دو قطرے

یہ دو قطرے ہی تو ہیں جو بڑے انمول اور گراں مایہ ہیں، جو احساسِ ندامت کی تشنگی مٹا اور ہجروفراق کی خلیج کو پاٹ کر قربِ الہی کی رعنائی اور زیبائی کے پُرکیف اور نشاط انگیز رنگ انسان کی زندگیوں میں بھر دیتے ہیں۔پھر ایمانی تمازت اور طمانیت زندگی کو اجال دیتی ہیں۔ان میں سے ایک قطرہ تو مکّھی کے سر جتنا بھی ہو تو یہ ربّ کریم کی غضب ناک نگاہوں کو اس قدر رحمت آفریں اور محبت مآب بنا دیتا ہے کہ اللہ ربّ العزت اُس کے پُرخار گناہوں کو پُربہار نیکیوں میں تبدیل کر کے حیاتِ دائمی کی لذّتوں کو انسان کا نصیبہ بنا دیتا ہے۔ہم بھی عجب سانچوں میں ڈھلے لوگ ہیں کہ جو ذات ہماری شاہ رگ سے بھی قریب تر ہے، ہمارے اور اس کے درمیان فاصلے ہیں ہی نہیں مگر ہم نے بے تحاشا دُوریاں پیدا کر رکھی ہیں۔یہ تو نِری بے حسی ہے، ایک ایسی بے رغبتی کہ جس نے دلوں کو اجاڑ خانوں اور بیابان کدوں میں بدل ڈالا ہے۔ہم گناہ پر گناہ کیے جاتے ہیں مگر یہ دو قطرے تو کجا، حروفِ اعتذار اور اظہارِ ندامت تک کا کوئی جھونکا ہمیں چُھو کر نہیں گزرتا۔خلیل جبران نے کہا تھا کہ” تم غلام ہو اُس کے جس سے تم محبت کرتے ہو، اس لیے کہ تم اُس سے محبت کرتے ہو“مگر ہم کیسے غلام ہیں کہ اپنے حقیقی آقا اور مالک کے سامنے بھی حقِ غلامی ادا کرنے، اس کے سامنے رونے، سسکنے، گِڑگِڑانے اور التجائیں کرنے میں بھی تساہل پسند اور تغافل شعار ہیں۔
عامی ہی نہیں، قلم وقرطاس کے دھنی، تحریروں میں ندرت اور جدّت پیدا کرنے کے فن سے آشنا، لفظوں کی گُل کاریوں اور پُرکاریوں کے ہنر سے واقف، مصرعوں میں منفرد ردیف اور قافیہ سازی میں ماہر لوگوں کی زندگیاں بھی ان قطروں سے خالی اور محروم دکھائی دیتی ہیں۔شعلہ نوائی، سحر بیانی اور شیریں زبانی کے فن میں یکتا، خطبا اور واعظین بھی لوگوں کے دلوں میں تو تلاطم اور ولولہ پیدا کر دیتے ہیں، یہ سامعیں کی آنکھوں کو تو اشکوں سے تر کر دینے میں کمال مہارت رکھتے ہیں مگر مجھے کہنے دیجیے کہ کتنے ہی واعظین خود ان دو قطروں کی لذت سے ناآشنا ہیں۔واللہ! یہ دو قطرے اللہ ربّ العزّت کو بڑے ہی محبوب ہیں۔ایک وہ قطرہ جو رات کی تاریکی میں پچھلے پہر خلوت کی قبا میں لپٹا، اللہ کے خوف کے باعث انسانی آنکھ سے نمودار ہوتا ہے، خواہ وہ مَکّھی کے سر جتنا چھوٹا ہی ہو اور دوسرا وہ قطرہ جو سب سے پہلے نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن سرور شہید سے کر وِنگ کمانڈر نعمان اکرم تک کسی بھی شہید کے خون کا زمین پر گرتا ہے، اللہ کو یہ دونوں قطرے بڑے ہی پسند ہیں۔
ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہ چُھوئے گی، ایک وہ جو اللہ کے ڈر سے رو پڑی اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں رات کو پہرہ دیا اور حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہید کے لیے چھے اعزاز ہیں۔پہلا یہ کہ پہلا خون کا قطرہ گرتے ہی اُس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اُسے جنت میں اُس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے۔
ہمارے کتنے ہی ایسے پیارے اور راج دلارے ہم سے بچھڑ چکے کہ جن کے بغیر ہم زندگی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے۔کتنی آوازوں کی تمکنت، کتنے چہروں کا حُسن وجمال، کتنی ہی شخصیتوں کا سحر، کتنے ہی قلم کاروں کا اسلوبِ نگارش، کتنے ہی خوش خصال اور خوش طبع افراد کے مطائبات اور کتنے ہی چہروں کے شگفتہ تبسّم منوں مٹّی کے ڈھیر تلے دفن ہو گئے مگر ہمارے کھنڈر دلوں میں یادِ الہی کی کوئی رمق نہ پھوٹی۔ہمارے دلوں کی بنجر زمینوں پر تقوی کا کوئی غنچہ نہ کِھلا۔ہماری خواہشات میں اطاعتِ رسول صل اللہ علیہ وسلم کی کوئی کرن نہ جگمگائی۔ہمارے اجاڑ اور سنگلاخ سینوں میں خوفِ خدا کی کوئی کونپل نہ چٹکی۔اگر کسی کی آنکھ سے اللہ کے ڈر کے سبب کوئی قطرہ نکلا ہے تو وہ بڑا ہی سعید بخت ہے، کبھی آنسوؤں کا یہ سلسلہ منقطع نہ ہونے دیجیے گا۔
ڈینگی اور کورونا جیسے وائرس سے سہما سمٹا انسان اتنا بے باک اور بے مروت ہو گیا کہ وہ”میرا جسم میری مرضی “جیسا بے حمیت نعرہ بلند کرنے لگا۔اس نوع کی تمام خرافات اپنے خالق و مالک سے دُوری ہی کا تو شاخسانہ ہیں۔اگر یادِ الہی سے غافل دلوں میں آنسوؤں کے سَوتے کسی طور بھی نہ پھوٹیں، اگر پھر بھی” میرا جسم میری مرضی“ جیسے باغی خیالات دماغ سے نہ نکلیں تو جائیے! کسی شہرِ خاموشاں میں جا کر فقط ایک لمحے کے لیے اتنا ہی سوچ لیجیے کہ یہاں دفن یہ سب لوگ بھی یہی سوچتے تھے کہ دنیا کا نظام ان کے بغیر چل ہی نہیں سکتا مگر نظامِ ہست وبود اسی طرح رواں دواں ہے، اگر نہیں ہیں تو یہ لوگ نہیں ہیں۔ان مدفون لوگوں کی اپنے جسم پر مرضی ہی چلتی تو یہ کبھی یہاں دفن نہ ہوتے اوریقیناً ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہم بھی اس دنیا میں نہیں ہوں گے۔علامہ شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ”قبر جیسا واعظ کوئی نہیں “سو قبرستان جائیے کہ شاید اس کے وعظ سے ہی آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں۔
دوسرا قطرہ جو اسلام کی آبیاری اور اپنے وطن کی سربلندی کے لیے شہید کے جسم سے گرتا ہے، یہ بڑا ہی محترم اور مقدّس ہوتا ہے۔یہ تقوی کی انتہا ہے کہ انسان اپنی جان ربِ کریم پر قربان کر ڈالے۔آج تک ہماری زیست ان دونوں قطروں سے تہی اور عاری ہی رہی… سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے اللہ سے محبت کرتے بھی ہیں؟ اور اگر کرتے ہیں تو یہ ہم اپنے ربّ سے کیسی محبت کرتے ہیں؟

بشکریہ۔۔خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com