وزیرِ اعظم اور کورونا دیوالی

تحریر: محسن رضا ضیائی

بھارت کے وزیرِ اعظم کے بارے میں یہ بات بہت زیادہ مشہور ہے کہ وہ جب بھی جنتا سے خطاب کرتے ہیں تو کچھ ایسی باتوں کی اَپیل کرڈالتے ہیں، جو جنتا کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال ہمارے سامنے ہے کہ 19 مارچ کو جب وزیرِ اعظم نے جنتا کرفیو کا اعلان کیا تو ساتھ ساتھ یہ گذارش بھی کی تھی کہ اتوار کو جنتا کرفیو کے دوران شام کے ٹھیک 5 بجے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر، یا بالکنی میں یا کھڑکیوں کے سامنے کھڑے ہوکر پانچ منٹ تک تالیاں، تھالیاں اور گھنٹیاں بجاکر ایک دوسرے کا آبھار وَیکت کریں۔
حال آں کہ اس تالی اور تھالی کے فعلِ شنیع و عملِ قبیح سے کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا اور نہ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہوا، بلکہ اس سے دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی ہوئی اور عوام سرِ عام بے وقوف بن گئی۔ یہ تو ہمیں پتا نہیں کہ اس سے وزیرِ اعظم، ان کی زعفرانی پارٹی اور اندھ بھکتوں کا کتنا بھلا ہوا ہوگا۔
وزیرِ اعظم کی اور ایک تازہ مثال بروز جمعہ صبح 9 بجے کی ہے، جب انہوں نے عوام سے خطاب کیا تو پھر وہیں اپنی سابقہ روایت کو دہرایا اور ایک ایسی ہی اپیل کر ڈالی، جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ وزیرِ اعظم نے لوگوں سے اپیل کی کہ اس مہلک وبا سے پیدا تاریکی کو شکست دینے کے لیے 5 اپریل یعنی اتوار کی رات 9 بجے اپنے گھروں کی سبھی لائٹیں 9 منٹ کے لیے بند کر دیں۔
بعد ازاں روشنی کی طاقت کا احساس کرانے اور اجتماعیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اپنے اپنے گھروں کے دروازوں یا بالکنی میں کھڑے ہو کر موم بتی، دیا، ٹارچ یا فلیش لائٹ جلائیں۔گودی میڈیا نے تو اسے کرونا دیوالی کا نام بھی دے دیا۔
یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ آج پوری دنیا کورونا وائرس سے نبردآزما ہے، ہر ملک اس مہلک بیماری کے تریاق و علاج کی تلاش اور کھوج میں لگا ہوا ہے۔ لیکن بھارت ایک ایسا ملک ہے، جہاں کے وزیرِ اعظم عوامی تکالیف و مشکلات کو سمجھنے اور ان کا تدارک کرنے کی بجاے ان سے ایسے مزعومہ و موہومہ کام کروارہے ہیں، جن سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ پتا نہیں وزیرِ اعظم کو یہ مَنتر کِس بابا نے بتادیا کہ کورونا سے پیدا شدہ تاریکی موم بتی، دیا، ٹارچ اور فلیش لائٹس سے چھٹ جائے گی۔ جب سے یہ اعلان ہوا ہے، سنگھیوں اور بھگواداریوں میں ایک خوشی کی لہر ہے۔
عقل کے اندھوں اور اندھ بھکتوں کو ذرا سوچنا چاہیے کہ اگر یہ کورونا اس طرح کے منتر اور دیے وغیرہ جلانے سے سے ختم ہوجاتا تو آج ایٹلی، اسپین، امریکہ، چین، ایران اور جرمنی میں ہزاروں لاشوں کے ڈھیر نظر نہ آتے۔ آج پوری دنیا اپنے گھروں میں مقفل نہ ہوتی۔ سائنسداں یوں حیران و پریشان نہ ہوتے، پوری دنیا معاشی بحران اور نقصانات میں گھری ہوئی نہ ہوتی۔ لیکن حیف صد حیف کہ ہمارے وزیرِ اعظم کو جہاں کورونا کی مہاماری اور بحران سے نکلنے کے لیے کوئی معقول علاج اور کامل تدارک و حل دریافت کرنا چاہیے تو وہاں قوم کو اندھ بھکتی کا پاٹھ پڑھارہے ہیں۔
