نیکی کر فیس بک پہ ڈال

محمدپرویزبونیری(ایم پی خان)
وباکے دنوں میں ایک فلاحی تنظیم کے کچھ رضاکاروں نے مشترکہ طورپر ایک فلیکس بنوایا،جسے انہوں نے سڑک کے کنارے سب سے نمایاں مقام پر اویزان کردیاتاکہ ہرآنے جانے والی کی نظریں فلیکس پرپڑے اوراس پر درج ہدایات سے مستفید ہوسکے۔فلیکس پروباسے بچنے کی خاطرکچھ احتیاطی تدابیرجیسے صابن سے ہاتھ دھونا، منہ ڈھانپنا،ایکدوسرے سے قدرے فاصلے پر رہنا اورغیرضروری آمدورفت سے بچنا،تحریرتھیں۔احتیاطی تدابیرکے نیچے جلی حروف میں تنظیم کانام بہت واضح لکھاہواتھا۔اس پر مستزادیہ کہ فلیکس کے دونوں جانب تقریباًدس بارہ بندوں کی خوبصورت تصاویرلگائی گئی تھیں کہ دیکھنے والے ان شخصیات کے عظیم کارناموں سے روشناس ہوسکے۔
فیس بک پرایک سماجی کارکن نے اپنی سخاوت اورخدمت خلق کی ایسی مثال دنیاکے سامنے پیش کی،جس کودیکھ کر بڑے بڑے خدائی خدمت گار انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔موصوف نے تقریباً دوکلوچاؤل ایک شاپر میں بند کرکے ایک غریب لڑکی کو عطیہ کرتے وقت بڑی شان سے گردن اٹھاکر اپنی تصویربنوائی۔لڑکی احساس بے بسی کے عالم میں اپناچہرہ کیمرے سے چھپارہی تھی جبکہ موصوف بڑے فخرسے کیمرے کی طرف دیکھ دیکھ کر دنیاکویہ پیغام دیناچاہتے تھے کہ عالم اسلام میں انکے جیسے نیک سیرت شخصیات آج بھی زندہ ہیں۔یقین جانیں ایسے ایسے مناظرنظروں کے سامنے گزرتے ہیں کہ انسانیت کاسرشرم سے جھک جاتاہے۔
ابھی ایک نئی تصویرسوشل میڈیاپرگردش میں ہے، جس میں ایک پردہ نشین خاتون کسی خدائی خدمتگارسے راشن کاپیکٹ حاصل کرتی ہے اورموصوف بڑے فخرکے ساتھ کیمرے کی طرف دیکھ کر یہ پیغام دیناچاہتاہے کہ اس نے اپنی پردہ نشین بہن کو راشن کے لئے دنیاکے سامنے ننگاکردیا۔ایسی نادارخواتین کی مجبوری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے دووقت کاکھاناحاصل کرے اوراللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ موقع فراہم کردیاکہ ہم نیکی کے اس کام میں حصہ لیکر دنیااورآخرت میں کامیابی حاصل کرسکے، مگردوسری طرف ہم نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے دادحاصل کرنے کے لئے ریاکاسہارالیا، جوکہ ہمارے لئے دنیاوی اوراخروی ذلت کاسبب ہوگا۔
حالیہ وباہمار ے اوپراللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے کہ ہم اس مشکل گھڑی میں کس حد تک دوسروں کام آسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جوکچھ دیاہے، اس میں ان لوگوں کابھی حصہ ہے، جو نادارہیں اورجنہیں ان مشکل حالات میں بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ اگرہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں ان ناداراورکمزورلوگوں کی مددکرتے ہیں، تویہ ہمارے لئے توشہ آخرت ثابت ہوگا، مگران تمام چیزوں کے لئے اخلاص کی ضرورت ہے۔ایسااخلاص جواللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے اوراس کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل ہوتی ہے۔ اگر ان تمام اعمال میں اخلاص نہ ہوتو یہ ریاکی نذرہوجائیں گے، جوکہ ہمارے لئے اللہ کی ناراضگی کاسبب ہوگا۔اگرہم ایک طرف لوگوں کے ساتھ نیکیاں کرتے ہیں اوردوسری طر ف انکی تصاویربنوا کر سوشل میڈیاپر شیئرکرتے ہیں، توہم دنیاکوکیاپیغام دیتے ہیں۔اقوام عالم جب سوشل میڈیا پر ہمارایہ چہرہ دیکھے گی توہمارے بارے میں انکی سوچ کیاہوگی۔ ہم کس قدرغریب قوم ہیں کہ کسی کو ایک وقت کاکھانادیتے ہیں تواسکی بھی
تصاویربنوا کر دنیاکودکھانے کی غرض سے شیئرکرتے ہیں۔یورپ میں بے شمارفلاحی تنظیمیں انسانوں کی خدمت کرتی ہیں، مگروہ انکی تصاویردنیاکونہیں دکھاتیں، بلکہ ان کامقصدصرف اورصرف انسانیت کی خدمت کرناہوتاہے۔
ہمارے مذہب میں صدقے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ہمارے نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایاہے کہ صدقہ اس طرح دیں کہ ایک ہاتھ سے دوسرے کو خبرنہ ہو۔ مگرہمارے ہا ں جوصدقہ رواج پارہاہے،، وہ صرف اورصرف سوشل میڈیاپر ریٹنگ کاذریعہ توبن سکتاہے، اللہ کی رضا اورخوشنودی کاہرگزنہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com