جمہوریت ‘سیاست اور نظام

رائو غلام مصطفی
جمہوریت ‘سیاست اور نظام!
جمہوریت ایک پیچیدہ اصطلاح ہے جس کی کئی تشریحات کی جاتی ہیں جمہویت ایک سیاسی‘اخلاقی‘معاشرتی اور معاشی ڈھانچے کا نام ہے جمہوریت کے وضع کردہ اصولوں کی بنیاد پر ہم کسی حکومت‘ریاست‘معاشرے یا نظریے کو جانچ سکتے ہیں کہ یہ نظام یا نظریہ جمہوری تقاضوں کے ہم آہنگ ہے یا نہیں۔جمہوری حکومت سے مراد ایک ایسی طرز حکمرانی ہے جس میں اختیارات اور فیصلہ سازی کا منبع عوام ہوتے ہیںعوام اس بات کا تعین کرتی ہے کہ انہیں کس طرح کا حکومتی‘انتظامی‘عدالتی‘معاشی اور معاشرتی نظام پسند ہے۔جدید جمہوریت کے پس منظر میں تین بڑے تاریخی عوامل کار فرما ہیں برطانوی پارلیمانی نظام‘انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب جدید جمہوری نظام کی بنیاد انیسویں صدی میں رکھی گئی اور بیسویں صدی تک یہ تمام یورپ میں پھیل گئی۔چرچل کے نزدیک آج تک جتنے بھی نظام آزمائے گئے جمہوریت ان میں سے بہترین نظام ہے اگر جمہوریت کی موجودہ قسموں پر غور کیا جائے تو دو طرح کے جمہوری نظام سامنے آتے ہیں ایک طرز جمہوریت جیسا کہ امریکہ‘سویڈن اور برطانیہ میں رائج ہے جبکہ دوسری نیم جمہوریت جو کہ مشرقی ممالک میں رائج ہے ۔جمہوریت ایک بہترین نظام ہونے کے ناطے حکومت‘ریاست اور عوام پر کچھ غیر معمولی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے ۔سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ عوام روشن خیال‘تعلیم یافتہ اور با شعور ہوں تاکہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں پامال نہ ہونے دیں اور اپنے حق حکمرانی کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت تیار رہیں جبکہ ریاست کے اعضاء اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ریاست کی بہتری کے لئے کوشاں رہیں ۔سیاسی جماعتوں پر چند افراد یا خاندانوں کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے جمہوریت میں ہی ملک و معاشرے کی ترقی و خوشحالی کا راز مضمر ہے لیکن یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ریاست اور عوام اپنی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اسے ایمانداری کیساتھ نبھائیںکیونکہ جمہوری تقاضوں کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ اصول و ضوابط بھی ہیں ۔اگر پاکستان میں رائج طرز جمہوریت کا جائزہ لیا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر اب تک سیاستدانوں اور جمہوری سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی اصل روح سے انحراف کرتے ہوئے اپنی وضع کردہ بے جا جمہوریت سے خوب فائدہ اٹھایا لیکن عوام کے مفادات اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا۔آج ملکی حالات انہی سیاستدانوں نے اس دوراہے پر لا کھڑے کئے ہیں جہاں خطے اور ملک کے موجودہ حالات اس بات کی قطعی اجازت نہیں دیتے کہ ملک کو ایک سیاسی اکھاڑہ میں تبدیل کر دیا جائے جہاں صرف یہ سیاستدان ایک دوسرے کو پچھاڑ نے کی تگ و دو میں نورا کشتیاں کرتے نظر آئیں۔ملک میں ایسی فضا قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں عوام کا حکومت‘افواج پاکستان اور اس نظام سے اعتماد اٹھ جائے عوام کا حکومت‘نظام اور افواج پاکستان پر عدم اطمینان کا مطلب انار کی کے سوا کچھ نہیں ہو گا ملک میں اس وقت نوجوان ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد ہیں اور سب سے زیادہ نوجوان طبقہ ہی مسائل کے مصائب کا شکار ہے جس کے باعث نوجوان اس ملک کے فرسودہ جمہوری نظام سے اس لئے بیزار نظر آتا ہے کیونکہ اس نظام نے سوائے مایوسی کے اسے کچھ نہیں دیا۔عوام کے مسائل دیکھ لیں وہ اپنی جگہ ساکت ہیں جبکہ ان مسائل کا حل ڈھونڈنے والوں کی سیاست ان کے مفادات کی چوکیدار ہے ۔دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی‘غربت و بیروزگاری‘سیاسی و معاشی عدم استحکام‘اور اسیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ جیسے مہلک مسائل عوام کے لئے مزید تلخی کا باعث بن رہے ہیںہم کس عہد میں زندہ ہیں اور اس عہد کا کردار کیا ہے۔