آئین شکنی یا عوام دشمنی ۔۔بڑا جرم کون سا ہے؟

آئین شکنی یا عوام دشمنی ۔۔بڑا جرم کون سا ہے؟
عمران امین
میرا کھیل ہے اُور میرے اُصول۔میدان میرا ہے اور کھلاڑی بھی میرے۔تاش کے سب یکّے میرے ہیں،موسم کے سب رنگ میرے ہیں۔کھیلتا رہو،ناچتا رہو یا گاتا رہو۔جیت تو میری پکی ہے۔ کچھ لوگ، جو پڑھتے ہیں جو لکھتے ہیں وہ بھی ہر دم میرا ہی دم بھرتے ہیں۔اس شہر میں جہلاء کی ایک بڑی تعداد عرصہ دراز سے مقیم ہے۔اُن کو بہلانے اُور سنانے کو بھی ساز تیار ہے۔ان نام نہاد ارسطو حضرات کوخوش کرنے کے لیے ایک تحریر بھی لکھوا رکھی ہے۔یہ تحریر یوں تو انسانی ہے مگرالہامی قرار دے رکھی ہے۔مقدس اُور متبرک انسانی تحریر کو سینے سے لگاکر بیٹھنے والوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔آسمانی کتاب پر یقین ہو یا نہ ہو،مگر اس انسانی تحریر پر سب کا یقین ہے۔آسمانی کتاب جُوترمیم سے پاک،،جُو حرف آخر اُور تصدیق شدہ۔انسانی کتاب جُو ترامیم سے بھری ہوئی اُور بہتری کی گنجائش کے لیے ہر دم تیار۔یہ مقدس ہرگز نہیں ہو سکتی۔ ہاں! قابل احترام ضرور ہوسکتی ہے۔میرے پڑھنے والے سمجھ گئے ہو ں گے کہ میں مملکت خداوند پاکستان کے آئین کی دستاویز کی بات کر رہا ہوں۔جس کی عزت و حرمت ہم سب پاکستانیوںپر فرض ہے۔مگر میرے پیارے ہم وطنوں! یہ بھی جان لیں کہ کیا اس پر کسی حد تک عمل ہو رہا ہے یا یہ بھی کسی کی مرضی،کسی کی خواہش کی نذر ہو رہا ہے۔بد قسمتی سے پاکستان میں اہل حکمران کے گروہ نے آئین کو بھی اپنے مفادات کے تابع کر رکھا ہے۔ایک مملکت کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟؟۔عوام کو روزگار مہیا کرنا، بہتر سہولیات زندگی فراہم کرنا،جان و مال کی حفاظت کرنا،امن کو فروغ دینا،مساوات قائم کرنا،عدل و انصاف کا بول بالا کرنا اُور اس طرح کے دیگر کام، جو براہ راست عوام کو سہولت پہنچانے کے زمرے میں آتے ہوں ۔کیا ہماری ماضی کی بد عنوان اُور لٹیرا مافیا حکومتیں یہ سب کچھ عوام کو فراہم کرنے میں کامیاب ھوئیں؟؟۔کیا موجودہ حکومت یہ ذمہ داری پوری کررہی ہے؟؟۔مقدس آئین کے نافذا لعمل ہونے کے باوجود اس ملک میںعرصہ دراز سے انصاف کا ترازو ، ایک سائیڈ پر جھکا ہوا ہے۔ہمارا پولیس کا نظام کرپٹ اُور مافیا زدہ ہو چکا ہے۔ جہاں تھانے بکتے ہوں،جہاں افسران اہل بدمعاشیہ کے نخرے اُٹھا رہے ہوں ،وہاں مظلوم کو صرف انصاف کا دلاسہ دیا جا سکتا ہے،انصاف نہیں مل سکتا۔ رہی سہی کسر ہمارے فرسودہ عدالتی نظام نے نکال دی ہے ،جہاں ایک مقدمے کا فیصلہ سالوں گزرنے کے بعد بھی نہیں ہو پاتا۔ایسے معاشرے میںجینے کا حق صرف زور آور کو ہوتا ہے اُورکمزور صرف آہ وبکا کر سکتا ہے۔ ہمارے ملک کے باسیوں کے لیے بنیادی انسانی ضروریات کا حصول ابھی تک ایک سہانا خواب ہے جو ہر انتخابات کے وقت عوام کو دکھایا جاتا ہے ،مگر تعبیر کے بغیر۔تعلیم کی درجہ بندی کر کے ایک مخصوص طبقے کی اجارہ دارہ قائم کی جا چکی ہے۔جبکہ اس کے نعرے’’تعلیم سب کے لیے‘‘ کا اصل مفہوم یہ ہے ’’تعلیم کسی کسی کے لیے‘‘،اُن کے لیے جو مہنگی کاپیاں،کتابیں اُور بستے خرید سکتے ہوں ۔کسی بھی حکومت کا عوام الناس کے لیے اچھی صحت کا حصول ممکن بنانا،پہلا کام ہوتاہے۔ مگر یہاں ہسپتال زنا خانے اُوررشوت کے کارخانے بن چکے ہیں۔مریض زیادہ اُور بستر کم ہیں۔ہسپتالوں میں مفت دوائی تو درکنار،سستی دوائی بھی دستیاب نہیں۔