یہ وبائے عمواس اور اصحاب رسولﷺ

پروفیسر وحیدالزمان طارق

ہر عہد میں وبائیں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہیں ہیں اور انہوں نے تاریخ کا رخ موڑا ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں اس کے باعث زوال پذیر ہوئیں۔

یہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھا۔ ۱۷ہجری کے اواخر یا ۱۸ہجری کی ابتدا میں بیت المقدس کی فتح کے بعد یہ خوفناک وبائی مرض بظاہر فلسطین کے قصبہ عمواس کے نواحی علاقہ سے شروع ہوا۔ جس پر اب اسرائیل کا قبضہ ہے۔ اب اسے کینیڈا کے یہودیوں نے ایک بڑے پارک میں تبدیل کیا ہوا ہے۔ اس علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد پھر تیزی سے یہ وباء شام و عراق کے پورے درمیانی علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لگ بھگ ایک ماہ تک یہ خوفناک وباء جاری رہی۔ بہت بڑے پیمانے پر تباہی مچانے کے بعد اس مرض کا عفریت قابو میں آیا۔ تب ہر خوفناک وباء کو پلیگ یا طاعون کا نام دیا جاتا تھا۔ ہم پورے وثوق سے کہہ نہیں سکتے کہ اس کی اصل نوعیت کیا تھی۔ تھوڑے سے عرصہ کے لئے اس وباء کی شدت میں کچھ کمی آ گئی، لیکن اس نے پھر سر آٹھا لیا۔

۔اس وباء کے دوران بہت سی اموات ہوئیں۔ ایک تخمینہ کے مطابق اس مرض کے نتیجہ میں تقریبا ۲۵ یا ۳۰ہزارمسلمان مردوں، عورتوں ، شہریوں اور فوجیوں کی وفات ہوئی بڑے بڑے کبار صحابہ اس میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آخری دور تھا آپ معرکۂ الجزیرہ کے سلسلے میں سرغ یا جابیہ کے مقام تک پہنچے تو وہاں سے اس وباء کے باعث وبائی علاقہ میں داخل ہوئے بغیر آپ نے مدینہ منورہ واپس لوٹنے کا ارادہ کیا اور مہاجرین و انصار کے سرداروں سے اپنی ممکنہ حکمت عملی کے بارے میں مشاورت کی۔ کچھ اصحاب کا یہ خیال تھا کہ جس ارادہ سے آپ وہاں تک آئے تھے ، اسے پورا کئے بغیر آپ وہاں سے واپس نہ لوٹیں اور خدا پہ بھروسہ رکھیں۔ دوسرے لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ اس موقعہ پر کبار اصحاب رسول کو وباء کے خطرے میں ڈالنے سے احتراز کرنے میں ہی مصلحت ہوگی۔

تاریخ نے حضرت عمرؓ کی دانشمندی پر مبنی حکمت عملی کو انسانیت کا ضامن قرار دیا ہے۔ آنحضور کی حدیث کے مطابق لوگ وباء کے دوران جہاں پر ہوں وہیں پر رہیں، بھی قرنطین یا اپنے مقام پر محدود ہو جانے کا حکم ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہاں سے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ امیرلشکر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے آمیرالمومنین سے پوچھا کہ کیا وہ اس موقع پر اﷲ کی تقدیر سے بھاگ رہے ہیں؟ عمررضی اللہ عنہ کا واضح جواب تھا: ہاں، ہم اﷲ کی ایک تقدیر سے اس کی دوسری تقدیر کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔ بقول اقبال رح

گر زیک تقدیر خوں گردد جگر
خواہ از حق حکم تقدیر دگر
تو اگر تقدیرِ نو خواہی رواست
زانکہ تقدیراتِ حق لا انتہاست
ارضیاں نقدِ خودی درباختند
نکتۂ تقدیر راشناختند
رمزِ باریکش بحرفے مضمر است
تو اگر دیگر شوی، او دیگر است!
خاک شو نذرِ ہوا سازد ترا
سنگ شو بر شیشہ اندازد ترا!
شبنمی؟ افتندگی تقدیرِ تست
قلزمی؟ پایندگی تقدیرِ تست!

