رنگ روڈ منصوبہ جڑواں شہروں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل

تحریر: راجہ طاہر محمود
کسی بھی ملک کی ٹریفک کے نظام کو دیکھ کر ہی اس کی ترقی و خوشحالی کا اندازہ لگایا جاتا ہے راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں کے لیے اس وقت سب سے بڑی مصیبت ٹریفک کے مسائل ہیں یہ مسائل ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں صبح کے وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کام کاج اور کالج یونیورسٹی جانے والوں کو سب سے پہلے روات کے مقام پر ٹریفک جام کی ذلت آمیزی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف روات سے لے کر ٹی چوک اور سواں پل سے لے کر ڈی ایچ اے گیٹ تک جبکہ اسلام آباد گلبرگ گرین کے مقام پر عوام کے خوار ہونے کی پریکٹس معمول بن چکی ہے یہی حالات شام کے وقت دگنے ہوجاتے ہیں اور گاڑیوں کی میلوں لمبی لگی ہوئی لائنیں عوام کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کر تی ہیں لیکن یہ اذیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب انہیں لائنوں میں ایمبولینس گاڑیاں اپنے ہوٹر ز بجا بجا کر ہماری انتظامیہ کی ناکامی بیان کر رہی ہوتی ہیں راولپنڈی اور اسلام آباد پاکستان کے وہ واحد بڑے شہر ہیں جن کا کوئی بائی پاس نہیں ہے اسی وجہ سے ان شہروں میں داخل ہونے والی ٹریفک کو کسی بھی مقام پر کوئی رکاوٹ آجائے تو روانی بری طرح متاثر ہوجاتی ہے صبح کے اوقات میں روات ٹی چوک کے مقام سے ٹریفک متاثر ہو جائے تو پورا دن یہ ٹریفک سنبھلنے کا نام نہیں لیتی ٹریفک کی بد انتظامی کو ختم کرنے کے لیے سابقہ حکومتوں نے بھی کئی منصوبے بنائے مگر کوئی بھی شروع نہ ہو سکا لیکن موجودہ حکومت نے جو منصوبہ رنگ روڈ کا شروع کیا ہے اس پر ہونے والی پیش رفت سے لگتا ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹریفک جام کی اذیت سے چھٹکارا ملنے کے بہت قریب ہیں اس حوالے سے وزیراعلی عثمان بزدار کی خصوصی دلچسپی اور کمشنر راولپنڈی کی اس منصوبے میں دلچسپی سے یہ ا مید پیدا ہو چکی ہے کہ بہت جلد یہ منصوبہ شروع ہونے کو ہے اس منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کا سلسلہ تقریبا شروع ہو چکا ہے 64کلومیٹر طویل اس رنگ روڈ کے بننے کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کے باسیوں کی قسمت جاگے گی گزرنے والوں کے لئے آسانی پیدا ہوگی جڑواں شہروں پر ٹریفک کا دباؤ ہے اس کو کم کرنے کے لیے یہ رنگ روڈ معاون ثابت ہوگی ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ ہیوی ٹریفک ہے جو کہ اس رنگ روڈ پر کنورٹ ہو جائے گی کمشنر راولپنڈی اس منصوبے پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں رنگ روڈ کے بننے کے بعد یہاں پر تقریبا آٹھ مختلف مقامات پر آٹھ زون بنائے جائیں گے جن جن کو بالترتیب کھیل صحت معاشی سرگرمیاں ٹرانسپورٹ اور دیگر معاشی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا ان کی تکمیل کے بعد علاقے میں تعمیر و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا علاقے کی عوام کو اگرچہ زمین کے ریٹ پر تحفظات ہیں لیکن حکومت پنجاب ان کے تحفظات کو دور کرنے کے لئے تمام اقدامات کر رہی ہے علاقے کی عوام حکومت سے موجودہ قیمت کے مطابق ریٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن حکومتی قوانین کے مطابق جس علاقے کی زمین حکومت کو کسی بھی مقصد کے لیے درکار ہوتی ہے اس علاقے کی پانچ سالہ انتقالات پر درج گئی کی قیمت کو دیکھ پر ہی زمین کی قیمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے بسااوقات اس