کرپشن بے نقاب ہوئی توپریس کلب مسمارکیوں؟

کرپشن بے نقاب ہوئی توپریس کلب مسمارکیوں؟
علی جان
صحافی کاکام ہے جہاں پرغلط کام ہورہاہواس کی نشاندہی کرنااورپولیس کاکام ہے اس پر کاروائی کرنا مگرافسوس کہ جب سے پاکستان آزادہواتب سے پولیس اپنامعیاربہتربنانے میں ناکام رہیاورجوبھی نیاافسرآیااس نے قانون کی دھجیاں ہی اڑائیں۔بھلاہوسوشل میڈیاکاجب سے فیسبک،انسٹاگرام وٹس ایپ جیسے ایپ آئے ہیں ان پولیس آفیسران کو تو اپنی پبلسٹی کے علاوہ کچھ آتاہی نہیں ابھی کوئی کام کیانہیں ہوتااس کی پوسٹ پہلے لگ چکی ہوتی ہے ایک موبائل افسرکے ہاتھ میں ہوتاہے تواپنے آفس میں سپیشل سوشل میڈیاانچارج پوسٹ بنانے کے چلانے کیلئے ہمہ وقت تیارہوتاہے۔میں نے علاقائی صحافی کے مسائل پرکئی آرٹیکل لکھے جن پرسینئرزصحافیوں نے خوب سراہاجس سے محسوس ہوتاہے کہ دوست نہ صرف میرے آرٹیکل پڑھتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ خوشی تب ہوتی ہے جب سینئرز دوست اصلاح بھی کرتے ہیں مجھے صحافت میں آئے چندہی سال ہوئے ہیں مگرایک ایساواقعہ دیکھنے کوملاکہ دل ڈرساگیا جب میں نے فیسبک پردیکھاکہ اسسٹنٹ کمشنرجتوئی نے تحصیل پریس کلب جتوئی کی عمارت مسمار کرادی ایسی پوسٹ کردل میں درد ساہوااگراب میرادردکوئی دوست محسوس کرناچاہتاہے تووہ سوچے کے ان کاگھرکوئی گرادے توکیسامحسوس ہو؟ اب یہاں میرے کچھ دوستوں کاسوال ہوگاکہ میں تولاہورمیں مقیم ہوتومظفرگڑھ کی تحصیل کے واقع پر دل کیوں دکھتاہے تومیں اپنے ان دوستوں کوبتاتاچلوں کہ راقم کا تعلق ضلع مظفرگڑھ سے ہے اورمیری صحافت اورکالم نگاری کرنے والے معززاساتذہ کرام اسی ضلع میں ہی رہتے ہیں اورآج بھی اگرکوئی مسئلہ درپیش ہوتواپنے اساتذہ کرام سے ہی مددکیلئے رابطہ کرتاہوں۔
اب آے ہیں اصل مسئلہ پر توقارائین کرام اسسٹنٹ کمشنرجتوئی زریاب ساجد کمبوہ جسے فوٹوسیشن کاخماررہتاہے اورہرایک وقوعہ کی جب تک سوشل میڈیاپردھوم نہ مچے یااخبارات میں خبرنہ لگے تووہ اپنافرض پوراسمجھتے ہی نہیں۔صحافی کاکام ہوتاہے کوئی براکام کرے تواس کے چہرے سے اچھائی کاماسک اتارنااورکوئی اچھاکام کرے تواسے سرہاہانہ تاکہ ایسے کاموں سے معاشرے کابھلاہوسکے مگراسی بات نے اسسٹنٹ کمشنرکو غلط فہمی میں مبتلاکردیااوراس نے سمجھاکے سارے صحافی میں مریدبن چکے ہیں اسی غلط فہمی کی آڑمیں آکرلاک ڈاؤن شروع ہوتے ہی زریاب ساجد کمبوہ نے کرپشن اورگھپلے شروع کردیے اورلاک ڈاؤن میں اپنے بنک اکاؤنٹ کو ابھرناشروع کردیا جیساکہ ہرعقلمندجانتاہے کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ہے اس سے کچھ نہیں