ترجمہ: اگر ایک تقدیر سے آپ کا جگر خون ہو جائے تو اللہ سے ایک تقدیر کا حکم لے لینا چاہئے۔ اگر آپ نئی تقدیر چاہتے ہوں تو جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تقدیرات کی کوئی انتہا نہیں۔ ۔ تقدیر کی باریک رمز ایک حرف میں مضمر ہے یعنی یہ کہ اگر تو بدل جائے تو تقدیر بدل جاتی ہے۔ ۔ اگر تو خاک بن جائے تو تجھے ہوا کی نذر کردیا جائیگا، اگر تو سنگ ہے تو تجھ سے شیشہ توڑنے کا کام لیا جائے گا۔ ۔ اگر تو شبنم ہے، تو تیری تقدیر میں نیچے گرنا ہے۔ اگر تو سمندر ہے، تو تیری تقدیر ہمیشہ رہنا ہے۔

اس موقعہ پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس حدیث نبوی کا حوالہ دے کر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی:

‘اذا سمعتم بارض قوم فلا تقدموا علیہ،فاذا وقع بارض انتم فیہا فلا تخرجوا منہا فراراً منه
‘ ”جب کسی قوم کی سر زمین میں آپ وباء پھیلنے کی خبر سنیں تو وہاں نہ جاؤ اور جب یہ اس جگہ پہ اثرانداز ہو جہاں آپ موجود ہوں تو وہاں سے مت نکلو۔”

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام تدابیر اور احتیاط کی صحابہ کے ہاں کیا اہمیت تھی۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنه مدینہ منورہ واپس پہنچ کر بھی وباء میں مبتلا بلاد الشام کیلیئے کئی اہم احکامات جاری فرماتے رہے۔ جس میں سے ایک لوگوں کو پہاڑوں پر چڑھ جانے کا حکم دینا بھی تھا۔ اور اس عمل سے لوگوں میں وباء کے پھیلنے کا سلسلہ کم ہوا۔

لازمی فوجی ذمہ داری پہ معمورین کی اور بات ہے۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ جو عشرہ مبشرہ میں شامل تھے طونکہ دفاعی فوجی ڈیوٹی پر اس علاقہ میں تعینات تھے اس لئے انہوں نے وہ محاذ خالی نہیں چھوڑا اور اسی وباء میں اپنے فرائض نباہتے ہوئےط وفات پا گئے۔آپ کا مشہور قول آپ کے عزم کی یاد دلاتا ہے

إني في جند المسلمين، ولا أجد بنفسي رغبة عنهم”
“میں مسلمانوں کی خدمت میں ہوں اور اس میں میری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے –

اس وباء میں دیگر سرکردہ اصحاب رسول میں سے وفات پانے والوں میں سے چند مشہور نام :
سیدنا معاذ بن جبل ،
سیدنا يزيد بن أبي سفيان،
سیدنا سهيل بن عمرو،
سیدنا ضرار بن الأزور،
سیدنا حرث بن ہشام،
اور سیدنا أبو جندل بن سهيل
رضوان اللہ تعالیٰ عنھما جمیعاً

ایک اور مرض جزام (کوڑھ) ان دنوں متعدی تھا اور اس میں مبتلا لوگوں کو عوام سے الگ تھلگ ایک علیحدہ مقام پر رکھا جاتا تھا۔ شام میں اس طرح کا ایک مرکز تھا جس میں رہنے والے مریض مسیحی دین کے پیروکار تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مرکز کی سرپرستی فرمائی اور زکوات کے فنڈ سے رقوم مہیا کیں۔ اس مرکز میں مقیم لوگوں کے دین کی وجہ سے ان کی اعانت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس طرح قرنطین میں موجود لوگوں کے طعام و قیام کی ذمہ داری مسلم حکومت نے خود قبول کی۔

حوالہ جات
(بخاری، رقم ۵۷۳۰)
محمد حسین ہیکل۔ عہد فاروقی
البدایہ النہایہ۔ ابن کثیر
خطبات بہاولپور۔ ڈاکٹر حمید اللہ خان
طبری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com