وہ گاؤں اب کہاں۔۔؟

عمرخان جوزوی
میرے قارئین میں اکثریت کویہ علم ہے کہ میراتعلق پسماندگی کے گہرے بادلوں میں ڈھکے اور وفاؤں کے بلندوبالاپہاڑوں سے جڑے ضلع بٹگرام سے ہے اورشائدبٹگرام کی پسماندگی۔۔یہاں کے عوام کی بدنصیبی اوربدقسمتی سے بھی میراکوئی قاری ناآشناء نہیں۔۔جس شہر۔۔جس علاقے اورجس مٹی کے ساتھ برسوں سے پسماندگی کارشتہ جڑاہواہوبھلااس علاقے۔۔شہراورمٹی کی بدحالی اورزبوں حالی سے بھی کوئی ظالم ناواقف اورلاعلم ہوسکتاہے۔۔؟اس شہرسے بوریابستراٹھائے کئی برس بیت گئے۔۔وفاؤں کے وہ بلندوبالاپہاڑ۔۔صاف وشفاف پانی کے وہ یخ اورٹھنڈاچشمے۔۔سرسبزوشاداب کھیت۔۔بہتی آبشاریں۔۔کھلکھلاتے پھول۔۔چڑیوں کاوہ شور۔۔گلی محلوں اورحجروں میں پیارومحبت کاوہ زور۔۔ہماری قسمت میں اب کہاں۔۔؟جن گلی ومحلوں میں ہمارابچپن گزرا۔۔جن چشموں سے ہم نے پیاس بجھائی۔۔جن پہاڑوں نے اپنے وجودسے ہمیں وفا۔۔جرات۔۔بہادری اورحق وسچ کیلئے ڈٹ جانے کادرس دیا۔۔وہ جن درختوں کے سائے اورپھولوں کی خوشبوؤمیں ہماری زندگی گزری۔۔آج توان گلی محلوں۔۔چشموں۔۔آبشاروں اورپہاڑوں سے نظریں ملاتے ہوئے بھی سرہمارے شرم سے جھک جاتے ہیں۔۔اس مٹی نے پہلے ہمیں جیناسکھایا۔۔پھرہمارے آباؤاجدادکواپنے اندرپناہ دی۔۔لیکن ہم نے اس مٹی کیلئے کیاکیا۔۔؟یہ سوچتے ہوئے بھی آنکھیں میری ترہوجاتی ہیں۔۔سال بعدتوغیربھی اس شہر۔۔اس علاقے اوراس مٹی کے چکرلگاتے ہوں گے۔۔پھرہم سالہاسال اس علاقے اورمٹی سے دورو بے خبررہنے والے اس علاقے اوراس مٹی کے اپنے کیسے۔۔؟میری مرحومہ ماں کواس علاقے واس مٹی سے بہت پیارتھا۔۔پردیس میں رہتے ہوئے انہیں ہمیشہ دیس کاخیال رہتا۔۔شائداسی وجہ سے وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس مٹی کی مہمان بنیں۔۔برسوں بعداس علاقے اورمٹی سے سامناہواتوماضی کے تمام دریچے ایک ایک کرکے کھل گئے۔۔پیارومحبت کی وہ ہوائیں۔۔اتفاق واتحادکی وہ صدائیں۔۔بلبل کے وہ نغمے۔۔رشتوں کے وہ تمغے۔۔وہ پیار۔۔وہ محبت۔۔وہ سکون۔۔وہ اتفاق اوروہ اتحاد۔۔جواس علاقے اورمٹی کوورثے میں ملاتھا۔۔اس کااب یہاں نام ونشان نہیں۔۔شائدآخری لڑی کے بزرگ دنیاسے جاتے جاتے وہ وراثت چھوڑنے کی بجائے کہیں اپنے ساتھ لیکرگئے۔۔شہرمجھے ملا۔۔گاؤں بھی ملا۔۔عظمت کے وہ نشان جن پرہمارے بچپن کے زمانے اوراپنوں وبیگانوں کے دوستانے نقش تھے وہ تومجھے ملے لیکن وفاؤں کے وہ بلندوبالاپہاڑ۔۔صاف وشفاف پانی کے وہ یخ،ٹھنڈااورمیٹھے چشمے۔۔سرسبزوشاداب کھیت۔۔بہتی آبشاریں۔۔کھلکھلاتے پھول۔۔چڑیوں کاوہ شور،گلی محلوں اورحجروں میں پیارومحبت کاوہ زورمجھے کہیں نہیں ملا۔مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک میرایہ بٹگرام کبھی ایک ہواکرتاتھا۔کیاسواتی۔کیاگجر۔۔کیادیشان۔۔کیاپھگوڑہ۔۔کیااجمیرہ۔۔کیاتھاکوٹ۔کیاجوز۔کیاشملائی۔کیابٹہ موڑی۔کیاترند۔۔کیاچھپرگرام اورکیاآلائی۔۔جس طرح یہ علاقے آج ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اسی طرح اس وقت یہاں کے لوگ بھی مختلف نسلوں۔۔رنگوں اورشکلوں کے باوجودایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے تھے۔۔لیکن اب ایسانہیں۔۔آج علاقے اورمٹی تووہی ہے لیکن لوگ۔۔انتہائی معذرت کے ساتھ۔۔لوگ وہ نہیں۔۔آج مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک۔۔سارے لوگ مختلف گروہوں۔۔گروپوں۔۔پارٹیوں۔۔جنبوں اورقوموں میں بھٹکے ہوئے ہیں۔۔شائدیہی وجہ ہے کہ 71سال گزرنے کے بعدبھی اس شہر۔۔اس علاقے اوراس مٹی کی تقدیربدل نہیں سکی۔۔