عالمی طاقتیں، کرونا کا خوف اور رجوع الہ اللہ

بادشاہ خان

خبریں کئی ہیں، لیکن سب سوالوں کا جواب ایک ہی ہے،اگر کوئی سمجھنا چاہے، دنیا کے امیر ملکوں نے فرعونوں کی طرح اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہوئے کرونا ویکسن ضرورت سے زیادہ خرید لی ہے، اور غریب ممالک کو ویکسین اگلے کئی سال ملنے کی امید نہیں، کیا اب بھی اللہ کی طرف متوجہ ہونے کا وقت نہیں آیا؟خبر سامنے ہے کرونا ویکسینیشن کا آغاز برطانیہ، امریکا اور سعودی عرب سمیت درجن بھر ممالک میں ہوچکا ہے تاہم ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی لگ بھگ ایک چوتھائی آبادی کو یہ ویکسین 2022 تک ملنے کی امید نہیں۔طبی تحقیقی جریدے ’بی ایم جے‘ میں شائع ہونے والی امریکا کی جونز ہوپکنز بلومبرگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین زیادہ تر امیر ممالک میں پہلے دستیاب ہوں گی اور پھر غریب ممالک کو میسر آسکیں گی اس طرح خدشہ ہے کہ ایک چوتھائی آبادی کو کورونا ویکسین تک رسائی 2022 تک بھی ممکن نہ ہو۔اس تحقیق میں کووڈ 19 ویکسینز کے پری آرڈرز، تیاری کے مراحل، ترسیل کی مشکلات اور طبی ماہرین کی استعداد کا تجزیہ کیا گیا اور بد قسمتی میں غریب ممالک کو ان تمام ہی مشکلات کا سامنا ہے جب کہ نومبر کے وسط ہی میں خوشحال ممالک نے 13 مختلف کمپنیوں کی ویکسینز کے 7 ارب 48 کروڑ خوراکیں اپنے لیے مختص کرالیے تھے۔
ایک وائرس نے دنیا بھر کے معمولات بدل دیئے ہیں، رابطے ختم ہوگئے ہیں، پروازیں منسوخ ہورہی ہیں، برطانیہ میں ایک بار پھر لاک ڈوان لگ چکا ہے،اس بار وائرس کی ہیت اور اثرات بھی زیادہ ہیں، ایسا کہا جارہا ہے،اب اس وائرس کی حقیقت کیا ہے؟ یہ عالمی حیاتیاتی جنگ کا حصہ ہے؟ تبدیل شدہ دنیا کی نئی شکل ہے؟نیو ورلڈ آرڈر ہے؟ یا پھر واقعی یہ قدرتی آفت ہے، اس پر بحث کرنے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے خلاف دنیا بھر میں کیا اقدامات ہورہے ہیں،اور پاکستانی حکومتیں کیا کررہی ہیں،ہر ملک اس مہلک وائرس سے اپنی عوام کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے،لیکن تاحال اسے پھیلنے سے روکنے میں دنیا ناکام ہے، بہر حال ہر طرف الرٹ جاری ہے،
پاکستان میں ایک بار پھر لاک ڈاون کا شور ہے، ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک مقاصد پورے نہیں ہوئے،، خود عالمی ادارے یہ کہنے پر مجبور ہیں، لاک ڈاون حل نہیں ہے، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس شاید کبھی بھی ختم نہ ہو اور دنیا کو اس کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔، لیکن پاکستان میں میڈیا میں موجود چند عناصراب بھی ڈر کے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے سرگرم ہیں، قارئین ایک بات یاد رکھیں، ان خبروں کو فروغ دینے والے پاکستانی افراد میں کئی کو میں جانتا ہوں جو کہ عالمی اداروں کے لئے اس ملک میں کام کرتے ہیں، اور ان کے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا پر مصروف رہتے ہیں،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اب کرونا کے ڈر سے ایک بار پھرلاک ڈاون کیا گیا تو لاکھوں افراد مزید غربت کی لیکر کے نیچے چلے جائیں گے، کئی ممالک دیوالیہ ہوجائیں گے، پاکستان ترقی پذیر ملک ہے، ترقی یافتہ نہیں، اگر جدید اور موثر پالیسی کے بجائے لاک ڈاون کی پالیسی اختیار کی گئی تو ایک بات لکھ لیں، کرونا تو رہے گا لیکن اس کے نقصانات سے پاکستا ن سمیت دنیا بھر میں معاشی تباہی تیز ہوجائے گی۔مڈل کلاس کا خاتمہ ہوجائے گا،امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوجائے گا،ایسا کہا جارہا ہے۔
آج کرونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا پریشان ہے، تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں، احتیاط کیا جارہا ہے، مسلسل اموات کی اطلاعات ہیں،ٹھیک ہے تدابیر اختیار کی جائیں، لیکن اس صورت حال میں کیا دنیا کے انسانوں کے لئے اپنے بنانے والے کی طرف سے پیغام نہیں ہے؟ کیاجدید ٹیکنالوجی فیل نہیں ہوگی؟بڑے بڑے دعوی کرنے والے ممالک کہاں ہیں؟یہ کرونا وائرس انسانی تخلیق ہے یا وباء؟ کیامیرے رب نے نہیں فرمایا کہ موت کے علاوہ ہر چیز کا علاج موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کی طرف کب دوڑ کر جائے گا؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنے رب کو راضی کرے؟دجالی دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے، اس میں ان کا ایمان باقی رہے گا جو اپنے رب کی طرف متوجہ ہونگے،اور اسی بارے میں اللہ نے قرآن مجید میں کئی جگہ ذکر فرماتے ہوئے کہا ہے،کہ میری طرف آو،میں ہی تمھارا مشکل کشا اور حاجت روا ہوں۔
اللہ تعالی کافرمان ہے: ”اللہ کی طرف دوڑو بے شک میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں سے (سورہ الذاریات)
یہ آیت عظیم القرآن کی عظیم آیتوں میں سے ایک ہے، اس میں خوف اور امید کے معنی ہیں: خداتعالیٰ کا خوف، اور عظمت کا سہارا اس کے لئے ہے، کیوں کہ اس کے سوا کوئی قادر نہیں ہے، اس سورہ اورآیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ اللہ اس سورہ میں اپنے تخلیق کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ ”ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں، پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا“۔
قارئین کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم فتنوں سے اپنے رب خالق مالک کی جانب دوڑیں، اسے راضی کرلیں، فتنوں اور وباوٗں کے اس دور میں سورہ کہف اور قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ گھر میں بیٹھنا اسی میں فائدہ ہے، اور علماء کرام دنیاوئی تدابیر کے ساتھ اس کی جانب متوجہ کررہے ہیں، خدرا اس جانب بھی متوجہ ہوں توبہ استغفار کا در ابھی بھی کھلا ہے کہیں دیر نہ ہوجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com