ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو طعنہ زنی کرتے ہیں

ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو طعنہ زنی کرتے ہیں
محمد ثاقب منیر ،کر اچی
معاشرتی سوچ کو پروان چڑھنے میں برسوں لگ جاتے ہیں کہ سماجی خدوخال انسان کے اندر نشونما پاتے ہیں جو عمر کے ساتھ ساتھ ذہن کی دیوار پر آویزاں ہوتے رہتے ہیں جن کا عکس انسان کے قول و فعل میں جھلکتا ہے ۔اور یہی عکس انسان کے کردار کی نمائندگی کرتا ہے کسی کو عالم اور کسی کو جاہل بنادیتا ہے کہیں امیر اور غریب کی تشریح کرتا ہے کسی کے حصے میں محبت اور کسی کے حصے میں نفرت آتی ہے اسی معاشرتی سوچ کا ایک حصہ غیبت کو بھی متعارف کرواتا ہے غیبت کو اگر اخلاقی برائی کی جگہ بیماری (وبائی) کہا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا کیونکہ غیبت ایک ایسی عادت ہے جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوجاتی ہے ۔آج اس تیز، مشینی دور میں ہم کئی اخلاقی بیماریوں کی زد میں ہیں ہم اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ہم شب و روز ترقی ،عروج کی منازل کو طے کر رہے ہیں اور اپنی ذہنی دنیا کو وسیع سے وسیع تر بنارہے ہیں لیکن حقیقت اس سے برعکس ہے مثلاً وہI.Tکی دنیا جسے ہم اپنے عروج کا سہرا پہناتے ہیں بہت سی برائیوں کی جڑ ہے ،ان (Social Sites)کی وجہ سے ہم قریب نہیں بلکہ دور ہورہے ہیں رشتوں میں محبت ،خلوص کی جگہ کدورت نے لے لی ہے۔Facebook, Twitterوغیرہ نے وقت کی بچت اور فاصلوں کی دوری کو تو ختم کردیا ہے لیکن احساس ،برداشت،بھائی بندی اور دوسرے اخلاق حسنہ کے اجزاء کو رشتوں سے تقریباً ختم ہی کردیا ہے ۔
غیبت بھی ایک ایسی ہی برائی ہے جو ہماری انفرادی اور اجتمائی زندگیوں میں اپنے سحر انگیز تاثرات کو متعارف کرواتی ہے غیبت اس عادت ،بات وغیرہ کو کہتے ہیں کہ جو ایک انسان میں پائی جاتی ہے اور کوئی دوسرا شخص اسی عادت کو کسی اور کے سامنے (اس کی اجازت کے بغیر بیان کرتے ہیں )جو پہلے شخص کو ناگزیرگزرے ۔انسانی جبلت ایک سے کوئی زیادہ کیفیات کا مرقع ہے خوشی،غمی،محبت،نفرت حالات کے مزاج کے مطابق انسان کی شخصیت کا حصہ بنتے رہتے ہیں ۔اسی ضمن میں مایوسی کو صلاحیت کو غیبت کہا جاتا ہے کیونکہ مایوس انسان قدرت کی طرف سے عطاکردہ صلاحیتوں کا انکار کرتا ہے اسی وجہ سے مایوسی کو کفر کہاگیا ہے۔
غیبت اجتماعی زندگی کو بھی اپنی آلودگی سے آلودہ کرتا ہے جس کی بہترین مثال ہماری گھریلو زندگیاںہیں جس کی تنزلی کی وجہ غیبت کو سمجھا جاتا ہے جوکہ ایک حقیقت ہے غیبت کا عمل دخل ہمارے گھروں پر بھی ہوتا ہے جو رشتوں کی ضعیفی اور کمزوری کی وجہ بنتا ہے ہم ظاہری طور پر تو ایک دوسرے کی صحبت میں ہوتے ہیں ۔لیکن ہمارا باطن چہروں کی غیبت سے ناپاک ہوتا ہے۔مثلاً گھریلو خواتین خوش پوشی کوموضوع گفتگو بناکرخطاؤں کا انبار لگادیتی ہیں۔ساس بہو کے خاندان کی چھان بین کرتی ہے۔تو کہیں بہو اپنے شوہر کی مکمل توجہ حاصل کرنے کیلئے اپنے ہی رشتوں کے دامن عفت کو الفاظ کے نشتر سے لہولہان کردیتی ہے ۔