حالات آٹھارویں ترمیم کیلئے بہتر نہیں

حالات آٹھارویں ترمیم کیلئے بہتر نہیں!
شاہد ندیم احمد
تحریک انصاف حکومت کی جانب سے ایک بار پھر 18ویں ترمیم پر نظر ثانی کا عندیہ دیا جارہا ہے،جبکہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) اور ان کی اتحادی جماعتوں کے سربراہ کہہ رہے ہیں کہ 18ویں ترمیم کو ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ کورونا کی وبا نے اٹھارویں ترمیم کے نقائص کو ایک انتظامی حوالے سے عیاں کیا ہے، اپوزیشن جماعتیں اگر خود کو مخصوص صوبوں کے مورچے سے نکال کر پاکستان کے مفاد کے پہلو سے جائزہ لینے پر آمادہ ہوں تو اٹھارویں ترمیم پر نظرثانی میں کوئی حرج نہیں ہے، آئین اور قانون عوام کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ اگر اٹھارویں ترمیم کے کچھ حصے عوام کے لیے فائدہ مند نہیں تو ان کو تبدیل کرنے میں ضد نہیں دکھانا چاہیے،کیو نکہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین دُنیا میں کسی بھی جگہ حرفِ آخر نہیں ہوتے اِسی لئے ان میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں بھی ہوتی رہتی ہیں، ان کی جگہ نئے قوانین بھی آتے رہتے ہیں اِس لئے اگر اٹھارہویں ترمیم میں کچھ سُقم ہیں تو اس میں اچنبھے کی کیا بات ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف اٹھارہویں ترمیم ہی آئین کی ایسی ترمیم ہے جس میں سُقم کی نشاندہی کی جا رہی ہے، باقی کسی قانون میں کوئی خرابی نہیں،اگر ہے تو اس جانب کتنی توجہ دی جا رہی ہے، آئین میں کئی جگہ ابہام موجود ہے اور اس کی جانب ماضی میں توجہ بھی دلائی جاتی رہی ہے،لیکن اسے دورکرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اِسی طرح بہت سے قوانین کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے،لیکن اس کا احساس بھی نہیں کیا جا رہا، تو پھر ہر چند ماہ بعد اٹھارہویں ترمیم ہی کیوں یاد آ جاتی ہے اور اس میں موجود خامیوں ہی پر نظر کیوں ٹھہر جاتی ہے؟ موجودہ حالات آٹھارویں ترمیم کے مواقف نہیں ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت روز اول سے ہی 18ویں ترمیم سے خائف ہے اور اس کا متعدد بار ذکر کر چکی ہے، فوجی قیادت بھی اس ترمیم کو پسند نہیں کرتی، اس کا اظہارآرمی چیف اپنی میڈیا کے ساتھ میٹنگز میں کر چکے ہیں۔ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ جس کے ذریعے صوبوں کو وفاق سے مالی وسائل میں حصہ ملتا ہے، اس کے مخالفین کا کہنا ہے کہ ترمیم کے نتیجے میں صوبے زیادہ بااختیار اورامیرہو گئے، جبکہ وفاق غریب ہوگیا ہے۔ 18ویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے،اگر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جیساکہ اس ترمیم کی منظوری کے موقع پر اتفاق رائے ہوا تھا،اگرایسا ماحول ہوتا تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنا پر بات چیت آگے بڑھ سکتی تھی۔ اس وقت تو صورتحا ل یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتیں آ ئین میں چھیڑ چھاڑ کو صوبائی خود مختاری ختم کر کے وفاقی سسٹم لانے کے مترادف سمجھ رہی ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہناہے کہ اٹھارہویں ترمیم پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کریں گے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی،جبکہ مسلم لیگ(ن)کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ صوبوں کو مالی اور انتظامی امور میں بااختیار بنانے سے متعلق آئین میں کی گئی 18ویں ترمیم کو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے منظور کیا، حکومت کی طرف سے اس ترمیم کو ختم کرنے کے حوالے سے شرانگیز بیانات کا مقصد قوم سمجھنے سے قاصر ہے،ادھر مولانا فضل الرحمان اور میاں شہباز شریف نے بھی مخالفت کردی ہے، ان حالات میں موجودہ پارلیمنٹ سے اس قسم کی آئینی ترمیم منظور کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔
