کرونا اور ہماری زندگی |علیمہ جبین

کرونا اور ہماری زندگی
ہم ایسی قوم سے ہیں جو صرف دوسروں کو نصیحت کرنا جانتی ہے۔اس نماز کا ،روزے کا حتیٰ کہ حج کا کیا فائدہ جب جھوٹ ہم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہو ،چغلی،غیبت ہماری پسندیدہ عادتیں ہوں۔چاپلوسی اور خوشامد محبوب مشغلہ ہو ۔ جو بھی ہے ہم کہاں سدھرنےوالے ! ایک کرونا وائرس ہی تو ہے، ہمارا کیا بگاڑ لے گا ہم تومسلمان نا۔
او اللہ کے بندو! اس نظر نہ آنے والے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے آج پوری دنیا نےخودکوحفاظتی حصار میں بند کر رکھا ہے اور ہمارے ہاں اثر ہی کوئی نہیں۔ہم سے بڑا کوئی نمازی نہیں ،ہم سے بڑا کوئی روزہ دار نہیں، کوئی حاجی نہیں اور تو اور ہم سے بڑھ کر کوئی عقل مندبھی نہیں پھر بھی ہم پر کوئی اثر نہیں۔۔۔آ خرکب تک ہم عقل و شعور سے عاری رہیں گے، بے حس رہیں گے،آخر کب تک میں،میں میں رہیں گے ۔اس نازک گھڑی میں بھی ہم صرف اپنی فرقہ واریت اور مذہبیت کوسنبھالےبیٹھے ہیں ،ایک دوسرےکے دین و دنیا پہ نظر رکھے ہوئےہیں یہاں تک کہ ہم یہ بھی جانتے کون جہنمی اورجنتی ہے۔
حالات حاضرہ کے پیش نظر ہمیں صرف اپنے گھرمیں محصور ہو کر اپنے گریبان میں جھانکنا ہے ،توبہ استغفار کرنا ہے کہ ابھی توبہ کا در کھلاہے۔دوسروں کا ٹھیکہ مت لیں خود میں بدلاؤ لائیں ۔یقین مانیں اگر ہم خود کو اس سانچے میں ڈھال لیں جس میں دوسروں کا موازنہ کرتے ہیں توانسانیت سدھر سکتی ہے،بے حسی ختم ہو سکتی ہے ،ہٹ دھرمی ، بداخلاقی،بد لحاظی ،بے حیائی ،بددیانتی ،جھوٹ و فریب جیسی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔اس مشکل گھڑی میں سب کے لیےدعا کیجیے،تمام امت مسلمہ کے لیےدعا کیجیے ،انسانیت کے اعلی درجے پر فائز ہوتے ہوئےانسانیت کے ناطے بنی نوع انسان کے دکھ کو سمجھیے۔اس کرونا وائرس کی حقیقت کوسمجھیےاس وائرس کے مثبت اثرات کا ادراک تو کیجیےیقین مانیےہمیں احساس ہوگاکہ اس وائرس نے انسان کو انسانیت کی طرف ، خالقِ حقیقی کی طرف اوراخلاقیات کی راہ پہ گامزن کیا ہے۔اس وائرس نے سپر پاورز کو ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں، سب ٹیکنالوجی دھری کی دھری رہ گئی ہے۔اس ٹیکنالوجی کے پجاریوں کو بھی سمجھ آ گئی ہے کہ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، نہیں آئی سمجھ ۔۔۔۔۔تو ہمیں نہیں آئی۔اس لاک ڈاؤن کو تفریح سمجھ رکھا ہے۔
صدشکرمانیئے کہ کشمیر جیسا کرفیو نہیں ہے۔ وقت کو قیمتی جانتےہوئےاللہ کی دی گئی مہلت کو سمجھیئے! کیا پتہ اس کے بعد توبہ کے لئے وقت نہ بچے۔اس دی گئی مہلت میں ربِ حقیقی سے رجوع کیجیے۔ بند کاروبار کی بحالی کے لیے نماز قائم کریں کیونکہ پھر کونسا ہم نے دس منٹ کی نماز کے لیےاپنے کاروبار بند کرنے ہیں۔وقت رہتے سنبھل جائیے،خدارا احتیاط کیجیے۔اپنے اہل و عیال کو وقت دیجئے۔
اللہ رب العزت سےاس کا کرم مانگیئے،اس کارحم مانگیئے ،اس کا فضل مانگیئے، اس کی مدد مانگیئے ۔ یا اللہ مدد،یااللہ مدد، یا اللہ مدد کیجئے۔
ازقلم علیمہ جبین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com