کرونا عالمی ادارے اور معیشت

کرونا عالمی ادارے اور معیشت
بادشاہ خان
پاکستان میں ایک بار پھر لاک ڈاون کا شور ہے، ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک مقاصد پورے نہیں ہوئے، ورنہ دوسری طرف دنیا بھر میں لاک ڈاون ختم ہونے کو ہے، خود عالمی ادارے یہ کہنے پر مجبور ہیں، لاک ڈاون حل نہیں ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس شاید کبھی بھی ختم نہ ہو اور دنیا کو اس کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔اسی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاون ختم کئے جارہے ہیں، لیکن پاکستان میں میڈیا میں موجود چند عناصراب بھی ڈر کے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے سرگرم ہیں، قارئین ایک بات یاد رکھیں، ان خبروں کو فروغ دینے والے پاکستانی افراد میں کئی کو میں جانتا ہوں جو کہ عالمی اداروں کے لئے اس ملک میں کام کرتے ہیں، اور ان کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب کرونا کے ڈر سے اگر لاک ڈاون کیا گیا تو لاکھوں افراد مزید غربت کی لیکر کے نیچے چلے جائیں گے، کئی ممالک دیوالیہ ہوجائیں گے، لاکھوں افراد اس وقت بیرون ملک پھنسے ہوئے ہیں، پاکستانی حکومت انھیں واپس لانے میں ناکام ہوچکی ہے،تو وہ ان بے روزگاروں کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکے گی، کرغزستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک سمیت کئی ممالک میں پھنسے ہوئے ہزاروں پاکستانیوں کے لئے تین ماہ گذرنے کے باوجود حکومت ایک پی آئی اے کی پرواز کا بندوبست نہ کرسکی،اور چند پیڈ فیس بک دانش فروش لاک ڈاون کرنے کے مشورے ایسے دے رہیں ہیں جیسے وہ اور حکومت لاکھوں افراد کو گھر بیٹھے ضروریات سامان فراہم کردینگے، جبکہ وہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے، ترقی یافتہ نہیں، اگر جدید اور موثر پالیسی کے بجائے لاک ڈاون کی پالیسی اختیار کی گئی تو ایک بات لکھ لیں، کرونا تو رہے گا لیکن اس کے نقصانات سے پاکستا ن سمیت دنیا بھر میں معاشی تباہی تیز ہوجائے گی۔
اسی تناظرمیں اقوام متحدہ نے پیشگوئی کی ہے کہ وائرس سے عالمی معیشت 3.2فیصد سکڑجائیگی،دو سال میں 8.5کھرب ڈالرز ضائع ہوجائینگے،ترقی پزید ممالک کو بڑیمالی خسارے، مزید سرکاری قرضوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ویکسین اور علاج میں فوری پیشرفتوں کے بغیر وبا کے بعد دنیا مختلف ہوگی،برطانیہ کی قدیم انشورنس مارکیٹ ”لیوڈ ز“ نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس پھیلنے سے انشورنس کی عالمی صنعت کو 203 ارب ڈالرز کانقصان ہوسکتاہے۔انشورنس مارکیٹ کا کہناہیکہ اس نقصان کا تخمینہ کمپنیوں کی جانب سے مستقل میں ہونیوالی فنڈز کی ادائیگیوں کے حوالیسے لگایاگیاہے،لیوڈز کو خود بھی 4.3 ارب ڈالرز کی ادائیگی کرنی ہے۔ جرمنی کی وزارت خزانہ نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث اس سال ٹیکس کی مد میں اسے 100 ارب یورو کا نقصان ہوگا، کورونا وائرس سے دنیا بھر میں تقریباً 3لاکھ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 43 لاکھ 60ہزارافراد اب تک وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔امریکا میں سب سے زیادہ 84 ہزار ہلاکتیں ریکارڈ ہوچکی ہیں، فرانسیسی حکومت نیشعبہ سیاحت کیلئے18ارب یورو کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیاہے، آسٹریلیا میں اپریل کے دوران تقریباً 6 لاکھ شہری بے روزگار ہوگئے۔
