کرونا، انتظامیہ اور مخدوم دے بچڑے

کرونا، انتظامیہ اور مخدوم دے بچڑے
جام ایم ڈی گانگا
نیکی بدی،دکھ سکھ، انسانیت حیوانیت، طرح طرح کی آزمائشیں، بلائیں، وبائیں ان سمیت جو کچھ بھی ہے. اگر دیکھا جائے تو یہ دنیا ہے ہی آزمائش کا جہان. انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں کن کن ادوار اور مراحل سے گزر کر آج ہم یہاں پہنچے ہیں. اللہ تعالی اور نبی آخرالزمان محمد مصطفی ص نے اپنی زندگی میں ہی آنے والے بہت سارے حالات کے بارے میں پیشن گوئیاں کر دی تھیں. قیامت کی نشانیاں، قیامت کے حالات، قبر اور آخرت کے حالات تک ہمیں بتائے جا چکے ہیں.امام مہدی کی آمد و اس دور کیحالات اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس دنیا میں دوبارہ تشریف آوری اور دجال بارے بھی بتایا جا چکا ہے. قبر میں پوچھے جانے والے تین سوالات تک بھی بتا دئیے گئے ہیں.یہ سب کچھ عرض کرنے کا مطلب و مقصد یہ ہی کہ ہمیں بحیثیت مسلمان گمراہی سے بچنا چاہئیے. اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے مسائل و مشکلات اور آزمائشوں کے ساتھ قران و سنت سے رہنمائی حاصل کرکے مقابلہ کرنا چاہئیے. وباؤں اور فتنوں سے بچنے کے لیے احتیاط اور تدابیر کے احکامات پر بھی سختی سے عمل کرتے ہوئے توکل اللہ کرنا چاہئیے.اللہ کی طاقت اور اللہ کی رحمت پر کامل یقین کے ساتھ بھروسہ کرنا چاہئیے. اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنے والوں کو آخر چھٹکارا مل ہی جاتا ہے.ذرا غور تو فرمائیں اللہ نے اپنے انبیاء کرام کو بھی کیسی بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرا ہے.دنیاوی طاقت اور سپر پاور کی گمراہ سوچ کی دوڑ میں کرونا وبا ایک آزمائش ہے آنے والے ادوار میں ہمیں ایسی کئی مزید آزمائشوں اور امتحانوں سے گزرنا ہوگا. میری دعا یے کہ اللہ تعالی ہم سب کو کرونا سے، دجالی فتنے کے ریہرسل فتنوں سے محفوظ فرمائے اور دجال کے فنتے سے بھی. ہر حال میں ایمان کی سلامتی کے ساتھ رکھے آمین.
محترم قارئین کرام،، ہمارے دوست صوفی استخارہ فیم علامہ حسین احمد سعیدی کا کہنا ہے کہ ایسٹر کے موقع پر کرونا وائرس سیمتعلق بہت سارے حقائق منظر عام پر آ جائیں گے. اس کے ساتھ ہی کرونا زور ٹوٹ جائے گا، حالات بہتری کی طرف گامزن ہونا شروع ہو جائیں گے. دوستو میں نہ تو علامہ ہوں اور نہ عامل، نہ ڈاکٹر اور سائنس دان. کرونا وائرس کے حوالے سے آنے والے دنوں میں کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا.مجھے تو ایسے لگا ہے کہ ہمیں کم و بیش عیدالفطر تک جزوی لاک ڈوان جیسے حالات کے ساتھ گزارنا ہوگا. حکومت اور مخیر حضرات مل کر بھی اتنا عرصہ متاثرین کو راشن فراہم نہیں کر سکیں گے. قوم عقل اور شعور کا عملی مظاہرہ کرے. کرونا سے متعلق حفاظتی احکامات و ہدایات پر از خود سختی سے عمل کرے. وطن عزیز کے ہر گھر کا ہر فرد اپنے آپ کوصاحب احساس اور ذمہ دار شہری ثابت کرتے ہوئے ہر حال میں ہر جگہ اور ہر سطح پر احتیاط کو اپنے اوپر لازم اور فرض سمجھ کر ادا کرے تو میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نیا ضابطہ جاری کرکے لاک ڈوان میں ریلیف دینے کی جانب جا سکتی ہے. لوگوں کو بھوک سے مرنے اور معیشت کا کباڑا کرنے سے بچا جا سکتا ہے.پہلے بھی لوگوں کے عدم تعاون کے رویے کی وجہ سے ہی یہ جزوی لاک ڈاون کرنا پڑا ہے. دعا کریں کہ اللہ کرم کرے کرونا کنٹرول ہوکر ختم ہو جائے. عوام نے اگر اس حساس مرحلے کا احساس نہ کیا تو یاد رکھیں حالات مکمل لاک ڈاون اور کرفیو کی طرف بھی جا سکتے ہیں. حکومت کو چاہئیے کہ وہ کرونا کی سکریننگ چیکنگ اور علاج کی سہولیات کے حوالے سے اقدامات کو تیز کرے اور بڑھائے. مخیر حضرات ہسپتالوں میں کیٹس اور آلات کی فراہمی جیسے صدقہ جاریہ کے کام میں آگے بڑھیں. تاکہ کرونا کا خوف اور وباء دونوں ٹل سکیں.
