں کو کی گئی نصیحتیں ہمارے مستقبل کے راستوں کے تعین کا بہترین وسیلہ ہیں.ہم ان کے دکھائے اور بتائے ہوئے راستوں پر چلنا باعث سعادت سمجھتے ہیں.
ڈاکٹر صاحبؒ جیسی ہمہ جہت اور باکمال شخصیت 25 مارچ 2020 کو ہم سب چاہنے والوں کو غم زدہ اور سو گوار چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملی.ڈاکٹر رفیق احمد ؒ پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بھی سابق وائس چانسلر تھے۔ وہ برصغیر کی تقسیم کے وقت اسلامیہ کالج لاہور میں بیچلرز کے طالب علم تھے اور تحریک پاکستان کے کارکن کی حیثیت سے تحریک کا ہر اول دستہ تھے۔ انہوں نے ایک بار بتایا کہ جب وہ نویں جماعت میں تھے تو اس وقت انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ”لے کے رہیں گے پاکستان، قائد اعظم زندہ باد” کے نعرے لگائے۔۔
پاکستان اور نظریہ پاکستان سے عشق و جنون کی حد تک لگاؤ رکھنے والی اس عظیم اور بے لوث شخصیت سے میرا باقاعدہ تعلق نظریہ پاکستان سمر سکول میں ہو. یہ سن 2011 کی بات ہے،بچوں میں کچھ کرنے کی لگن تب ہی پیدا ہوتی ہے جب ان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا جائے ان کو ان کی جڑوں کی حقیقی پہچان کروائی جائے.
ڈاکٹرصاحب ؒ بچوں کو سراہنا انکو آگے بڑھنے کا حوصلہ دینے کا ہنر جانتے تھے.سمر سکول کا پہلا ہی دن تھا مہمانانِ گرامی قدر سٹیج پر تشریف فرما تھے تب اچانک ڈاکٹر صاحب ؒ اُٹھ کر بچوں میں تشریف لے آئے اور اقبال کے اشعار سننا شروع کر دیے۔انکا ہم بچوں کو اقبال کے شاہین کہنا سب سے ذیادہ بھاتا تھا۔جب باری میری آئی مجھے ڈر اور انکی بارعب شخصیت نے آن گھیرا میں بس ڈاکٹر صاحب ؒ کو دیکھتا رہا جو سکون میں نے ان لمحات میں محسوس کیا وہ لفظوں کے بیان سے بہت بلند تھا۔مجھ سے کہنے لگے کبھی کسی ایکٹیویٹی میں حصہ لیا ہے میں نے کہا جی سر.پھر مجھ سے اسی میٹھے لہجے سے سوال کیا کہ بیٹا اقبال کے شاہین ہو؟ میں نے مثبت جواب دیتے ہوئے ان کو اقبال کا وہ شعر سنایا جو میرے بابا جان نے مجھے دوسری جماعت میں یاد کروایا تھا. جب شعر ختم ہوا تو
ڈاکٹر صاحب کے کہے گئے الفاظ میرے لئے کسی سند سے کم نہ تھے کہ ” اقبالؒ کے شاہین نے اقبال ؒ کا شعر سنا یا ہے ”۔وہ دن میرا مجھ سے عہد کا دن تھا کہ مجھے ڈاکٹر صاحب کے الفاظ کی لاج رکھتے ہوئے فکری طور پر اقبال ؒ کا سچا شاہین بننا ہے.
ڈاکٹر صاحب ؒ کے ساتھ کیا گیا Think Tank کوئی نہ بھلا پائے گا۔ڈاکٹر صاحب ؒ بچوں کی رہنمائی کے لئے انہیں ایک میٹنگ کے طور پر پاس بلایا کرتے تھے جس میں ہم سب جوش و خروش کے ساتھ بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتے اور سوالات بھی کرتے.ڈاکٹر صاحب ؒمعمول کی باتوں کے دوران بچوں کو مسلمانوں کی درخشاں تاریخ سے بھی آگاہ کیا کرتے۔ہمیں کسی قسم کی پریشانی ہوتی تو ڈاکٹر صاحب ؒ کے آفس جاتے ان سے ان کا قیمتی وقت لیتے. وہ بڑے پیارے بزرگانہ انداز سے ہمیں سمجھاتے۔ان سے بات کر کے ہم پر علم کے دروازے بھی کھلتے اور ہم روحانی سکون بھی حاصل کیا کرتے. غیر محسوس انداز میں بچوں کی تربیت ہو جاتی.
ڈاکٹر صاحب ؒ کی شخصیت سے ہم اتنا متاثر اس لئے ہوئے کیونکہ ان کی شخصیت ہی ایسی لاجواب اور باکمال تھی کہ انہیں دیکھتے اور ان کی باتیں سن کر انسان اُن کا گرویدہ ہو جاتا تھا.ان سے مل کر ہم علم سے عمل کی راہ پر چلنے لگے.
افسوس آج ہم میں ہمارا رہبر اور نظریہ پاکستان کی فکر کا امین نہیں رہا مگر ان کا سکھایا حرف حرف نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے.وہ اپنی آخری سانس تک اپنے مقصد کے ساتھ مخلص رہے. قائد اعظمؒ کا یہ سچا سپاہی قائد کے قول کام کام اور کام کی عملی اور چلتی پھرتی تعبیر تھا اور یہی پیغام ڈاکٹر صاحب ؒہم کو دے گئے.
ڈاکٹر رفیق صاحب ؒ ایک عظیم استاد اور منتظم تھے. مختلف تعلیمی اداروں میں ان کی خدمات کو سنہری الفاظ میں ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے ڈاکٹر رفیق احمد صاحب ؒ
کے انتقال سے جو خلا باقی ہے وہ پورا نہیں ہوسکے گا۔مگر انکی فکر اور فلسفہ کو اپنا کر ہم ان کے دئیے درس پر عمل پیرا ہو کر اقبال کے سچے شاہین اور نظریہ پاکستان کے امین بن سکتے ہیں یہی ڈاکٹر صاحبؒ کی سوچ مقصد اور خواہش تھی.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com