پاکستان ریلوے میں ترقی کا سفر جاری

2020 کے چیلنجز سے وژن 2021کی جانب
پاکستان ریلوے میں ترقی کا سفر جاری
ایم ایل ون کا خواب رواں سال شرمندہ تعبیرہوجائے گا

ریلوے میں 2020ء کو فریٹ کا سال ہونا تھا مگر کورونا کے باعث صورتحال بدل
گئی ایمرجنسی میں ریلوے نے تمام ہسپتالوں کو آئسولیشن وارڈوں میں تبدیل کیا

ایم ایل ون کے پہلے حصے میں لاہور۔راولپنڈی۔سکھر۔ملتان ڈویژنوں
میں پھیلا 706کلومیٹر کا ٹریک 5 سال کے عرصہ میں اپ گریڈ کیا جائے گا

پاکستان ریلوے کی مین لائن ML-I، ML-II اور ML-III (روہڑی تا چمن 296 کلومیٹر) کلیدی اہمیت
کی حامل ہیں۔ اس سلسلے میں ML-II کا ٹینڈر ہوچکا اور یہ مین لائن جون 2022ء تک اپ گریڈ ہوجائے گی

قرۃ العین فاطمہ
پاکستان ریلوے کے لیے پچھلا سال باقی دنیا سے مختلف نہیں رہا۔ کرونا ریلوے کے لیے بہت بڑا چیلنج تھالیکن کرونا کے زور پکڑنے پر ٹرین آپریشن معطل ہونے کے باوجود نہ ہی ریلوے دفاتر بند ہوئے اور نہ ہی روٹین کا کام متاثر۔ اذا خیل ڈرائی پورٹ اور فیصل آباد ڈرائی پورٹ تو کرونا کے عذاب سے پہلے ہی تیار ہوگئے تھے کیونکہ ریلوے میں 2020ء کو فریٹ کا سال ہونا تھا اور پھر کرونا آگیا۔ ایمرجنسی میں ریلوے نے تمام ہسپتالوں کو آئسولیشن وارڈوں میں تبدیل کیا۔ ریلوے کے 8 ہسپتال اور 36 ڈسپنسریوں کو بطور آئی سولیشن وارڈ استعمال کرنے کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کو آفر کی گئی۔ یہ سال سبھی کے لیے مشکل تھا لیکن ریلوے کے مزدور اور افسر سے لے کر وزیرتک سبھی نے ادارے میں جان پھونکے رکھی۔ کرونا فنڈز میں اپنی تنخواہیں دیں۔ اس چیلنج کو موقع میں تبدیل کیا اور نئے پراجیکٹ کی تیاری کی گئی۔ اس سلسلے میں چیئرمین ریلوے حبیب الرحمن گیلانی کا کردار کلیدی رہا جنہوں نے ریلوے کو کارپوریٹ طرز پر منتقل کرنے کی تیاری انہی مشکل دنوں میں کی۔ کارپوریٹ سیکٹر سے مراد یہ نہیں کہ ادارہ کسی پرائیویٹ کمپنی کی طرح صرف پیسے بنانے پرتوجہ دے۔ یہ نئی سمت کارپوریٹ سیکٹر کی طرح مسافروں کی شکایات کا ازالہ، کسٹمر کیئر اور اوقات کار بہتر کرنے کے لیے ہے جس کے لیے تعمیرِصلاحیت و استعداد کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قانونی امور، کسٹمر کیئر، فنانس اور انسانی وسائل کے مشیر پرائیویٹ سیکٹر سے مستعار لیے جارہے ہیں جبکہ انسانی وسائل کے مشیر ریلوے میں تعیناتی کے بعد اپنا کام شروع کرچکے ہیں۔ریلوے کا سب سے اہم مسئلہ ٹریک اور سگنلگ سسٹم ہے اس کی وجہ سے اوقات کار متاثر ہوتے ہیں۔ 2020 میں تاریخی اہم پیش رفت ایم ایل ون کی منظوری تھی جس کے تحت کراچی سے پشاور تک 1872 کلومیٹر لمبے ٹریک کی بحالی،نیا سگنلگ سسٹم، برج اور انڈر پاسسز بنائے جائیں گے۔2021 میں باضابطہ طور پر یہ خواب شرمندہ تعبیرہوگااور ایم ایل ون کے پہلے حصے میں لاہور۔راولپنڈی۔سکھر۔ملتان ڈویژنوں میں پھیلا 706کلومیٹر کا ٹریک 5 سال کے عرصہ میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس اثناء میں ML-II کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ پہلی بار ٹریک کو ٹھیک کرنے کی دعوت پرائیویٹ سیکٹر کو دی گئی اس سے پہلے یہ کام ریلوے خود کرتا تھا۔ ML-II (1254)کلومیٹر کوٹری سے اٹک تک کا یہ ٹریک بطور متبادل روٹ اور کارگو کے لیے بہترین ٹریک ہے۔ آنے والے وقت میں اسلام آباد۔ ایران۔ ترکی کارگو ٹرین ہو یا ٹرانز افغان ریلوے بچھانے کا پراجیکٹ جو وسطی ایشیائی ریاستوں کو بحیرہ عرب تک رسائی دے گا۔ ان سب میں پاکستان ریلوے کی مین لائن ML-I، ML-II اور ML-III (روہڑی تا چمن 296 کلومیٹر) کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس سلسلے میں ML-II کا ٹینڈر ہوچکا اور یہ مین لائن جون 2022ء تک اپ گریڈ ہوجائے گی۔ کے سی آر ریلوے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جزوی بحال کردی گئی جوکہ تجاوزات ہٹانے کے بعد تین مرحلوں میں مکمل بحال کردی جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں کے سی آر کو جدید اربن ٹرانسپورٹ کادرجہ دے دیا جائے گا۔ اس کے لیے 8705 ملین روپے درکا ہوں گے او ر اپ گریڈیشن کے بعد ٹرینوں کی تعداد 48 مسافروں کی گنجائش 24ہزار اور دورانیہ صرف 19 منٹ رہ جائے گا۔ کراچی پورٹ اور پپری کے درمیان کارگو ٹریفک کے لیے خصوصی فریٹ کا ریڈور بھی بنایاجائے گا۔ یہ پراجیکٹ بھی پرائیویٹ سیکٹر کی مدد سے بنایا جائے گا۔ یہ 50 کلومیٹر کا ٹریک کراچی شہر کو کنٹینر ٹرکوں کے رش سے نجات دے گا اور شہر کے اندر سے سامان کی ترسیل صرف اس کاریڈور سے ہوا کرے گی جبکہ کنٹینر ٹرمینل پپیری یارڈ پر بنے گاجہاں سے کسٹم کلیئرنس کے بعد کارگو باقی ملک میں مختلف ذرائع سے ترسیل ہوگا۔ریلوے کے حوالے سے ایک سوال ہمیشہ پوچھا جاتا رہا ہے کہ افغانستان سے وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی ہو یا ایران سے ترکی، پاکستان کا رولنگ سٹاک یعنی کوچز، ویگنیں، انجن کیا اس بڑے چیلنج کے لیے تعداد و کوالٹی کے اعتبار سے تیارہیں؟
فی الحال 820 ہائی کپیسٹی ویگن اور 230 مسافر کوچز خریدنے اور تشکیل دینے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر ہوچکا۔ اس کے علاوہ 100 انجن کی خصوصی مرمت اور 5 ایسے انجن جو مختلف حادثات میں تباہ ہوگئے ان کی مرمت پی ایس ڈی پی میں منظور کرالی گئی ہے اور اس پر کام جاری ہے۔ 600 کوچز کی مرمت اور 1200 ویگنوں کی مرمت اس کے علاوہ ہیں۔ سب سے اہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر 5000 ویگنیں اور 1000 مسافر کوچز کو بنانے کا منصوبہ ہے جو یہاں پاکستان ریلوے کی فیکٹریوں میں بین الاقوامی مکنیکل اور ریلوے انجینئرنگ کے ماہرین کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹریوں میں کام چلنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی خاطر خواہ مدد ملے گی اورپاکستان آنے والے وقت میں یہ کوچز اور ویگنیں اپنی فیکٹریوں میں تیار کرنے میں خودکفیل ہوسکے گا۔ واضح رہے کہ اس پر اجیکٹ کے لیے بھی بین الاقوامی کمپنیوں سے expression of interestطلب کیا جاچکا ہے۔ پاکستان ریلو ے 2020ء میں ٹریکر کی سہولت کے ساتھ معذوروں اور بوڑھے افراد کی آن لائن ٹکٹنگ کا اجراء بھی کرچکاہے۔ مسافروں کا آن لائن بکنگ کی طرف خاصا رجحان ہے اور اس وقت آن لائن ٹکٹنگ 60 سے 70 فیصد تک پہنچ گئی۔