میرے ضلع رحیم یار خان کے ہردلعزیز سیاستدان سابق گورنر پنجاب و سابق وفاقی وزیر مخدوم احمد محمود لندن کے دورے پر تھے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے وہاں پھنس گئے ہیں. ضلع کے عوام ان کی بڑی کمی محسوس کر رہے ہیں اور ان کے لیے دعا گو بھی ہیں کیونکہ لندن میں کرونا کے خطرات پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں. بہرحال ان کی عدم موجودگی میں ان کے صاحبزادے ایم این اے مخدوم مصطفی محممود، ایم پی ایز مخدوم مرتضی محمود، مخدوم عثمان محمود اپنی ٹیم کے ہمراہ علاقے میں موجود ہیں. گذشتہ دنوں مخدوم دے بچڑوں مطلب صاحبزادوں کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال صادق اور ضلعی ہیڈ کوراٹر کے شیخ زاید ہسپتال کے دورہ جات کی تصاویر دیکھی تو سوچا کہ یقینا ہسپتالوں کے لیے کوئی نہ کوئی پیکیج ضرور آئے گا.حاجی غلام کبریا کی طرح وہ ہسپتالوں کو کچھ نہ کچھ ضرور ڈونیٹ کریں گے.معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ آپ صاحبان ڈاکٹروں کی خدمات کو سراہنے اور سلام پیش کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانیکے لیے گئے ہیں.مسائل سننے کے بعد کمال شفقت کرتے ہوئے موقع پر ہی وزیر صحت پنجاب محترمہ یاسمین راشد سے ڈاکٹروں کی بات بھی کروائی گئی ہے.ڈاکٹروں کو حفاظتی کیٹس اور سوٹ کی فراہمی کی جگہ گاڈ آف آنر اور سلیوٹ پیش کرنے والی حکومت کی وزیر صاحبہ نے آگے سے یقین دہانی کے علاوہ کچھ نہیں دیا.جہاں حکومتی ممبران کی نہ سنی جائے وہاں ویسے اپوزیشن کے ممبران اسمبلی کی کون سنتا ہے.حکومت نے رحیم یار خان کے ہسپتالوں کو کچھ دینا ہوتا تو یقین کریں وزراء بھائی آکر چوڑے ہو کر رحیم یارخان کے لیے طبی پیکیج اور سہولیات کی فراہمی کا اعلان کرتے.نوجوان مخدوم صاحبان وزیر صاحبہ اپنے دورہ رحیم یار خان کے دوران خود جو وعدے کر گئی تھیں ابھی تک تو وہ بھی پورے نہیں ہوئے.حکومت غریب عوام کو کچھ دینے کے لیے عوام سے ہی چندہ مانگ رہی ہے.سمجھنے والوں کے لیے اتنا ہی کافی ہے. میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ رحیم یار خان خطرے میں ہے. یہاں علاج کے لیے طبی سہولیات بڑھائی جائیں آلات فراہم کیے جائیں. ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان ایک انیشیٹیو لیں.ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر جہازیب لابر بھی جہاندیدہ اور صاحب بصیرت انسان ہیں. اللہ تعالی نے انہیں بہت ساری خوبیوں سے نوازا ہے. شیخ زاید ہسپتال کی مسنگ فیسیلیٹیز، خراب آلات کو ٹھیک کروانے اور ضرورت کے نئے آلات خریدنے کے لیے ایک فنڈ قائم کریں. ضلع کے تمام بڑے صنعتی اداروں تاجروں زمینداروں اور عوام کو فنڈز فراہم کرنے کی اپیل کریں.یقینا لوگ بھی فنڈز دیں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہسپتال کے معاملات و مسائل تو صرف یہ ادارے بھی باسانی حل کر سکتے ہیں لیور برادر، ایف ایف سی، فاطمہ فرٹیلائزر، شوگر ملیں وغیرہ.میں ایک سفید پوش زمیندار ہوں. میرے ضلع کا کپتان میرے ضلع کے ہسپتال کے لیے اگر کوئی ایسا فنڈ قائم کرتا ہے تو میں اپنی طرف سے پیشگی مبلغ پچاس ہزار روپے فنڈ دینے کا اعلان کرتا ہوں.ہمیں اپنے ہسپتالوں کے حالات بہتر کرنے ہوں گے.جہاں تک راشن تقسیم کرنے کا تعلق ہے الحمد اللہ ہم اپنے علاقے میں یہ کام بھی بغیر تشہیر کے کر چکے ہیں.مخدوم احمد محمود کی ٹیم کا مختار جام اورجام کبیر انڑ کی کپتانی میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مستحق متاثرین میں راشن تقسیم کا ایک منظم و مربوط طریقہ کار کے ساتھ میدان میں اترنا قابل تعریف ہے.جیوو مخدوم دے بچڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com