اس کے باوجودحکومتی وزراء کے پر اعتماد بیانات سے ایسالگتا ہے کہ شاید انہیں غلط فہمی ہے کہ اپوزیشن کی کنپٹی پر نیب کی پستول تان کر اور ماورائی قوتوں سے دباؤڈلوا کر آئینی ترمیم منظور کرائی جا سکے گی،لیکن تاریخ سے اتنا مذاق شایدعملی طور پر ناممکن ہو گا۔ 18ویں ترمیم کو پارلیمنٹ میں منظور کرانے کے پیچھے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا دو سالہ باہمی اتفاق رائے تھا۔ یہ18 ویں ترمیم ہی تھی جس کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کی1973ء کے آئین میں اپنے اختیارات کے لیے کی گئی 17 ویں ترمیم ختم کر دی گئی تھی۔ اسی طرح آرٹیکل 52ٹو۔بی جس کے تحت صدر مملکت فوجی قیادتوں سے ملی بھگت کر کے وزیراعظم کو گھر بھیج سکتا تھا ختم ہو گئی۔ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس میں صوبائی حکومتوں کو گھر بھیجنے اور گورنر راج کے نفاذکے عمل کو خاصا مشکل اور پیچیدہ بنا دیا گیاہے،تاہم 18ویں ترمیم سے صوبوں کو مالی اختیارات اور وسائل تومل گئے، لیکن ان کی عوام کی فلاح وبہبود پر ذمے داری سے خرچ کرنے کی صلاحیت نہ بڑھ سکی۔ اگرچہ پنجاب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اس ترمیم کے بعد اپنے آٹھ سالہ دور اقتدار میں خاصے نئے منصوبے بنائے اور ان پر عمل درآمد کیا گیا، تاہم ان کی ترجیحات پر آج بھی شدید نکتہ چینی کی جاتی ہے۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جو کام ہونے چاہئیں تھے، وہ نہیں کیے گئے،وفاق اور صوبوں کے درمیان مشترکہ ہم آہنگی کو فروغ نہیں دیا گیا، مشترکہ مفادات کونسل کاغذوں میں تو موجود رہی،لیکن اس کا کوئی سیکرٹریٹ بن سکا اور نہ ہی یہ ادارہ،صوبوں اور وفاق کے درمیان ہم آہنگی اور تال میل بڑھانے کا ذریعہ بن سکاہے۔ 18ویں تر میم کی سپرٹ کا تقاضا تو یہی تھا کہ صوبوں سے اختیارات مکمل طور پرنچلی سطح پر حکومتوں کومنتقل کیے جاتے،لیکن بد قسمتی سے ایسانہیں ہوسکا،کیونکہ اس کے لیے تمام فنڈز بھی لوکل باڈیز کو منتقل کرنے پڑنا تھے۔ حکومتیں ہوں یا اپوزیشن جماعتیں انہیں فنڈز خود استعمال کر نے کی لت پڑ گئی ہے، حکومتی حلیف مسلم لیگ(ق) کے جھگڑے کی ایک وجہ نام نہاد ترقیاتی فنڈ زہی تھے، حالانکہ اصولی طور پر دیکھاجائے تو ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کاکام قانون سازی کرنا ہے، سڑکیں اور نالیاں بنوانا نہیں ہے،مگر سیاسی قیادتیں ترقیاتی کاموں کے پس پردہ اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کو ترجیح دیتی ہیں۔اگر چہ سیاسی قائدین کے خیالات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انہیں جو اشیا بہت چمکتی دمکتی نظر آتی ہیں،اقتدار میں آتے ہی ان کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی سوچ سے قطع نظرپاکستان کا نظامِ حکومت ایک آئین کے تحت چل رہا ہے، ہر چیز اس کے طابع ہی آگے بڑھنی چاہئے۔ اس وقت حالات آٹھارویں ترمیم کی تبدیلی کے مواقف نہیں،حکومت اور اپوزیشن کی آٹھارویں ترمیم پر کھنچاتانی جمہوریت کے زوال کا باعث بن سکتی ہے۔اس سے قبل بھی ضرورت کے مطابق آئین میں ترامیم ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی،یہ راستہ بھی باہمی مفاہمت سے آئین کی روشنی میں طے ہو نا چاہئے،مگر موجودہ حالات کے پس منظر میں دیکھاجائے تو عملی طور پر آٹھارویں ترمیم صرف آئین سے ماورا طریقے سے ہی ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com