ایسے ہی وزیرِ اعظم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ابھی کچھ دن پہلے زعفرانی پارٹی کے کچھ نیتاؤں کی طرف سے کورونا وائرس کے علاج کے طور پر گوبر اور گؤ موتر کا تجربہ کیا گیا۔ کس قدر مضحکہ خیز اور شرم ناک بات ہے کہ ایک طرف پوری دنیا کے سائنس دان اس مہلک وائرس کا علاج دریافت کرنے کے لیے سر جوڑے بیٹھے ہیں اور حکمراں جماعت کے لوگ اس طرح کی شرم ناک حرکتیں انجام دے کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا ملک شاہ راہِ ترقی کی طرف گامزن ہونے کی بجائے اَندھ بھکتی اور بے راہ روی کی طرف بڑی تیزی سے جارہاہے۔ اس ملک کو ایسے لوگوں کی مانسکتا سے بچانا نہایت ہی ضروری ہے، ورنہ آنے والے سالوں میں یہ ملک باباؤں، اندھ بھکتوں اور گؤ موتر اور گوبر کھانے پینے والوں کا استھان بن جائے گا۔
اگر حقیقت و واقعیت کی رو سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ 9 بجے 9 منٹ والا کام ایک مذہبی رسم اور عقیدے پر مبنی نظر آتا ہے۔ یہ ایک مشرکانہ اور جاہلانہ رسم معلوم ہوتی ہے۔ اور تو اور یہ ایک کورونا لوجی بھی ہوسکتی ہے اور عوام کو بے وقوف بنانےوالا کام بھی ہوسکتا ہے۔ لہذا اپنے ایمان و عقائد پر ثابت قدم رہیں، مشرکانہ و جاہلانہ افعال و اعمال سے بچیں اور کسی کے دامِ تزویر میں نہ پھنسیں۔
سبھی بھائیوں سے گذارش ہے کہ 5 اپریل بروز اتوار شب 9 بجے اپنے گھروں کی چھت پر یا دروازے کے پاس کھڑے ہوکر اذان پکاریں۔ اس لیے کہ اذان دافع بلا ہے۔ یہ جہاں دل و دماغ کے لیے اطمینان و سکون کا باعث وہیں بے چینی و پریشانی کو دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہ مصائب و آلام سے چھٹکارا دلانے والی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مصیبت و پریشانی کے وقت اذان دینے کی تعلیم فرمائی ہے۔ چناں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلاۃ و التسلیم نے ارشاد فرمایا:
جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالیٰ اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دیتا ہے۔(المعجم الکبیر-ج1-ص-257-ح-746)
ایک دوسری حدیث میں ہے: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے غم گین دیکھا تو ارشاد فرمایا: اے علی میں تجھے غم گین پاتا ہوں، اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم و پریشانی کی دافع ہے۔
(مرقات المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح۔ج 2۔ص۔149)
ان احادیثِ کریمہ سے معلوم ہوا کہ مصائب و شدائد کے وقت اذان دینا امرِ مستحب ہے اور یہ غموں اور پریشانیوں کو دور کرنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والی اور امت کو عذابِ اِلٰہی سے چھٹکارا دلانے والی ہے۔ہمارا یہ پختہ ایمان و عقیدہ ہے کہ کورونا جیسے مہلک مرض سے اذان ہی ہمیں نجات دلا سکتی ہے۔ موم بتی، دیے اور فلیش لائٹس کے چکر میں نہ پڑیں، یہ سب جلانے سے کورونا تو کیا ایک مچھر بھی نہیں بھاگے گا۔ یہ ایک جاہلانہ تصور ہے۔ لہذا اس سے بچیں اور حفاظتی و احتیاطی تدابیر و اقدامات کے ساتھ ساتھ اس دن اذان کا بالخصوص اہتمام کریں۔یقیناً اللہ رب العزت اپنے پاک ناموں کے صدقے میں ہمیں کورونا کے مہلک جراثیم سے محفوظ و مامون فرمائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com