مسیحاؤں اور عوام میں بڑھتی خلیج

تحریر:مہر سلطان محمود
پہلی قسط میں کچھ ضروری معروضات کوقلمبند کرنے کی سعی کی تھی فیڈ بیک و مزید آراء کومدنظررکھتے ہوئے دوسری قسط پیش خدمت ہے۔دوران ڈیوٹی ڈاکٹرز کو موبائل کے استعمال پر میڈیاء میں شدید تنقید کا سامناہے عملی مشاہدے کے مطابق اگر ڈاکٹرز رہنمائی سینئرزسے یا آن لائن لیکر نسخہ تجویز کرنے کی غرض سے استعمال کرتے ہیں اور اس سے مریض ڈسٹرب نہیں ہوتاہے تب استعمال جائز قرار دیاجاسکتاہے بصورت دیگر اگر مریضوں کی لائنیں ہوں یا مریض سامنے کھڑاہو اور ڈاکٹرز اپنے موبائل فون کے غیرضروری استعمال میں مگن ہوں تب یہ سرے سے غلط وقابل سزاعمل ہے۔دیہات میں ڈاکٹرز کی تعیناتی بھی بہت گھمبیر مسئلہ ہے ڈاکٹرز کو اپنے رویہ پر نظرثانی کرنی ہوگی۔موجودہ صورتحال میں اکثر رورل ہیلتھ سنٹرز وتحصیل ہیڈکوارٹرزمع ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں چونکہ فریش ٹرینی ڈاکٹرز تعینات ہیں ماسوائے چند ایک کے۔مرض کی صحیح تشخیص میں دقت کاسامنا کرناپڑتاہے سینئرز کی اکثریت اپنے جونئیرز کو بروقت رہنمائی فراہم نہیں کرتے ہیں نتیجے کے طور پر مریض کا حقیقی علاج ممکن نہیں رہتاہے یوں مریضوں کی اکثریت غیر مطمئن ہوکر دوسرے ڈاکٹرز یا دیگر بڑے ہسپتالوں کا رخ کرکے وہاں پر اپنے لئے اور ڈاکٹرز کیلئے مسائل کا باعث بن رہے ہیں پاکستان بھر میں آبادی کے تناسب سے ہسپتال دستیاب نہیں ہیں۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ضلعی لیول پر ایک بنیادی مرکز صحت سے لیکر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تک مریض کے ریفر ہونے کا کاسرے سے کوئی طریقہ واضع نہیں ہے اگر ہے تو اس پر آج تک کسی نے عملدرآمد کروانے کی کوشش ہی نہیں کی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک ڈسپنسری سے لیکر ضلعی ہیڈ کوارٹر تک مریض کی ساری ہسٹری موجود ہو تب مریض کے مرض کی صیح نشاندہی کرنے میں آسانی کیساتھ ڈاکٹرز کی غفلت بھی پکڑی جائے گی۔بنیادی مرکز صحت سے آنے والے والے یافریش مریض کے علاج معالجہ کی زمہ داری رورل ہیلتھ سنٹر یا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹرز پر ذیادہ ہوتی ہے چونکہ رورل ہیلتھ سنٹر و تحصیل ہیڈ کوارٹرز سمیت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز تعینات ہوتے ہیں قانون کے مطابق جونئیرز ڈاکٹرز مریض کو ابتدائی طبی امداد دیکر سینئر سے رہنمائی لیتے ہیں مریض کو مزید متعلقہ ہسپتال میں رکھنا ہے یا ریفر کرناہے رورل ہیلتھ سنٹر یا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سمیت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں مریض کو سینئرزنے ہی ریفر کرناہوتاہے پاکستان میں نوے فیصد الٹی گنگا بہہ رہی ہے سینئرز اکثروبیشتر پہلے تو رہنمائی ہی نہیں کرتے ہیں ماسوائے چند ایک کے،دوسرا 24/7 ڈیوٹی کا الاؤنس لینے کے باوجود رورل ہیلتھ سنٹرزمع تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں رکنا یا راؤنڈ کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں یوں بہت تھوڑے جونیئرز ایسے ہیں جو مریض کے مرض کی صیح تشخیص کرتے ہیں اور مکمل ہسٹری پرچی پر درج کرکے ریفر کرتے ہیں بغیر سینئرز کی نگرانی کے ریفر ہونے والے مریض کی کارآمد ہسٹری نہ ہونے کی وجہ سے ٹیچنگ ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز کو بھی شدید قسم کے مسائل کا سامنا کرناپڑتاہے۔