پاکستان ریلوے میں نئے ”رابطہ“جیکٹ کے حوالے سے حکام بتاتے ہیں کہ ہمارا کسٹمر چاہے وہ تاجر ہو یا مسافر اُس کے اور ریلوے کے درمیان انسانی عمل داری کم سے کم کرنا چاہتے ہیں اور اس لیے”رابطہ“ کے نام سے خاص interface لانچ کیا گیا ہے جس کے بعد مسافر ٹی ٹی،بکنگ سٹاف یا کسی ریلوے عملہ کے رحم وکرم پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اپنی سیٹ فون سے چلتی ٹرین میں بھی بُک کراسکے گااس حوالے سے پائلٹ پراجیکٹ میں راولپنڈی اور لاہور کے درمیان ریل کار عملے کو ہینڈ ہیلڈر ڈیوائس دے دئیے گئے ہیں جن کے ذریعے ٹکٹ کے پیسے ٹرانسفر اور بکنگ سب آن لائن ہوگی۔ ریلوے نے آٹو میشن کی طرف بڑھتے ہوئے تمام ملازمین کا ڈیٹا بھی سافٹ ویئر سے لنک کردیا یعنی اب گھوسٹ ملازمین والا قصہ بھی ختم ہوا۔ پنشنر وں کو بھی اب پنشن اُن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ مزید یہ کہ پنشنوں کے مسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے خصوصی پنشن فنڈ قائم کیا جارہا ہے جس کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کو پنشن واجبات کے لیے دفتروں کے چکر لگانے اور انتظار کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ وہ فوری اپنا حق حاصل کرسکیں گے۔ پاکستان ریلوے نے حادثات اور خاس طور پر لیول کراسنگ حادثات کو کنٹرول کرنے کے لیے 1600 غیر قانونی راستے بند کردیئے ہیں۔ پاکستان ریلوے اسی سال اپنی کالونیوں کو ڈسٹریبوشن پاور کمپنیوں کے حوالے کرے گا اور بجلی کے نئے میٹر لگائے گا جس سے ڈھائی ارب کی بچت متوقع ہے۔ ریلوے کو لفظ خسارہ کے ساتھ نتھی کردیاگیاہے۔ ریلوے پرائیویٹ کمپنی نہیں جو صرف پرافٹ یا آمدن کے لیے کام کرتی ہے مثلاً کراچی سے پشاور تک کا کرایہ 1600 روپے ہے کیا کوئی اور ٹرانسپورٹ سروس اتنے کم کرائے میں مسافروں کوسفری سہولت دیتی ہے؟ریلوے عوام دوست سواری ہے جس کی پبلک کی طرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سستا اور محفوظ سفر عوام کو فراہم کرے۔ پوری دنیا میں ریلوے فریٹ سے کماتی ہے اور عوام یعنی اپنے مسافر کو سہولت دیتی ہے۔ اوپر بیان کیے گئے تمام پراجیکٹس فریٹ بڑھانے میں اہم ہیں پاکستان ریلوے بھی حکومت سے سبسڈی لیتا ہے تاکہ پسنجر کو سستا اور محفوظ سفر میسر ہو اور پنشنروں کے گھروں کے کا چولہے جلتے رہے۔ جلد ہی پاکستان ریلوے سی پیک اور دیگر پراجیکٹس کے ذریعے اپنا احیاء کرے گا۔ وزیر ریلو ے اعظم خان سواتی کی سربراہی میں چیئرمین ریلوے حبیب الرحمن گیلانی،چیف ایگزیکٹوآفیسر پاکستان ریلویز نثار احمد میمن ریلوے کو نہ صرف درست سمت دے رہے ہیں بلکہ یہاں گزشتہ منصوبوں کی رفتارتیز کردی گئی اور آنے والے وقت کے لیے پلان بھی جنگی بنیادوں پرتیار کیاجارہاہے۔ اس سلسلے میں دفتری ڈھیل یا سُستی سے نمٹنے کے لیے وزیر ریلوے کی جانب سے دودن میں فائل پر فیصلے کا حکم بھی جاری کردیاگیاہے۔ قبضہ مافیا کو وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے صاف ا ور واضح پیغام دیاہے۔ چند دنوں میں سوا دو ارب مالیت کی اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔ وزیر ریلوے نے محفوظ سفر، بااخلاق عملہ، صحیح اوقات کار اور صفائی کا پالیسی بیان دے کر بہتر اور عوام دوست ریلوے کے سفر کو آگے بڑھایاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com