چھپ سکتاتوکرپشن کیسے چھپ سکتی تھی توصحافیوں نے کرپشن کی خبریں لگادیں تواسسٹنٹ کمشنرنے صحافیوں کو دھمکیاں دیناشروع کردیں مگراے سی کے ایک کے بعد ایک راز فاش ہوتے گئے اوراخبارات کی زینت بنتے گئے تواے سی بوکھلاگیااورتحصیل پریس کلب جتوئی پہنچ کر میونسپل کمیٹی کے عملہ کے ساتھ اپنی کرسی کی طاقت کے زورپرپریس کلب میں بیٹھے صحافیوں کوباہرنکال کرپریس کلب مسمارکردیا۔محترم قارائین تحصیل پریس کلب جتوئی کو2004میں اس وقت کی انتظامیہ نے صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے عمدہ قدم اٹھاتے ہوئے پریس کلب تعمیرکروایامگراس 16سالہ پرانی عمارت کوزریاب ساجد نے نہ صرف مسمارکیابلکہ صحافیوں پر سنگین الزامات لگائے جس پرمظفرگڑھ کی عوام نے صحافیوں کوسپورٹ کرتے ہوئے پولیس کی غنڈہ گردی قراردیا۔قارائین آپکویہاں بتاتاچلوں تحصیل جتوئی کی ڈویژن ڈیرہ غازی خان ہے یعنی وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی ڈویژن اب ہرکوئی یہی سوچ رہاہے کہ انصاف حکومت میں اوروزیراعلیٰ کی ہی ڈویژن میں صحافیوں کے ساتھ ایسانارواسلوک سوچ سے بالاترہے۔جناب وزیراعلیٰ صاحب صحافی اس عمارت میں بیٹھے تھے مگراسسٹنٹ کمشنرجتوئی کیاان 16سال میں کسی نے کوئی نوٹس نہ دیاوراسسٹنٹ کمشنرنے بناکوئی نوٹس دیئے صحافیوں کو بلڈنگ سے باہرنکال کر کمپیوٹر،کیمرے،فرنیچراوراہم دستاویزات میونسپل کمیٹی کی ٹرالی میں ڈال کر لے گئے جس پر کئی لوگوں کاصحافت جیسے مقدس پیشہ سے ڈرلگنے لگا۔اسسٹنٹ کمشنرکہتاہے کہ ناجائز قبضہ کیاہواہے تومیں جناب کوعرض کرتاچلوں کہ ہزاروں کنال زمین قبضہ مافیانے ڈیرے جمارکھے ہیں وہاں پرتوموصوف کی نگاہ نہیں پڑتے اوریادرہے یہ بلڈنگ صرف آدھے مرلے پر تھی اورجب تک اسسٹنٹ کمشنرکے خلاف خبریں نہیں لگ رہی تھیں تب بھی یہ نظرنہیں آرہی تھی مگر جب سے کرپشن بے نقاب ہوئی تواپناشہنشاہی پروانہ جاری کرتے ہوئے سارا غصہ تحصیل پریس کلب کی بلڈنگ پرنکال ڈالا۔اگرکسی کوصحافیوں کی خبروں پر تھوڑاسابھی شک تھاتووہ یقین میں بدل گیااورسوشل میڈیاپر یہ خبرایسی چلی جیسے جنگل میں آگ لگ گئی ہواس کے بعدصحافیوں نے ہنگامی اجلاس بلائے مظفرگڑھ کے پریس کلب کے علاوہ ملک بھرمیں مذمتی پوسٹیں اورخبروں کاسلسلہ شروع ہواجس میں مختلف صحافتی یونینز نے بھی اپناخوب کرداراداکیا۔