وسط سال کے معاشی تجزیے کے مطابق گذشتہ چار سالوں میں حاصل تمام ثمرات اور کامیابیوں کو ختم کرتے ہوئے عالمی معیشت 3.2 فیصد کم ہوجائے گی۔اقوام متحدہ کی عالمی معاشی صورتحال اور امکانات کی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 1930 کی دہائی میں عدم استحکام کے بعد عالمی معیشت کو اب انتہائی تیزی سے گراوٹ کا سامنا کرنا پڑسکتاہے جبکہ اگلے دو سالوں میں 8.5 کھرب ڈالر ضائع ہوجائیں گے۔
اس سے قبل جنوری میں اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا تھا کہ 2020 میں عالمی معیشت 2.5 فیصد ترقی کرے گی، تاہم اب اقوام متحدہ نے اگلے سال اس میں معمولی موڑآنے کی پیش گوئی کی ہے کیونکہ زیادہ تر کھوئے ہوئے نتائج کو پورا کرنا ہوگا اورترقی پذیر ممالک کو بڑے مالی خسارے اورمزید سرکاری قرضوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وبائی بیماری غربت اور عدم مساوات میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے کیونکہ اس سال 34.3ملین غریب افرادکے غربت کی لکیر سے نیچے آنے کا امکان ہے۔ توقع ہے کہ 2030 تک مزید 130 ملین افراد اس فہرست میں شامل ہوں گے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووڈ۔19کی ویکسین اور علاج میں فوری پیشرفتوں کے بغیر وبائکے بعد دنیابھر کی صورت حال پہلے سے مختلف ہوگی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی غربت اور عدم مساوات کے ساتھ آہستہ آہستہ بحالی اور طویل معاشی بحران کا امکان بہت کم ہے کیونکہ مضبوط ترقیاتی تعاون، وبائی مرض پر قابو پانے کی کوششوں میں تعاون اور بحران سے متاثرہ ممالک کو معاشی اور مالی مدد فراہم کرنا، بحالی میں تیزی لانے اور دنیا کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اہم رہے گا۔ اقوام متحدہ کے چیف ماہر اقتصادیات اور معاشی ترقی کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل، ایلیوٹ ہیریس نے اس رپورٹ کے تفصلات کے بارے میں بتایا ہے کہ جنوری میں ڈبلیو ای ایس پی 2020 کے آغاز کے بعد سے عالمی معاشی نقطہ نظر میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے۔معاشی سرگرمیوں پر بڑے پیمانے پر پابندیوں اور بڑھتی ہوئی بے یقینی کی وجہ سے، 2020 کی دوسری سہ ماہی میں عالمی معیشت میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے جبکہ اب ہم اس شدیدترین کساد بازاری کی سنگین حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں جوکہ بڑے پیمانے پرمندی کے بعد بھی نہیں دیکھی گئی تھی۔سوال کرونا وائرس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ جدید اور موثر پالیسی کی ہے،تاکہ ایسا ماحول ہو جس میں عام افراد کو روزگار بھی میسر ہو، ملکی معیشت کے لئے ایکسپورٹ بھی جاری رہے، اور عوام کی حفاظت بھی ہو، سوال یہ ہے کہ کیا ان تین ماہ میں پاکستانی نوکر شاہی اور حکمرانوں نے اس وباء کے بارے میں کسی حکمت عملی پر غور کیا ہے،یا پھر سندھ حکومت کی طرح نیم تیتر نیم بیٹر فارمولے پر عمل جاری رکھنا بہتر سمجھتے ہیں،اور آخری بات طبی سہولیات کا سندھ میں یہ حال ہے کہ ایک بڑے سرکاری اسپتال کی ڈائریکٹر کرونا کی وجہ سے نجی اسپتال میں داخل ہے، ذرا سوچیں اور مثبت سوچیں، جیب کے لئے نہیں قوم کے لئے،ملک کے لئے
۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com