میں نے قذافی سٹیڈیم میں کرکٹ میچ دیکھا

میں نے قذافی سٹیڈیم میں کرکٹ میچ دیکھا
تحریر: سیدہ فاطمہ احمد
میں شروع سے ہی کرکٹ کا کوئی خاص شوق نہیں رکھتی تھی۔کیونکہ میرے والد مرحوم ڈاکٹر سید غلام احمد ایک بہت سیدھے سادھے انسان تھے اور کھیل کود جیسی چیزوں سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔پیشے کے اعتبار سے طبیب تھے اور پیروں فقیروں سے ملنا کھیل کود سے زیادہ پسند کرتے تھے۔اور دن میں دس دفعہ میرا اور میرے بھائی سید محمد احمد کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے گنگنایا کرتے تھے ” کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب، پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب” ۔ لو جی بچپن سے یہ سن سن کے ہم جوان ہوئے۔ اور یہ چیز پلو سے ایسی باندھی جیسے کسی ملک کا قومی ترانہ۔ اور کھیل کود کا شوق رکھنے والوں کو ایسے دیکھتے جیسے کسی عادی مجرم کو دیکھا جاتا ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میری شادی جن سے ہوئی ڈاکٹر کاشف رفیق پیشے کے اعتبار سے وہ بھی طبیب ہیں والد صاحب کی طرح پر ان کے اور بابا مرحوم کے گنگنانے میں فرق یہ ہے ” پڑھو گے لکھو گے ہو گے خراب، کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب”۔
ڈاکٹر کاشف رفیق کرکٹ کے اس قدر شوقین ہیں کہ وہ کسی قسم کا تعلق بھی اس شخص سے ختم کر سکتے ہیں جو کرکٹ کی ذرا سے بھی برائی کرے۔ ان کے نزدیک کرکٹ صرف عقلمندوں کو سمجھ آنے والا کھیل ہے۔ اور اس کو سراہنے والا ایک عظیم انسان ہی ہو سکتا ہے۔ اور اگر وہ کسی کو کرکٹ یا ان کے پسندیدہ کھلاڑی کی برائی کرتا ہوا سن لیں تو اس کی ساری ڈگریاں جعلی قرار بھی دی جا سکتی پیں۔
خیر شوق اپنے اپنے۔ میں نے بھی چپ سادھ لی۔ کہ اگر میں نے وہی بچپن کا فارمولا ڈاکٹر کاشف کے سامنے رکھا تو ایسا نہ ہو کہ میری ڈگریوں پر بھی شک ہو۔ خیر اصل بات آپ کو یہ بتانا تھی کہ میں نے آخر ان کے ساتھ جا کر انٹرنیشنل کرکٹ میچ دیکھا۔ پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش۔ جیسے کہ وہ کرکٹ کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ تو ٹکٹ بھی سب سے اچھے انکلویر کا خریدا گیا۔جب میں نے وی آئی پی ٹکٹ کا سنا تو مجھے تسلی ہوگئی کہ انتظامات یقیناً اچھے ہی ہوں گے۔ ٹکٹ پر لکھا تھا کہ کھانے پینے کے لیے کچھ ساتھ نہیں لا سکتے۔ یہ پڑھ کر اور تسلی ہوگئی کہ اتنا لمبا میچ ہے تو عظیم لوگوں کے لیے چائے پانی کا اچھا انتظام ہوگا۔ چونکہ مجھے کرکٹ میں اتنی دلچسپی نہیں اس لیے سوچا کھانے پینے میں اچھا وقت گزر جائے گا۔ میرے والد صاحب کھانے پینے کے اسی طرح شوقین تھے جیسے ڈاکٹر کاشف کرکٹ کے۔ ڈاکٹر کاشف جس طرح کھلاڑیوں کا ذکر کرتے ہیں میرے والد صاحب ویسے ہی بکرے کے گوشت کے مختلف حصوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اس لیے مجھے بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا اگر کہیں کھانے پینے کا اچھا انتظام ہے۔ ایک روز قبل مال روڈ سے گزرنے کا اتفاق ہوا جہاں پی سی ہوٹل واقع ہے۔ وہیں مہمان ٹیم بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے رہنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اور پورا ہوٹل خاص طور پر ان کے لیے بک تھا۔ مجھے مزید بتایا گیا کہ ان کھلاڑیوں کو صدارتی لیول کی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ ہیلی کاپٹر سے ان کی فضائی نگرانی کی جائے گی اور جہاں سے انھیں گزرنا ہوگا وہاں سب دفاتر، دکانیں بند کر دیے جائیں گے۔ یہ سب باتیں سن کر مجھے اور تسلی ہوگئی۔ کہ انتظامات تو بہت شاندار ہوں گے سٹیڈیم میں۔ یوں اچھا وقت گزر جائے گا۔ میرے ساتھ میرے ڈیڑھ سال کے بیٹے فہام کاشف نے بھی جانا تھا۔ جس کے ساتھ کرکٹ سٹیڈیم تو دور ہم کالونی کے پارک میں بھی نہ گئے تھے کہ کہیں ٹھنڈی ہوا نہ لگ جائے۔ لیکن ڈاکٹر کاشف اسے ڈاکٹر،انجینئیر نہیں بنانا چاہتے بلکہ کرکٹر بنانا چاہتے ہیں.لیکن میں اسے نانا دادا اور والد صاحب کی طرح طبیب بنانے کا سوچتی تھی لیکن ایک دن جب میری اماں نے میری پریشانی بھانپتے ہوئے مجھے تسلی دی کہ عمران خان بھی تو کرکٹر ھے آج پاکستان کا وزیراعظم ھے اس دن سے مجھے بھی کرکٹ سے تھوڑی مھبت ھو گئ۔اس لیے اس کو ساتھ لے جانے کی خاطر میرا ٹکٹ بھی خریدا گیا۔ہم لوگ صبح پوچھتے پوچھتے شٹل سروس تک پہنچے۔ اتنے بڑے کرکٹ میچ کی معلومات نہ تو ٹکٹ پر لکھی تھیں نہ ہی ٹی وی چینلز پر کچھ بتایا گیا تھا۔ ہم بھی باقی لوگوں کے ساتھ کوسٹر پر بیٹھ کر سٹیڈیم کے گیٹ پر پہنچ گئے۔ جہاں جگہ جگہ سکیورٹی اہلکار تھے۔ جو کہ آپ کی بات پر اتنا یقین کرتے تھے جتنا کوئی چاہنے والا ہی آپ پر یقین کرتا ہے۔ منہ زبانی ہر جگہ بریانی کھاتے کھاتے سیکیورٹی کی عورتیں پوچھتیں کہ آپ کے پاس قینچی تو نہیں ہے، ماچس تو نہیں ہے۔ میں کہتی نہیں تو فوراً میری بات پر اچھے چاہنے والے کی طرح یقین کر کے مجھے اگلے سیکیورٹی پوائنٹ پر بھیج دیا جاتا۔ ایسی سیکیورٹی اور اس قدر ان کا مجھ پر یقین دیکھ کر کھلاڑیوں کے بجائے مجھے اپنی سیکیورٹی کی فکر پڑ گئی۔ آخر تین چار کلومیٹر پیدل چل کر گیٹ نمبر 8 آ ہی گیا۔ جسے دیکھ کر تسلی ہوئی کہ اب آگے سب ٹھیک ہوگا۔ ہم جیسے ہی داخل ہوئے وی آئی پی میلی سیٹیں ہمیں خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ کوئی شیلٹر نہیں تھا۔ شدید دھوپ اور دھوپ سے لوگوں کی آدھی بند آنکھیں دیکھیں تو تھوڑا سا چکر آیا۔ بڑی مشکل سے ایک چھاؤں والی سیٹ ملی۔ ہم ادھر بیٹھ گئے۔ وی آئی پی سیٹوں پر زیادہ تر انھوں نے اپنا سٹاف بٹھایا ہوا تھا۔ بیٹھتے ساتھ میں نے نظر دوڑائی تو کوئی کینٹین نظر نہیں آئی۔ ساتھ بیٹھی وہاں کی سٹاف خاتون سے پوچھا کہ یہاں کھانے پینے کا کیا انتظام ہے۔ اس نے مجھے حیرت سے دیکھا جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو۔ اس نے بتایا یہاں کچھ نہیں ملتا۔ میں نے پریشان ہو کر مزید پوچھا چائے ، کافی بھی نہیں۔ اس نے ہنس کر کہا ۔ ایسا تو سوچیں بھی نہ۔ بس وہاں کے کچھ اپنے ہی ملازم گلے میں ڈبے لٹکا کر پرانے ، بھسے ہوئے چپس، بسکٹ، نمکو وغیرہ ڈبل ٹرپل قیمت پر بیچ رہے تھے۔ جب کولڈ ڈرنک ڈسپوزیبل گلاس میں پوری قیمت میں صرف دو گھونٹ عطا ھوی تو یقین جانیے ایک بار تو جی چاھا کہ اس نا پید مشروب کو کھڑے ھو کر قبلہ رو ہو کر نوش کروں مگر جلد ہی اس کا سیاہ رنگ دیکھ کر ایسا کرنے سے باز رہی۔ یہ سب دیکھ کر دل ایسا ٹوٹا کہ حکومت کی کرپشن اور کرپٹ اداروں پر شدید غصہ آیا۔جو اس انٹرنیشنل میچ میں اچھا سٹینڈرڈ دینے کی بجائے پرانی اور غیر معیاری چیزوں سے منافع کمانے کے چکر میں تھے۔ جبکہ آسانی سے اچھے سٹینڈرڈ کی فوڈ چینز ہائیر کی جا سکتی تھیں۔لاہور جیسے جدید شہر میں پسماندہ علاقے جیسی سہولیات بھی نہیں دی گئی تھیں۔ بین الاقوامی سطح کے اس میچ کے لیے سٹیڈیم میں کمنٹری والے سپیکر بھی پھٹے ہوئے تھے۔ مجال ہےکہ ایک لفظ بھی سمجھ میں آتا تھا۔ نئے سپیکر خریدنا تو دور کی بات مرمت بھی نہیں کروایا گیا تھا۔ جیسے خود ہی ٹانکے لگا لگا کر استعمال کر رہے تھے۔ میں نے آخر تنگ آ کر ڈاکٹر کاشف سے پوچھا کہ وی آئی پی سٹینڈ اور دوسرے سٹینڈز میں کیا فرق ہے۔ انھوں نے بہت فخر سے بتایا کہ یہاں بیت الخلا کی سہولت بہت اچھی ہے۔ میں نے سوچا کہ جس سہولت کی خاطر ہم نے اتنے پیسے خرچے وہاں جا کر بھی دیکھ لیا جائے۔بیت الخلا میں ڈیوٹی پر مامور خاک روب خاتون اونچی اونچی بول رہی تھی کہ مجھے کیا پتہ اس مشین میں کیسے صابن ڈالتے ہیں۔ میں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی کہ آپ بالکل درست فرما رہی ہیں اور واپس اپنی سیٹ پر آگئی۔ سارے حالات ڈاکٹر کاشف کو بتائے۔ ڈاکٹر کاشف بہت مطمئن ہو کر بولے کہ ابھی آپ نے باقی سٹینڈز کے بیت الخلا کا حال نہیں دیکھا۔ وہاں اتنا پانی ہوتا ہے کہ پینٹ کو گھاگرے کی طرح اوپر کر کے جانا پڑتا ہے۔ وہاں تو پانی بہانے کا بھی رواج نہیں۔ یہ سن کر میں نے خود کو خوش قسمت سمجھا کہ شکر ہے ایسے مناظر دیکھنے کو نصیب نہیں ہوئے۔
لیکن مجھے بہت حیرت ہے اربوں روپے لگا کر، اپنی عوام سے پیسے لے کر ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انٹرٹینمنٹ کو بھی لوگوں کے لیے مشکل بنا دیا جاتا ہے۔ سگریٹ نوشی جس پر مکمل پابندی عائد ہے اس پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا تھا۔ حتی کے سیکیورٹی پر مامور اہلکار سگریٹ پھونک کر تماشائیوں کے پھیپھڑے جلا رہے تھے۔ جب کسی ملک کے حکمران ہی اپنی عوام کو for granted لیں گے تو اس ملک میں کیا ترقی ہوگی۔ جہاں حکومت اور پی سی بی نے اربوں روپے میچز کے انعقاد پر لگا دیے اور یہ کہا گیا کہ پاکستان میں میچز inشائقین کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں وہاں اگر کچھ ہزار روپے ان شائقین کو سہولیات فراہم کرنے پر بھی لگا دیے جاتے، انھیں بھی معزز انسان سمجھا جاتا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com