پانچ سالہ مدت کو ایک سالہ دو سالہ بھی کر کے دیکھا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے رنگ روڈ میں آنے والے موضع جات کی جو زمینیں کی فروخت ہوتی رہی ہے انویسٹرز نے ڈیلرز کے ساتھ مل کر اپنا ٹیکس بچانے کے لیے زمین کے انتقالات انتہائی کم قیمت پر درج کروائے ہیں گو کہ زمین کے مالکان کو قیمت جائیداداں کی گئی لیکن انتقالات میں یہ قیمت انتہائی کم درج کی گی زمینداروں نے بھی اس پر کوئی احتجاج نہیں کیا کیونکہ ان کو اپنی رقم سے غرض تھی لیکن اب یہ مسئلہ بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا جا رہا ہے کہ کم قیمت ظاہر کرنے کا نقصان اب سارے علاقے کو ہو رہا ہے حکومت نے ان کے انتقالات کی شرح کے مطابق ریٹ نکالا تو بہت سے عوام کے ذہن میں یہ بات ہے کہ حکومت جان بوجھ کر کم قیمت پر ان کی قیمتی زمین حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ کسی بھی زمین کی ایکوائر کے وقت وہاں پر ہونے والے انتقالات میں درج ہونے والی قیمت کو دیکھ کر ریٹ مقرر کیا جاتا ہے علاقہ کے عوام نے اپنے تحفظات ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے سامنے بھی پیش کیے ہیں اس کے علاوہ علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی اپنے طور پر پنجاب حکومت کو عوامی شکایات کے ازالے کے لئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے اس منصوبے پر جس تیزی کے ساتھ کام ہو رہا ہے امید ہے کہ اگلے چند چند مہینوں تک اس کا افتتاح کر دیا جائے گا اس ہفتہ کے دوران نیسپاک اور راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے افسران راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ کے پورے روٹ کا دورہ کریں گے جو کہ دودنوں پر مشتمل ہو گا جس میں پورے منصوبہ کے ڈیزائن، حاصل کی جانیوالی زمین اور تمام تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائیگا وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار رنگ روڈ منصوبہ میں ذاتی طور پر دلچسپی رکھتے ہیں اور منصوبہ پر ہونیوالی پیشرفت سے آگاہ ہوتے ہیں رنگ روڈ منصوبہ میں آنیوالی تمام قبروں اور مزارات کے تقدس کا مکمل خیال رکھا جائیگا اور اگر کسی بھی روٹ کوئی قبر یا مزار آئیں گے تو اس کا حل تلاش کیا جائے گامنصوبہ کے بڈنگ کے عمل کے کاغذات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور قانونی ماہرین ان کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں جو اس بات کی دلیل کے حکومت پنجاب جلد از جلد یہ منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے بلاشبہ یہ منصوبہ علاقے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا اور اور گردونواح کے علاقوں کے ساتھ ساتھ جڑواں شہریوں کے باسیوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالے گا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ زمینداروں سے جس ریٹ پر زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں حکومت ان پر نظر ثانی کرے اور کم از کم وہ ریٹ جو موجودہ چل رہا ہے اس کے مطابق ان لوگوں کو معاوضے ادا کیے جائیں یا پھر ایسے لوگ جن کی قیمتی زمین اس منصوبے کی نظر ہو رہی ہیں ان کو ان کے تبادلے میں پنجاب کے کسی بھی زرعی علاقے میں زمین الاٹ کی جائے تاکہ وہ لوگ جن کے آبا و اجداد کی زمینیں اس بڑے منصوبے کی نظر ہو رہی ہیں کے نقصانات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ممکن ہو سکے امید ہے کہ حکومت اس بارے میں عوامی رائے کا خیر مقدم کرتے ہوئے متاثرین رنگ روڈ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com