ملکی اُور غیر ملکی دواساز کمپنیاں من مرضی کے ریٹ فکس کررہی ہیں،اُن کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ڈاکٹرز قصاب بنے منتظر ہیں اُور عوام اپنی قربانی کے لیے بادل نخواستہ تیار بیٹھے ہیں۔اس ساری صورتحال کی وجہ سے ہمارے ملک میں بے روزگاروں کی ایک فوج تیار ہو چکی ہے۔یہ فوج اپنے مستقبل سے لا علم اُور انجانے خوف کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔اب ہم اس آئین کی تھوڑی سی بات کرتے ہیں۔ مقدس آئین کا ایک آرٹیکل 38 کہتا ہے ’’اُن تمام شہریوں کے لیے جو کمزوری،بیماری یا بے روزگاری کے سبب مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکیں،مملکت اُن کی دیکھ بھال کرنے کی پابند ہو گی‘‘ ۔اسی مقدس آئین کا آرٹیکل 14اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ’’فرد کے وقار اُور گھر کی پرائیویسی کی ہر قیمت پر عزت کی جائے گی‘‘۔ایک اُور جگہ آئین کے آرٹیکل 10کے تحت گرفتاریا حراست میں لیے گئے فرد کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ان چند آرٹیکلز کے علاوہ بے شمار ایسے آرٹیکلز ہیں جو عام شہری کے حقوق کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں ان سب آرٹیکلز کا حترام کیا جا رہا ہے ؟؟۔ کیا فرد کے بنیادی انسانی حقوق کو محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں؟؟۔فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے کہ ہمارے لیے آرٹیکل 6زیادہ اہم ہے یا آئین کے باقی آرٹیکلز ،جن کا براہ راست عام آدمی سے تعلق ہے۔اس بات کو سمجھنا اُور دوسروں کو سمجھانا ہے کہ آئین شکنی بڑا جرم ہے یا عوام دشمنی ؟؟ ۔یہ انسانی تحریر شدہ آئین جو ہر وقت بہتری کا متقاضی رہتاہے، اس میں لاتعداد ایسے آرٹیکلز موجود ہیں جن پر آج تک کوئی بھی حکومت عمل نہیں کر پائی اُور یوں ہمارے تمام حکمران طبقے بظاہرآئین شکنی کے مرتکب نظر آتے ہیں۔اس اشرافیہ نے مقدس آئین کو گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے اُور رہی سہی کسر ہماری جاہل عوام نے پوری کر دی ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہہمارے معاشرے میں جانور نما انسانوں کی بھر مار ہے جو ’’جس کی لاٹھی،اُس کی بھینس‘‘ کا اُصول جانتے اُور مانتے ہیں۔یہ لوگ اپنے آبائو اجداد کے رسموں رواجوں کو چھوڑنے کو تیار نہیں، بت پرستوں کی اُولادشخصیت پرستی کے مرض میں صدیوں سے مبتلا ہے ۔بد قسمتی سے ہماری عوام کو کئی دہائیوں سے مسلسل بے وقوف بنایا جا رہا ہے اُور اصل مسائل پر بات کرنے کی بجائے اپنے اپنے مفادات کو مد نظر رکھ کر بات کی جاتی ہے ۔اب یاد رہے!PICK AND CHOOSEکا زمانہ گزر گیا۔ یا تو سارا آئین قابل احترام ہے ،تھوڑا تھوڑا سا،اپنی مرضی کا، اب کسی بھی صورت قبول نہیں ہو گا۔لوگوں میں شعور آگیا ہے وہ جانتے ہیں کہ کون اس معصوم عوام کا سوچتا ہے اُور کون اپنے کاروبار اُور اولاد کا۔ باقی رہی بات، مقدس آئین کی تو اس بچارے کے ساتھ ہمارے حکمران طبقے نے ماضی میں بہت بُرا سلوک کیا ہے ۔جس کی وجہ سے ہمارا مقدس آئین ،اس وقت ایک ٹوٹے ہوئے شیشہ کی مانند ہے ،اس ٹوٹے آئینہ میںہمارا معاشرے کا خوفناک اُوربھیانک اجتماعی چہرہ نظر آرہا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ٹوٹے ہوئے شیشے کو جوڑ کر اپنا اجتماعی چہرہ خوبصورت بنا ئیں،تاکہ ہماری آنے والی نسلیںاس آئین کی حقیقی صورت اُور عزت جان سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com