اسی Trendکی وجہ سے جوائنٹ فیملی سسٹم ہمارے معاشرے سے ختم ہورہا ہے یہ رجحان دیہی خواتین میں کافی زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔غیبت کی تباہ کاریوں سے معاشرتی وجود بھی متاثر ہوتا ہے ۔کیونکہ معاشرتی بنیادیں محبت،بھائی چارے اور اتفاق ی دولت میں پوشیدہ ہوتی ہیں ۔لیکن جس سماج میں غیبت کانام لیوا ہو وہاں اخلاقیات ،مع اقدار کا جنازہ اُٹھتا ہے خود غرضی اور مطلب پرستی ،غرور وتکبر جیسے اخلاقی گناہوں کی زد میں ہے ۔ یہاں تک کہ ہم اپنے ہمسائیوں کی اچھی عادات کو غیبت کی شکل دے کر موضوع گفتگو بناتے ہیں۔ہم اس قدر اپنی زندگیوں میں کھوچکے ہیں کہ ہم سے دوسروں کی نہ تو خوشی برداشت ہوتی ہے۔ اور نہ ہی غم زدہ چہرے ہماری مزاج پرسی کی وجہ بنتے ہیں ہم اپنی نہیں بلکہ دوسروں کی نظروں میں جینا چاہتے ہیں ۔
’’نفس کے دیس میں اکثر خواہشوں کا بسیرا ہوتا ہے ۔جائز اور ناجائز کی تمیز انسان کی ذہنی و قلبی صلاحیت کیلئے ہوتا ہے ۔اگر ایک خواہش دوسری خواہش کو جنم دے تو وہ نفس کے تابع ہوتی ہے۔لیکن جو تمنا حرف شکر سے لبریز ہوتی ہے وہ باطن کی تازگی کا سبب بنتی ہے ‘‘۔
آج کا دور بھی عجیب دور ہے جس میں ہم نصیحت کو توجہ نہیں دیتے بلکہ غیبت جوکہ ایک فریب ہے اس کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں ۔
’’جوتمہاری غیبت کرتا ہے وہ تمہیں فائدہ پہنچاتا ہے کیونکہ جب وہ تمہاری غیبت کرتا ہے اس کے تمام اچھے اعمال (نیکیاں ) تمہارے نامے اعمال میں درج کردی جاتی ہیں‘‘ ۔
کسی دانا نے غیبت کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ فاسق کی برائی بیان کرنا غیبت نہیں ہے
یہ قو ل اپنی گو د میں وسیع مفہو م لیے ہو ئے ہے کہ گنہگار انسا ن کی بر ائی بیا ن کر نا اس کے اخلا قی جر م(غیبت) کو کسی کے سامنے پیش کر نا غیبت کے زمر ے میں نہیں آ تا کیو نکہ ہر بر ائی کی رو ک تھا م کے لئے ضر و ر ی ہے کہ اس کی تجا رت نہ کی جا ئی اور اسے بنا گفتگو کا حصہ بنا ئے لمحو ں کے قبر ستا ن میں دفن کر دیا جا ئے تا کہ کل کو کوئی غیبت جیسے گناہ کبیر ہ کو اپنا کر اخلا قیا ت کی دھجیا ں نہ اڑا ئے کہ جس زما نے کہ ہم با سی ہیں و ہا ں مطلب پر ستی کی پو جا تو کی جا تی ہے مگر نیکیو ں کو اپنے کر دا ر کا حصہ بنا تے و قت دس با ر سو جھتے ہیں۔
حکا یتو ں کی دنیا کے علمبر دار اور شعرا ء آ فا قـ تصنیف ”بوستا ن”کے مصنف ،شیخ سعد یؒ فر ما تے ہیں کہ جب آ پ مجھ میں کو ئی عیب دیکھو تو مجھ سے کہو کسی اور سے نہیں کیونکہ عیب کو مجھے ہی بد لنا ہے کسی اور کو نہیں مجھ سے کہو گے تو نصحیت کہلا ئے گی اور اجر لکھا جا ئے گا۔کسی اور سے کہو گے تو غیبت کہلا ئے گی اور گنا ہ لکھا جا ئے گا۔
حا صل کلا م غیبت کے اثرات ظا ہری طبیعت کے بجا ئے رو حا نی طبیعت پر زیا دہ رنما ہو تے ہیں جو باطن کو آ لو دہ کر دیتے ہیں۔پھر انسا ن اپنا غلا م بن جا تا ہے۔ایک ایسی زندگی جہا ں اسے صرف اپنا عکس نظر آ تا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com