ڈی ایچ کیو اوکاڑہ بدحالی کا شکار

(DHQ ہسپتال اوکاڑہ بدحالی کا شکار)
(کورونا وائرس جیسی مشکل گھڑی میں نرسیس اپنی مدد آپ کام کرنے پر مجبور)

حکومتیں آتی ہیں مددتیں پوری کرتی اور چلی جاتی ہیں لیکن ملک کے مختلف شعوبوں کا حال بورے سے برُا ہوتا چلا جا رہا ہے ان شعبوں میں سہرفہرست صحت کا شعوبہ ہےجو انسانی زندگی کے لیے ہےتو بہت اہم لیکن انسانوں کو نہ توکوئی سہولت میسر ہے اور نہ سکون ۔صحت کےشعبے کی بات کریں تو DHQ ہسپتالوں کا حال بہت برُا ہے اور اسی لسٹ میں DHQ ہسپتال اوکاڑہ کا نظام کسی عذاب سے کم نہیں۔آج پوری دنیا ایک خطرناک وائرس میں مبتلا ہے۔جس کا ڈر اور خوف پوری دنیا میں کورونا وائرس کے نام سے پھیلا ہے۔۔اول تو DHQ ہسپتال میں کورونا وارڈ میں نرسیس کو مکمل سامان اور کِٹس سے محروم رکھا گیا۔سب نرسیس نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی کِٹس اور ضروری سامان کے ساتھ اپنی ڈیوٹیز سر انجام دیں۔
ہسپتال انتظامیاں سب کچھ جانتے ہوے بھی خاموش ہے۔جو ان کی نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حتٰی کہ 25 تاریخ کو ایک سسپیکٹیڈ کیس آیا۔اس مریعض کے پاس ایم۔ایس اور سی او ہیلتھ نے راونڈ کرنا گوارہ نہ سمجھا کیو نکہ ان کے لیے ان کی جان کی قیمت بہت زیادہ تھی۔سرپرائز راونڈ کرنے والے سی او صاحب کورونا وارڈ میں اہم چیزوں کی محرومی کو دور کرنے کی بجاۓ وہاں پیلینگ کروانے میں مصروف ہیں اس کا فائدہ کیا ہے اور کسے ہے یہ آپ لوگ بہت بہتر جانتے ہیں۔ان مشکل حالات میں نرسیس اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اپنی ڈیوٹیز سر انجام دے رہی ہیں لیکن کسی جگہ ان کا نام لے کر ان کی محنت کو سرراہا نہیں جاتا۔جب ایپریسی ایشن کا ٹائم آتا ہے تو تمام تر تعریفیں اور حوصلہ افزائی ڈاکٹرز کے نام ہی کیوں۔یہاں تک کہ اس انتظامیاں کا نام صفِ اول ہوتا ہے جو کورونا مریعض کا حال تک پوچھنے نہہیں آتی۔آخ نرسیس کے ساتھ ہی ایسا رویہ کیو رکھا جاتا ہے کیا ان کا حوصلہ افزائی کا دن صرف 11مئی ہی ہے یا ان کا م ہر مشکل حالات کا سامنا کرنا ہی ہے پھر وہ کورونا جیسا وائرس ہو ڈینگی ہو یا پھر مریضوں کے ساتھ آۓ لواحیقین کی بد سلوکی کا سامنا کرنا ہو۔
جب کوئی وزیر یا وزیراعلی کا دورہ ہوتا ہے تو ہسپتال کی انتظامیاں کو انفارم کر دیا جاتا ہے تا کے ان کے دورے کو پروٹوکول دے کے کامیاب بنایا جاے۔
ہسپتال میں ڈیکوریشن اور پتھر لگوا دینے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے ھسپتال میں بہت کام کیا جا رہا ہے مریعض کو علاج کے لیے ان پتھروں کی نہیں بلکہ اچھے ڈاکٹر وں اور ان سہولیات کی ضرورت ہے۔اوکاڑہ میں مشہور ہے کہ موجودہ دور کے ایم این اے صاحب نے ہسپتال میں پتھر لگوا کر بہت اچھا بنا دیا گیا لیکن آج ایم این اے یا ایم پی اے صاحب نے ان مشکل حالات میں ہسپتال میں جا کر یہ پوچھنا بھی گنوارا نہیں کیا کہ وہاں کیا حالات ہیں۔کیو نکہ وہ سوشل میڈیا پر ویڈیو بنوانے میں مصروف ہیں کی اس مشکل گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ ہیں اب وہ کہاں ساتھ ہیں ہی کوئی نہیں جانتا
DHQ اوکاڑہ کی اس عذاب نما حالت کے ذمہدار ہسپتال کی انتظاميہ اور اوکاڑہ کی موجودہ ایلیکٹیڈسیاسی پاڑٹی ہے جو یہ سب دیکھتے ہوے بھی خاموش ہے۔
کل 26مارچ شام نرسینگ عملے کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا گیا۔سی او ہیلتھ کے وہاں ہونے باوجود وہاں یہ عالم تھا کہ نرسیس کو جان بچا کر بھاگنا پڑا۔عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ نرسیس ہی وہ عملہ ہے جو اپنے مریعض کا ان کے لواحقین سے زیادہ خیال رکھتں ہیں۔زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ایک نرس جب دس دس مریعضوں کو دیکھے گی تو یہی سب کچھ ہو گا۔
اوکاڑہ کی عوام کو چاہیئے کے وقت سے پہلے اس خراب صورتحال کے خلاف آواز اوٹھاے تا کے کل کو اگر آپ اپنے کسی پیارے کو لے کے جایں تو اپ کو ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پرے۔کیونکے جب ہم میں سے کوئی اس مشکل وقت سے گزرتا ہے تو اس کا قصوروار صرف ڈاکٹرز یا نرسیس کو ہی ٹھراتے ہیں جو کے غلط ہے جب ہسپتال میں سہولیات ہی نہ ہو تو وہ بے چارے کیا کر سکتے جس انتظاميہ کی یہ ذمیداری ہے وہ آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہییں۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com