لو جہاد مخالف قانون کی آڑ میں مسلم نوجوانوں پر عتاب

سہیل انجم
گزشتہ ایک ماہ سے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب صبح کو اخبار اٹھائیے تو کسی نہ کسی کے قبول اسلام کی خبر نہ مل جائے۔ ان خبروں کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بظاہر قبول اسلام صرف ہندو لڑکیوں کی جانب سے ہو رہا ہے۔ اگر اتر پردیش پولیس کی کارروائیوں پر نظر ڈالیں تو ایسا لگتا ہے کہ ہر ہندو خاندان کی لڑکی مسلمان ہونے کے لیے بے چین ہے اور ہر مسلم خاندان کا نوجوان ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کی مہم پر نکلا ہوا ہے۔ اترپردیش کی حکومت نے نومبر کے اواخر میں مبینہ لو جہاد مخالف قانون منظور کیا تھا۔ یوں تو اس قانون کا نام جبریہ تبدیلی مذہب مخالف قانون ہے لیکن اس کا مقصد ہندو لڑکیوں کی مسلم لڑکوں سے شادی کو روکنا ہے۔ یہ قانون مبینہ لو جہاد کو روکنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ لو جہاد ہندوتوا وادی عناصر کی گھڑی ہوئی ایک اصطلاح ہے۔ یعنی مسلم نوجوان محبت کا جہاد چھیڑے ہوئے ہیں۔ یہ الزام عاید کیا جاتا ہے کہ مسلم نوجوان ایک مہم کے تحت ایسا کرتے ہیں اور ایک ایک نوجوان کو خلیجی ملکوں سے دس دس لاکھ روپے ملتے ہیں۔ لیکن اس کا ایک بھی ثبوت آج تک پیش نہیں کیا جا سکا۔ خود حکومت نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہولے کہا کہ لو جہاد کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود آج بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں لو جہاد مخالف قانون بنانے کا ایک مقابلہ چل پڑا ہے۔
جب سے یو پی میں یہ قانون بنا ہے پولیس بہت تیزی سے سرگرم ہو گئی ہے اور اگر کچھ لوگ تھانے پہنچ جائیں اور کہہ دیں کہ فلاں مسلمان نے ایک ہندو لڑکی سے جبراً شادی کی ہے۔ وہ اس کا مذہب تبدیل کرا رہا ہے اور وہ لو جہاد میں ملوث ہے تو فوراً پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور بغیر کسی چھان بین کے مذکورہ نوجوان کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیتی ہے اور اگر وہ نہیں ملتا تو اس کے گھر والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں پولیس نے 16 ایف آئی آر درج کیں، 86 افراد کے خلاف کارروائی کی اور 54 افراد کو گرفتار کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہاکہ اسے ابھی مزید 31 ملزموں کو گرفتار کرنا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق صرف دو معاملات میں لڑکیوں نے رپورٹ درج کرائی ہے ورنہ تمام معاملات میں لڑکیوں کے والدین نے رپورٹس درج کرائی ہیں۔ سب سے زیادہ 26 کیسیز ایٹہ ضلع میں درج کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے جبریہ تبدیلی مذہب کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کے پیش نظر مذکورہ کارروائیاں کی گئیں۔ آٹھ معاملات میں لڑکوں اور لڑکیوں نے خود کو ایک دوسرے کا دوست بتایا یا یہ کہا کہ ان میں آپس میں تعلق ہے۔ ایک جوڑے نے دعویٰ کیا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ یہ معاملات بجنور، شاہ جہاں پور، بریلی، مظفر نگر، مو ¿، سیتا پور، ہردوئی، ایٹہ، قنوج، اعظم گڑھ اور مراد آباد اضلاع میں درج کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ قانون کے تحت شادی کے لیے جبریہ مذہب تبدیل کرانے یا اپنا مذہب پوشیدہ رکھ کر شادی کرنے کا جرم ثابت ہونے پر کم از کم دس سال کی جیل اور 50 ہزار روپے کا جرمانہ ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکور اور بیشتر قانون دانوں کا کہنا ہے کہ یو پی کا مذکورہ قانون غیر آئینی ہے اور یہ سپریم کورٹ میں ٹھہر نہیں سکتا۔ سپریم کورٹ میں اس کے خلاف جو عذر داریاں داخل کی گئی ہیں ان پر 6 جنوری کو سماعت ہوگی۔ آئین کا کہنا ہے کہ اگر دو بالغ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہیں تو کسی بھی مذہب یا ذات برادری کے ماننے والے کے ساتھ شادی کر سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ان واقعات کے درمیان الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ہندو لڑکی کو مسلم لڑکے کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے اپنے ایک اہم فیصلے میں ایٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان سلمان عرف کرن کی حبس بیجا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایک ہندو لڑکی شکھا کو اس کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ لڑکی بالغ ہے اور اسے اپنی پسند کی شادی کرنے اور اپنی زندگی اپنے طور پر جینے کا آئینی حق ہے۔ بینچ نے متاثرہ کو لڑکیوں کے ایک مرکز میں بھیجنے کے ایٹہ کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) کے فیصلے کے خلاف سخت ریمارکس دیے اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سی جے ایم کو قانون کی کم سمجھ ہے۔ یوپی کے اس قانون کے خلاف 104 سابق افسر شاہوں نے ایک مکتوب لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے یو پی میں تعصب، تنگ نظری، فرقہ وارانہ تقسیم اور کٹرتا کا ماحول بن رہا ہے۔ انھو ںنے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئین کا مطالعہ کریں۔
یو پی میں جو واقعات پیش آرہے ہیں ان میں زیادہ تر ہندو لڑکیاں ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر لڑکی مسلمان نہیں ہو رہی ہے۔ بلکہ بہت سی لڑکیاں ہندو ہی ہیں۔ انھوں نے اپنا مذہب نہیں بدلا ہے۔ ان لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ بلکہ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ مسلم لڑکے نے اپنا مذہب بدل لیا اور وہ ہندو ہو گیا۔ اس کے باوجود پولیس ایسی شادیاں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ پولیس اتنی تیزی سے کارروائی کر رہی ہے کہ اس نے کشی نگر میں ایک مسلم جوڑے کا نکاح روک دیا اور دولہے کو رات بھر تھانے میں بٹھائے رکھا۔
ان واقعات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہندو خاندان اپنی بیٹیوں کو ایسا سنسکار دینے میں ناکام ہیں جو انھیں دوسرے مذہب کے لڑکوں سے محبت کرنے سے باز رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض مسلم خاندان بھی اپنے بیٹوں کی صحیح تربیت نہیں کر پا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ غیر مذہب کی لڑکیوں سے محبت کر رہے ہیں اور ان سے شادی کر رہے ہیں۔ مسلم معاشرے کے لوگوں پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ایسی محبت اور ایسی شادیوں سے روکیں اور انھیں بتائیں کہ ان شادیوں سے سماج میں کیا پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے اور ان سے ماحول کس قدرخراب ہو رہا ہے۔ انھیں سمجھائیں کہ وہ والدین کی پسند کا خیال رکھیں اور ان کی مرضی سے ہی شادی کریں۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو آگے چل کر اس کے بڑے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com