برسوں پہلے اس مٹی کے ماتھے پرپسماندگی کاجوچھوٹاساایک داغ تھا۔۔اپنوں کی بیوفائی۔۔بغض۔۔حسد۔۔نااتفاقی۔۔انتقام۔۔جھوٹ اورفریب کی وجہ سے آج اس چھوٹے سے داغ نے ایک بڑی چادراورکمبل کی شکل اختیارکرکے اس مٹی کوڈھانپاہواہے۔۔ٹولی سے بھٹکنے اوراپنوں کوچھوڑنے والے شیرکوتو گیدڑبھی نہیں چھوڑتے۔۔پھرقومیت میں بھٹکنے والے میرے یہ لوگ انسانی گیدڑوں سے کیسے بچیں گے۔۔؟اپنے آبائی علاقے کی چندکلومیٹرسڑک کوکئی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں میں کھلونابنتے دیکھ کرواللہ مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔۔کیونکہ۔۔جہاں ہرشخص کی اپنی حکمرانی ہو۔۔جہاں ہرشخص اپنی ذات میں خودسب سے بڑالیڈرہو۔۔جہاں ہرشخص الگ ایک قوم ہو۔۔جہاں بغض۔۔حسد۔۔نااتفاقی۔۔انتقام۔۔جھوٹ اورفریب کی ہمہ وقت بارش ہو۔۔وہاں پھر۔۔کسی دولہے کی گرفتاری اورچندکلومیٹرسڑک پرچارپانچ ٹھیکیداروں کی ایک ساتھ ملکیت اپنے اندرکوئی سوال نہیں رکھتا۔۔میرے شہر۔۔علاقے اورلوگوں کے ساتھ سترسال سے جوکچھ ہورہاہے وہ قافلے۔۔ٹولی اوراتحادسے بھٹکنے والوں کے ساتھ ہی ہوتاہے۔۔بجلی۔۔پانی۔۔صحت۔۔تعلیم اورمواصلات جیسے یہ بے پناہ مسائل میرے ان لوگوں کے اپنے پیداکردہ ہیں۔جب تک میرے یہ لوگ آپس میں ایک تھے۔۔جب تک یہاں کی مٹی سے پیارومحبت کے فوارے پھوٹتے تھے۔۔جب تک یہاں حق وسچ کی صدائیں گونجتی تھیں۔۔جب تک یہاں امن اوربھائی چارے کی ہوائیں چلتی تھیں۔۔جب تک ہرکسی کادکھ اوردرداپنادردمحسوس ہوتاتھا۔۔اس وقت میرے اس شہراورعلاقے میں یہ مسائل تودورکوئی مسئلہ بھی نہ تھا۔۔لیکن جب میرے یہ لوگ ٹولیوں۔۔گروہوں۔۔فرقوں۔۔پارٹیوں اورجنبوں میں بھٹک گئے توپھر۔۔گیڈربھی ان کے لئے شیربن گئے۔۔آج اس علاقے میں مسائل کے انبارلگے ہوئے ہیں۔۔بجلی کاتواس علاقے میں صرف نام ہے۔۔تعلیم،صحت اورشاہراہوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔کسی شاہراہ پرایک بارسفرکرنے کے بعدپھرکئی دن تک انسان کاوجوداپنی جگہ پرنہیں آتا۔۔یہاں کاہرذرہ اپنے اندرکوئی نہ کوئی مسئلہ لیکربرسوں سے دھائیاں دے رہاہے لیکن اس کے باوجود کسی کواس کی کوئی فکراور پرواہ نہیں۔۔یہاں ہرشخص بغض۔۔حسد۔۔جھوٹ وفریب میں اس طرح لت پت اورمست ہے کہ اسے اب اپنے سواکچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔میراخان تیراخان۔۔میراچوہدری تیراچوہدری اورمیرانواب تیرانواب کے نعروں اورسوچ نے نہ صرف یہاں کے لوگوں اورقوموں بلکہ سکول۔۔ہسپتال اورسڑکوں کوبھی ٹکڑوں اورذروں میں تقسیم کردیاہے۔۔سالوں بعدگاؤں کے باباجی سے سامناہواتوان کی آنکھوں میں آنسواورلب پرلوگوں سے شکایات کے انبارتھے۔۔وہ بھی ماضی کے روشن دریچوں میں جھانک کرخودکوکوستے رہے۔۔بیٹے۔۔بڑوں اوربزرگوں کے جانے کے بعدہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔۔لگتاہے بڑوں کی طرح پیار۔۔محبت۔۔بھائی چارے۔۔امن اورسکون والی زندگی گزارنے کے لئے اب مرنا پڑے گا۔۔کیونکہ ہمارے بڑے جس طرح یہاں زندگی گزارکرگئے اس طرح کاماڈل تواب کہیں نظرنہیں آرہا۔۔بڑے واقعی ٹھیک کہاکرتے تھے کہ ہمارے جانے کے بعدتم بہت پچھتاؤگے۔۔بیٹے۔۔آج پچھتانے اورخودکوکوسنے کے سواکیا۔۔؟ہمارے پاس کوئی دوسراراستہ ہے۔۔یہ کہتے ہوئے باباجی کاناتواں جسم آہوں اورسسکیوں سے کانپنے لگا۔۔کاش۔۔ہم خان۔۔نواب اورچوہدری بننے کی بجائے وہی پرانے والے انسان فقط انسان رہتے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com