یوں مرض کی تکلیف سے بیزار مریض اور اس کے لواحقین وطبی عملے کے درمیان ایک ناخوشگوار فضامستقل طور پرلڑائی جھگڑے کا باعث بن کر خبروں کی زینت بنتی ہے ہر مسئلے میں ڈاکٹرز مع طبی عملے اور مریضوں و لواحقین کے درمیان جھگڑے میں دونوں فریقین اپنی اپنی جگہ سچے ہوتے ہیں لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اکثر طور پیرامیڈیکل عملے کا نامناسب رویہ جس میں ڈاکٹرز کی ہٹ دھرمی وکام چوری جیسی وجوہات بھی شامل ہوتیں ہیں ان واقعات کے پیچھے جھگڑوں کاباعث ہیں۔ان تمام مسائل کی ذمہ دار سرکار ہے جس کے پالیسی سازوں نے عوام اور طبی عملے میں اس خلیج کو بڑھاکر اپنی نااہلی ومفادات کو چھپارکھا ہے ماضی میں مسلم لیگ ن کی گورنمنٹ نے ڈاکٹرز کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے چند حرس و ہوس کے مارے عناصر کو نواز کر جس میں نان پروفیشنل و پروفیشنل محکمہ ہیلتھ کے پالیسی ساز شامل ہیں بدنیتی پر مبنی ڈاکٹرز کے خلاف منظم تحریک چلواکر عوام کی نظروں میں مسیحائی جیسے مقدس پیشے کو بدنام کروایا تاکہ ان کے جائز حقوق نہ دینے پڑیں اور احتجاج کو عوامی حمایت حاصل نہ ہو۔ان تمام تر مسائل کی اہمیت اپنی جگہ مگر دوسری جانب ڈاکٹرز کی ہٹ دھرمی بھی مسائل کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنے میں پیش پیش ہے اس کی واضع مثال یہ ہے کہ گریڈ 18 کے سینئرز ڈاکٹرز رورل ہیلتھ سنٹرز وتحصیل ہیڈ کوارٹرز میں جانا پسند نہیں کرتے ہیں باوجود اس کے کہ انہیں سرکار انتہائی مناسب الاؤنس بھی دیتی ہے اس کے علاوہ خفیہ طور پر یہ صاحبان فارماسوٹیکل کمپنیوں سے بھی اچھے خاصے فائدے بٹورتے ہیں۔ ہسپتالوں کے فارماسسٹ کساتھ ملکر مرضی کی میڈیسن کمپنی کی ادویات کی خریداری شامل ہے بعض اوقات نسخہ ہی ایسا تجویز کی جاتاہے جس میں ایک آدھ گولی کے سوا باقی سارا نسخہ بازار سے اور وہ بھی مخصوص جگہوں سے دستیاب ہوتاہے۔یہاں پر ایک اور تلخ حقیقت نہ لکھنا ماسوائے پالیسی سازوں کے باقی سب کیساتھ ذیادتی ہوگی پاکستان بھر میں ادویات کی خریداری میں ریٹس کے گھپلوں کے ساتھ ساتھ انتہائی غیر میعاری ادویات کی خریداری بھی شامل ہے جس سے مریضوں کی زندگیوں کیساتھ سنگین قسم کا کھلواڑ جاری ہے۔ناقص وغیر میعاری ادویات کی خریداری پر اس کا خمیازہ ڈاکٹرز و مریض دونوں کو بھگتنا پڑتاہے ناقص ادویات سے جہاں مریض کو آرام نہیں ملتاہے وہیں اس کے سائید افیکٹ انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں آرام نہ آنے کی صورت میں مریض ڈاکٹرز کیساتھ جھگڑتے اور بازار کی اچھی ادویات باامرمجبوری لکھنے پر کمپنیوں سے حصہ لینے جیسے الزامات کا سامنا کرتے ہیں۔پھر رپورٹرز کی موجیں وہ خبریں لگاکر ڈاکٹرز کو بلیک میل وحراساں کرکے فائدے حاصل کرتے ہیں تاہم کچھ ڈاکٹرز جان بوجھ کر بھی باہر کی ادویات لکھتے ہیں۔بعض دفعہ ہمارے جیسوں کو ڈاکٹرز ہمدردی کے نام خود بتادیتے ہیں کہ سر باہر کی اچھی ادویات لے لیں مناسب رہیں گی۔اگلی قسط میں کلیریکل سٹاف کارویہ ہسپتال سے سیکرٹرایٹ تک کازکر خیر ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com