آج عالمی افق پر بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایسی تبدیلیاں جن کا تصور محال تھا اس کے برعکس پاکستان میں نعرے‘وعدے اور دعوے تو تبدیلی کے لیکن عملا بنیادی مسائل مزید مہلک بن کر عوام کی رگوں میں خون کی طرح گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔جہاں غربت و بیروزگاری‘بھوک‘مہنگائی‘بد امنی‘کرپشن‘لاقانونیت‘انصاف کی عدم دستیابی‘اقرباء پروری جیسے مسائل دھرتی کا رقص بن جائیں ایسے معاشر وں اور ملکوں کو ایسے مسائل دیمک کیطرح چاٹ کر تاریخ کا رزق بنا دیتے ہیں۔پاکستان میں بسنے والا نوجوان اس روایتی سیاست اور نظام سے لا تعلق اور بیزار نظر آرہا ہے اور یہ منظر نوجوان نسل کے بلند سیاسی شعور کی غمازی کر رہا ہے آج کا نوجوان اس نتیجہ پر پہنچ چکا ہے کہ ملک میں موجود ان مروجہ سیاسی جماعتوں کے پاس عوام کو درپیش بنیادی انسانی مسائل سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح پروگرام نہیں ان حالات میں نوجوان نسل کی نئے متبادل کی تلاش اور جستجو میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ۔تاریخ کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر دیکھ لیں دنیا میں تبدیلی کی جتنی بھی تحاریک نے سر اٹھایا ان میں نوجوانوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا یقین جانئیے جب نوجوان تبدیلی کے لئے کسی تحریک کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو پھر سماج کے پسے طبقے بھی ان کے ہمنوا بن کر تحریکوں کو تقویت بخشتے ہیں ۔حکومت اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس بات کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ موجودہ حالات کی ضروریات یکسر تبدیل ہو چکی ہیں حالات بدلنے کے دعویدار سیاستدان اور سیاسی جماعتیں اب ڈگڈگی تماشا بند کریں عوام سمجھتی ہے کہ اب اگر منتخب حکومتیں اور سیاستدان صرف اپنے ہی سرمائے کو ضرب دے کر اچھے حالات کی نوید سناتے رہیں گے تو ان کے حالات کبھی نہیں بدل سکیں گے۔موجودہ سنجیدہ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھنے اور پرکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگر نوجوان نسل کو جب تک ان کی اہلیت و قابلیت کے مطابق ان کا حق دے کر قومی دھارے میں شامل نہیں کیا جاتا اور عوام کے بنیادی مسائل کا حل ڈھونڈ کر ٹھوس عملی اقدامات نہیں کئے جاتے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس خود ساختہ سیاسی و روایتی جمہوری نظام میں سما سکیں اس ملک کے نظام کو ہم جمہوریت کے تقاضوں کے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہی اس ملک کو اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی عملی شکل دے سکتے ہیں ۔اقوام متحدہ کا چارٹر آئین پاکستان جن بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پاکستان پر عائد کرتاہے سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس فرض کے قرض کو چکا رہی ہے اگر نہیں تو ان حالات میں یہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ پاکستان کا موجودہ نظام عوام کے لئے زہر قاتل ہے جو عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا ضامن نہیں۔ماہرین کے مطابق جتنی تبدیلیاں سو برس میں آنی تھی وہ آج محض دس برس کی مسافت پر ہیں زمینی حقائق اور تاریخی ارتقاء سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کہ ہم آئے روز سڑکوں پر ملک کی غلیظ سیاست کا کٹھ پتلی تماشا دیکھتے ہیں اگر ملکی حالات اسی ڈگر پر گامزن رہے اور سیاستدانوں نے عوام کش اپنی روایتی روش ترک نہ کی اور عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا تو دنیا میں آنیوالی تبدیلی کے حالات بہت کچھ بہا کر لے جائیں گے تخت اور تخت نشینی کی سیاست کرنے والوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے کہ حالات نے دستک دے دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com