الیکشن پنجاب بارکونسل کے حتمی نتائج اور جعلی ڈگریاں

ایڈووکیٹ جنرل و چیئر مین پنجاب بار کونسل نے 28 نومبر2020 ہونیوالے ممبران کے الیکشن 2020-25 کے حتمی نتائج کا اعلان اور نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔نتائج کے مطابق لاہور ڈویثرن کی کل20 سیٹوں پرجو امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں ۔ اُن میں ضلع لاہور کی 16سیٹوں پر (1)عرفان حیات باجوہ 4908ووٹ،(2)احمد یار چاولی 4781ووٹ،(3) ذبیع اللہ ناگرہ 4772ووٹ، (4)حافظ عبدالنعیم چوہدری 4744ووٹ،(5)محمد احمد قیوم 4652ووٹ،(6)کامران بشیر مغل 4201ووٹ،(7)ادیب اسلم بھنڈر 3978ووٹ،(8)فرحان شہزاد 3972ووٹ،(9)رائے محمد نواز کھرل 3906ووٹ،(10)رانا محمد آصف 3696ووٹ،(11)رانا ضمیر احمد جھیڈو 3629ووٹ،(12)عرفان صادق تارڑ 3514ووٹ،(13)نتیجہ روک لیاگیا ہے،(14)مبشر رحمن چوہدری 3363ووٹ،(15)منیر بھٹی 3292ووٹ اور(16) چوہدری بابر وحید 3253ووٹ شامل ہیں جبکہ ضلع قصورکی 2سیٹوں پر(1)امجد اقبال خان 4582ووٹ، (2)ملک ریاض احمد خان3561ووٹ، ضلع شیخوپورہ کی1سیٹ پرنتیجہ روک لیاگیا ہے اور ضلع ننکانہ صاحب کی1سیٹ پر انور زاہد سراء6463ووٹ لیکر ممبران منتخب ہوئے ہیں۔
حتمی نتائج کے اعلان کے بعد دو کامیاب امیدوار ایسے بھی ہیں جن کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر روک لیا گیا ہے ۔اِن میں لاہور سے جمیل اصغر بھٹی اور شیخوپورہ سے شاہنواز اسماعیل گجر شامل ہیں ۔دراصل آج کل لاہور ہائیکورٹ میں ایک رٹ پٹیشن زیر سماعت ہے جو ایک خاتون وکیل میڈم گلزار بٹ نے دائر کی ہے۔ جس میں جعلی ڈگریوں کے حامل امیدواروں پر سوال اٹھایا گیا تھا مگر اِس دوران کئی امیدواران جو اب بے نقاب ہوچکے ہیں کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوگئی ہیںاور اِس سلسلہ میںپنجاب یونیورسٹی نے بھی اِن جعلی ڈگریوں کی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروادی ہے ۔جس کے مطابق دوسری مرتبہ کامیاب ہونے والے دو امیدوار اور دونوںسابقہ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل جمیل اصغر بھٹی اورشاہنواز اسماعیل گجرکے علاوہ لاہور کے تین ناکام امیدواروں میاں محمد حفیظ، رانا جاوید بشیر خاں(سابقہ نائب صدور لاہوربار ایسوسی ایشن )اور طارق ریاض سمیت پنجاب بھر سے کل 15نام سامنے آئے ہیں ۔
اِس صورتحال کے بعد ایڈووکیٹ جنرل و چیئر مین پنجاب بار کونسل احمد اویس نے کامیاب امیدواروں کا جو نوٹیفکیشن جاری کردیاہے اور اُس میں روکے جانے والے نتائج کو میڈم گلزار بٹ کی لاہور ہائیکورٹ میں زیرِسماعت رٹ پٹیشن نمبر 45667/2020کے فیصلہ سے مشروط کردیا گیاہے ۔اب قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ فیصلہ آنے کے بعد لاہور سیٹ پر (17)پر موجود خاتون امیدوار رشدہ لودھی 3213ووٹ اور شیخوپورہ سیٹ پر (2)پر آنے والے رانا سیف اللہ خان3181 ووٹ ممبران بن جائے گے۔
اِس سے قبل موجودہ وائس چیئر مین پنجاب بار کونسل محمد اکرم خاکسار نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے سید فرہاد علی شاہ کو چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل بنادیا تھا۔سید فرہاد علی شاہ نے چارج سنبھاتے ہی ایک نیا حکم نامہ جاری فرمایا ہے ۔جس کے مطابق آئندہ الیکشن تحصیل وڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز میں حصّہ لینے کے خواہش مند امیدواران کیلئے لازمی شرط رکھ دی گئی ہے کہ وہ بذریعہ الیکشن بورڈ اپنی میٹرک سے ایل ایل بی تک کی تمام اسنادکی تصدیق کرواکر الیکشن میں حصہّ لینے کے اہل ہونگے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پنجاب بار کونسل کے اِس اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں زیرِسماعت رٹ پٹیشن میں بھی سراہا گیاہے اور اپنے آخری حکم میں لاہور ہائیکورٹ نے بھی اِس حکم نامہ کا حوالہ دیا ہے ۔
میری ذاتی رائے میں لاہور ڈویثرن کے وکلاءنے اِس دفعہ جن ممبران کا انتخاب کیا ہے وہ موجودہ ممبران پنجاب بار کونسل جن کی معیاد 31دسمبر2020کو ختم ہورہی ہے سے بہتر انتخاب ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم وکلاءماضی کے تجربات میں کچھ سیکھ چکے ہیں ۔اِسی لیے ہم نے صرف ”وکالت “کے پیشہ سے منسلک وکلاءکا انتخاب کیا ہے ۔جہاں تک بات” جعلی وکلائ“ کی ہے تو اب ضروری ہوچکا ہے کہ اِن کے خلاف ”کریک ڈاﺅن“ کیا جائے اور اسناد کی تصدیق کا دائرہ میںاب تمام تر وکلاءکو شامل کیا جانا چاہئے تاکہ جو ”جعلی “ہیں وہ نشانِ عبرت بن سکیں۔آخر میں، میںتمام نومنتخب ممبران پنجاب بار کونسل کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اُن کیلئے دُعاگو ہوں کہ اللہ پاک انہیںاپنی برادری کی فلاں وبہبود کیلئے کام اور”حق پر فیصلے“ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com