مفاہمانہ روش کا آ غاز

مفاہمانہ روش کا آ غاز
طا رق حسین بٹ شان
کیا کسی نے یہ سوچا ہو گا کہ ایک دن میثاقِ جمہوریت کے ناقد خود اس کے علمبردار بن کر سامنے آ جائیں گے؟آئینِ پاکستان کے بعد میثاقِ جمہوریت ایک ایسی دستاویز ہے جس پر پاکستان کی دو بڑی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے دستخط کئے تھے۔یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس نے کئی عشروں کی مخاصمت کا خاتمہ کیا تھا۔اس معا ہدہ سے جمہوریت کو نئی زندگی ملی تھی اور جمہوریت پسندوں کو آمریت کے انجانے خوف سے نجات نصیب ہوئی تھی۔یہ اسی میثاقِ جمہوریت کا کمال تھا کہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت اپنے انجام سے دوچار ہوئی۔اسی میثاقِ جمہوریت کی وجہ سے باہمی جنگ و جدل اور انتشاری سیاست کے منہ میں لگام ڈالی گئی اور دونوں منتخب حکومتوں نے اپنی ۵ سالہ آئینی مدت پوری کی۔ اسٹیبلشمنٹ اس میثاق سے سب سے زیادہ متاثر ہو ئی کیونکہ اس معاہدہ نے ان کی بالادستی کو چینج کیا تھا۔اس سے دو متحارب جماعتوں نے سازشوں، باہمی جھگڑوں اور چپقلش کی بجائے انتخابی نتائج کے مطابق ایک دوسرے کا حقِ حکومت تسلیم کیا تھا جو اسٹیبلشمنٹ کو انتہائی ناگوار گزرا تھا لیکن اس کے پاس پارلیمنٹ کی بالا دستی کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ جس طرح دونوں جماعتوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی تھی میثا قِ جمہوریت نے ان کی ان دیکھی سپر میسی کے خاتمہ پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ور حکومتوں کی تبدیلی میں ان کے کردار کو بالکل بے اثر کر دیا۔پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کی بے جا مداخلت کے باوجود اپنی اپنی ٹرم پوری کی اور نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے لئے یہ لمحہِ فکریہ تھا۔اپنی ناقدری کے اسی احساس سے تیسری قوت کے قیام کا خیال پھوٹا اور پی ٹی آئی کوتوانا و طاقتور بنایا۔اس منصوبہ کو برگ و بار لانے میں ایک عشرہ لگا لیکن آخرِ کار اسٹیبلشمنٹ ایک نئی جماعت کے قیام کو اقتدار دلوانے میں کامیاب و کامران ہو گئی۔یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟کس کس ادارے میں اس میں حصہ دسالا اور کس طرح ایک مقبول راہنما کو احتساب کے نام پر اقتدار کے ایوانوں سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ جو کچھ ان اداروں کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا اسی کی طاقت سے منتخب وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار دیا گیا۔پانامہ لیکس جس طرح اقامہ لیکس میں تبدیل ہوئی سدا مضحکہ خیز بنارہے گا۔فیصلہ چونکہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا تھا لہذا اس پر عمل داری کو یقینی بنانا اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری تھی۔بس یہی تھا وہ لمحہ جب اسٹیبلشمنٹ کی طاقت اور اہمیت ایک دفعہ پھر مسلمہ قرار پائی کیونکہ جس وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار دیا گیا تھا اسمبلی میں اس کی دو تہائی اکثریت تھی اور اسے عدمِ اعتماد یا کسی دوسرے آئینی طریقے سے ہٹانا ممکن نہیں تھا۔جب پہاڑ گر گیا تو پھر اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کے سامنے سارے سر نگوں ہو گے لہذا اب حالت یہ ہے کہ ایک دفعہ پھر اسٹیبلشمنٹ کی رضا اور مرضی مسلمہ قرار پائی ہے۔،۔
عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی احتساب کا نعرہ بلند کیا اور اپوزیشن کے تمام مرکزی قائدین کو زندانوں میں محبوس کر دیا۔احتساب اور انتقام میں خطِ امتیاز کھینچنا ناممکن ہو گیا۔ہر وہ آواز جو حکومت پر تنقید کرنے کی جرات کرتی اسے گرفتار کر لیا جاتا۔ نیب نے حکومتی فیصلوں کے پیشِ نظر ان تمام قائدین کو جن کا تعلق اپو زیشن سے تھا قیدو بند کے حوالے کرنے میں بڑی پھرتیاں دکھا ئیں جبر کی ایک ایسی آندھی چلائی گئی جس سے حکومت بھی متاثر ہوئی اور اپوزیشن کی شدید مزاحمت سے اس کے لئے امورِ مملکت چلانا مشکل ہوتا گیا۔ اسمبلی کا اجلاس چلانا اور قانون سازی کرنا ناممکن ہوتا چلا گیا۔خوف کی ایک ایسی لہر چلی جس نے بیووکریسی اور کاروباری حضرات کو خوفزدہ کر دیا جس سے ملک میں بے روزگاری کا راج ہوتا چلا گیا۔