کھلے دودھ کے خلاف اشتہاری مہم اور۔۔۔ مافیا!

ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
گزشتہ سال کے آغاز پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اشتہاری مہم چلائی گئی۔ یہ مہم کچھ دیر کے لئے رُک گئی مگر گزشتہ چند دنوں سے اس کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کو معیاری اور صاف ستھرے دودھ کی فراہمی ہونی چاہئے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ عوام کو اصلی اور جانوروں سے حاصل ہونے والا دودھ ہی فراہم کیا جائے نہ کہ صاف دودھ کے نام پر جعلی دودھ فروخت ہوتا رہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو بطور پروفیشنل آرگنائزیشن دودھ کی بہتر کوالٹی کے حوالے سے بات کرنی چاہئے۔ ڈیری فارم پر صفائی ستھرائی کے حوالے سے کمپین چلانی چاہئے۔ دودھ فروشوں کی دکانوں پر بہتر انتظامات کے حوالے سے اپیل کرنی چاہئے۔ گھریلو سطح پر دودھ کی بہتر ہینڈلنگ پر بات کرنی چاہئے۔
ایسوسی ایشن کو حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہئے کہ پاکستان میں فروخت کیے جانے والے دودھ کی کوالٹی کو چیک کرنے کے لئے انتظامات کیے جائیں۔ اس مناسبت سے متعلقہ اداروں کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنایا جائے۔ ایسوسی ایشن کا یہ ہرگز کام نہیں ہونا چاہئے کہ مارکیٹ کی ایک پروڈکٹ جو کہ ملکی معیشت کی بنیاد ہے، اس کے مقابلے میں کسی خاص پروڈکٹ کی تشہیر شروع کر دے جبکہ دونوں کا براہ راست مقابلہ بھی ہو۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس بات کی کیسے گارنٹی دے سکتی ہے کہ جو پیکٹ میں بند دودھ ہے وہ کوالٹی کے لحاظ سے بہترین ہے یا جو پیکٹ میں بند کر کے فروخت کیا جا رہا ہے وہ اصلی اور جانور سے حاصل کیا جانے والا دودھ ہے۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس چیز کی کیسے گارنٹی دے سکتی ہے کہ پاکستان بھر میں برسوں سے استعمال ہونے والا کھلا دودھ ہر جگہ ہر صورت میں گندا ہوتا ہے۔ چونکہ کھلا دودھ غریب آدمی کی پروڈکٹ ہے، اس لئے اسے ٹارگٹ کرنا بھی آسان ہے، مگر دوسری جانب۔۔۔!!!!
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن جو پیک شدہ دودھ کی وکالت کرتے ہوئے قوم کو کھلے دودھ سے متنفر کرنے کی کمپین چلا رہی ہے اسے آگاہی حاصل کرنی چاہئے کہ کیا ہر پیکٹ میں اصلی دودھ ہی ہوتا ہے۔ انہیں پیک کرنے والوں سے ڈیٹا مانگنا چاہئے کہ وہ جتنا دودھ پیک کرتے ہیں اس کا سورس بتایا جائے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو اس حوالے سے بھی آگاہی حاصل کرنی چاہئے کہ جو غیرمعیاری خشک دودھ اور وے پاؤڈر مبینہ طور پر سمگلنگ اور امپورٹ کے ذریعے پاکستان آتا ہے وہ کون منگواتا ہے اور کس جگہ استعمال ہوتا ہے۔
واضح رہنا چاہئے کہ پاکستان میں گائیوں بھینسوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان جانوروں کو پالنے والوں میں 80 فیصد سے زائد ایسے افراد ہیں جن کے پاس دس یا اس سے کم جانور موجود ہوتے ہیں جبکہ بڑی تعدا ددوسے پانچ جانوروں والوں کی ہے۔ اس کے بعد بڑے روایتی فارمرز کی تعداد ہے جبکہ کارپوریٹ اور کمرشل ڈیری فارمز کا پروڈکشن سسٹم میں حصہ بہت کم ہے۔ یہی وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارمرز ہیں جو ملک بھر میں اصلی دودھ کی سپلائی کی بنیاد ہیں۔ یہ نہ صرف سپلائی کی بنیاد ہیں بلکہ ملکی معیشت میں ان کا بنیادی اور اہم ترین حصہ ہے۔اگر کسی نے دودھ کو پیک کرکے بھی فروخت کرنا ہو تو اسے اسی سسٹم سے دودھ لینا پڑے گا بشرطیکہ اس کی خواہش اصلی دودھ کو پیک کرنے کی ہو۔
یہ بھی واضح رہنا چاہئے کہ پاکستان میں کھلے دودھ کا استعمال ایک روایت ہے۔ گلی محلوں میں دودھ کی خریداری کرنے والے کو اس بات کا علم ہوتا ہے وہ کس کوالٹی کا دودھ خرید رہا ہے اور اس کے لئے کتنی قیمت ادا کر رہا ہے۔ مارکیٹ میں کھلا اور پیکٹ دونوں صورتوں میں ہر طرح کا دودھ دستیاب ہوتا ہے۔ لوگ اپنی اپنی مالی استطاعت اور ذاتی ترجیحات کے مطابق دودھ خریدتے ہیں۔
اگر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی بات مان لی جائے تو پھر پاکستان میں ہر قسم کی کھانے پینے کی اشیاء کی فروخت پیکنگ میں ہونی چاہئے۔ غریب قوم جسے روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ پیکنگ کی اضافی قیمت کیونکر ادا کرے گی۔ مزید کہ پیکنگ کا مطلب کھانے پینے کی اشیاء کو بھی سرمایہ دار اور صنعت کار کے حوالے کرنا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا مارکیٹ میں ایک پروڈکٹ کے مقابلے میں کسی خاص پروڈکٹ کی تشہیر کرنا مارکیٹ سسٹم پر اثرانداز ہونے اور کسی خاص گروہ کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہ پاکستان میں لائیوسٹاک فارمرز کے خلاف کمپین ہے جس کا براہ راست اثر نیشنل فوڈ سیکیورٹی پر ہو گا۔ منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ، فوڈ اتھارٹیز، صوبائی محکمہ لائیوسٹاک، پییمرا اور کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے لئے اس طرح کی اشتہاری مہم ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ اس سرگرمی کا نوٹس لیں۔ اس بات کو دیکھا جانا چاہئے کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو ان اشتہاروں کے لئے فنڈنگ کہاں سے ہو رہی ہے۔ اگر ایسوسی ایشن اپنے بجٹ سے اشتہار چلا رہی ہے تو ایسوسی ایشن کے فنڈز کا سورس کیا ہے۔ دیکھنا ہو گا کہ ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر چلنے والے اس اشتہار کے پیچھے بھی کوئی کارٹل یا مافیا تو نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com