علی پورجتوئی کے صحافیوں نے سینئرصحافی ہدایت رضوری کی قیادت میں اسسٹنٹ کمشنرسے مذاکرات کے ذریعے معاملہ کو حل کروانے کی کوشش کی مگراسسٹنٹ کمشنرزریاب ساجد نے کہاکہ میں قدم اٹھاچکاہوں اوراب اگرمیں پیچھے ہٹاتومیری عزت چلی جائے گی ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے معاملہ کو حل کرنے سے انکاری ہواجس کے بعدریجنل یونین آف جرنلسٹس جوکہ جنوبی پنجاب کی صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے نے کمانڈ سنبھالی اورسینئرصحافی فاروق شیخ،ملک عنصرآفتاب،سیدہدایت رضوی،راناہارون الرشید،ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی،رضوان الحسن قریشی ویگرسینکڑوں سینئرز دوستوں نے ڈپٹی کمشنرامجدشعیب ترین سے ملاقات کی تو ڈپٹی کمشنرنے صحافیوں کے تحفظات کواحسن طریقے سے ختم کرانے کیلئے اپناکرداراداکرنے کی یقین دہانی کرائی اورتحصیل پریس کلب کے معاملہ کو حل کرانے کیلئے کمیٹی تشکیل دے اور16مئی بروز ہفتہ کو صحافیوں کے ارکان کوبلا کے اسسٹنٹ کمشنرزریاب ساجد کمبوہ کوبھی طلب کیا۔آخرسولہ مئی کادن بھی آگیااورڈی سی آفس میں امجدشعیب ترین نے مشاورتی اجلاس کی صدارت کی جس میں کثیرتعدادمیں منجھے ہوئے صحافی اوراسسٹنٹ کمشنرشریک تھے ڈپٹی کمشنرنے تمام تنازعہ کو باہمی اتفاق رائے سے ختم کرتے کراتے ہوئے فریقین کے درمیان اہم کرداراداکیااورصحافیوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کو تکمیل کرتے ہوئے تحصیل پریس جتوئی کی عمارت فراہم کرنے کیلئے اے ڈی سی فنانس اوراسسٹنٹ کمنشرجتوئی کوفوری عملی عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی جس پر24گھنٹے کے اندرتحصیل پریس کلب کی جتوئی کی عمارت صحافیوں کے حوالے کردی جائے گی۔آخرکارسچ کی جیت ہوئی اورکوڑ دے منہ وچ دھوڑوالی مثال سچ ثابت ہوگئی یقیناً اللہ پاک نے قلم کی قسم اٹھائی تواسی ذات نے قلم کی عزت کی لاج رکھ لی اورجوتکبراورجلال میں سراٹھاکے آئے تھے ان کا تکبرسچ کے آگے ریزہ ریزہ ہوگیا۔ان تمام تنازعہ میں ایک خوش آئندبات دیکھنے کوآئی ہے کہ جوصحافی سالہاسال ایک دوسرے سے ملتے نہیں تھے آج ہرمنٹ میں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے اورایک جٹ ہوکرمقابلہ کیاوراتفاق میں برکت والی مثال کو بھی پھرسے تازہ کردیااورجیت کاسہرااپنے سرسجالیا۔صحافیوں کی اس جیت میں اگرڈپٹی کمشنرامجدشعیب ترین کویادنہ کیاجائے تو منافقت ہوگی اورمیری قلم نے کبھی منافقت کی نہیں آخرمیں تمام صحافتی تنظیموں،تمام پریس کلب اورفردفرد صحافی دوستوں کو مبارکباد پیش کرتاہوں اورامیدکرتاہوں آگے بھی ایک جٹ کررہیں گے اوراس بات کو یاد رکھیں گے کہ صحافت اورقانون پاکستان کے الگ الگ ستون ہیں ضرورہیں اگریہ دونوں مل کرکام کریں توپاکستان مضبوط ومستحکم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com