حکومت کے لئے اپنے منشور پر عمل کرنا ایک مسئلہ بن گیا۔ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا وعدہ ایک مذاق بن کر رہ گیا۔نئی نوکریاں دینا تو بہت دور کی بات تھی الٹا کئی لاکھ افراد بے روز گار ہو گے جس سے پی ٹی آئی حکومت کی عوامی پذیرائی پر گہرے گاؤ لگے۔مہنگائی نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔حکومت ایک دوراہے پر کھڑی ہوگئی۔اس کے سامنے دو راستے تھے یا تو وہ اپوزیشن کے خلاف اپنی انتقامی پالیسی جاری رکھتی اور بے رحم احتساب سے انھیں جیلوں میں بند کرتی جاتی یا پھر مفاہمانہ طرزِ عمل سے ایک نیاجمہوری ماحو ل تشکیل دیتی تا کہ امورِ سلطنت احسن اند از سے سر انجام پا سکتے۔ سولہ ماہ کی پکڑ دھکڑ کے بعد حکو مت کو احسا س ہوا کہ اس کی انتقامی سوچ غلط تھی بلکہ اس کے لئے سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی ملک ترقی کر سکتا ہے۔چند دن قبل عمران خان کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ جمہوریت کی مضبوطی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔رانا ثنا اللہ کے خلاف ہیروین کے مقدمہ نے حکومت کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔اس مقدمہ نے ساری بازی ہی پلٹ دی۔پانچ ماہ کی طویل نظر بندی کے بعد عدالت نے رانا ثنا اللہ کی ضمات منظور کر لی جس سے حکومت ہل کر رہ گئی۔ رانا ثنا اللہ کے خلاف کئی وفاقی وزرا ثبوتوں کے انبار کی بات کر رہے تھے اور ٹیلیویژن پر قسمیں کھاکا کر عوام کو یقین دلا رہے تھے کہ رانا ثناا للہ مجرم ہیں اور وہ کسی طرح سزاسے بچ نہیں سکتے۔انتقام میں قائم کردہ مقدمات میں چونکہ شہادتوں،ثبوتوں اور دستاویز کا فقدان ہوتا ہے اس لئے عدالتیں ضمانت دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔اب حالت یہ ہے کہ تمام مرکزی قائدین یا تو ملک سے باہر ہیں یا پھر ضمانت پر رہائی پا چکے ہیں اور جو کچھ رہ گئے ہیں وہ بھی جلد یا بدیر ضمانتوں پر جیلوں سے باہر ہوں گے کیونکہ مقدمات ذاتی انتقام اور انانیت کی وجہ سے قائم کئے گے تھے۔پکڑ دھکڑ کے ماحول میں حکومت سوئٹزر لینڈ میں پڑے ۰۰۲ (دو سو)ارب ڈالرز کی واپسی کے لئے حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا سکی۔ میاں برادران کی کرپشن سے جمع شدہ دولت اور زرداری فیملی کی منی لانڈرنگ میں ملوث رقوم کی واپسی کی کوئی سبیل سامنے نہ لا سکی جس سے قوم میں مایوسی پھیلتی چلی گئی اور حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔میرے دوست سہیل وڑائچ نے عمران خان کی حکومت کے ابتدائی ایام میں انھیں انتقام کی بجائے مفاہمت کی سیاست کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن عمران خان نے کسی ایسی تجویز کو در خورِ اعتنا نہ سمجھا تھا اور اپوزیشن کو کچلنے کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے عزم کو جاری رکھا تھا لیکن اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ جب منہ کی کھانی پڑی اور امورِ مملکت چلانا مشکل ہو گیا تو پھر اسی میثاقِ جمہوریت کا سہارا لینا پڑا جس کا وہ مذا ق اڑایا کرتے تھے۔زپنی حکومی کشتی بھنور کی زد میں آئی تو پھر سب کچھ جائز ہو گیا۔ میثاقِ جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی دور اندیشی،فہم و فراست، دور بینی،جمہوریت سے محبت،عوامی حاکمیت سے عشق اور آمریت سے نفرت کی شاہکار دستا ویز ہے جس میں ہر جمہوری حکومت کی بقا مضمر ہے۔ بی بی شہید نے ذاتی انا کی قربانی دے کر اس دستاویز کی بنیاد رکھی۔ جمہوری جدو جہد میں بھٹو خاندان نے بڑی تکالیف برداشت کی تھیں لہذا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ذاتی انتقام اور دشمنی کی یہ فضا سدا قائم رہے۔وہ پاکستان کو پر امن،مستحکم اور جمہوری ملک دیکھنا چاہتی تھیں اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ یہاں عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔میثاقِ جمہوریت بی بی شہید کا ایسا حسین تحفہ ہے جسے کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایسا لنگر ہے جس پر جمہوریت کی کشتی استوار ہے۔مینڈیٹ کا احترام جمہوریت ہے اور یہی میثاقِ جمہوریت کی روح ہے جس سے فرار کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہے۔،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com