آخر 18 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت آخر کیوں؟

محمد ریاض
18ویں آئینی ترمیم میں آخر ایسا کیا ہے کہ  پاکستان تحریک انصاف  جب سے اقتدار میں آئی ہے اسکے قائدین 18 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت میں آئے روز بیانات دے رہے ہیں۔ 18 ویں آئینی ترمیم میں ایسی کونسی وجوہات ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف جسکی پاکستان کی تین صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی حکومت ہے مگر پھر بھی اسکی میں مخالفت میں کھل کر سامنے آچکی ہے۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین اور موجودہ وزیراعظم عمران خان جب حزب اختلاف میں تھے اور جب صوبہ خیبر پختون خواہ کی صوبائی حکومت بھی انکے پاس تھی تو کھل کر 18 ویں ترمیم کی حمایت کیا کرتے تھے۔مگر آج وفاقی حکومت اور تین صوبائی حکومتیں اپنے پاس ہونے کے بعد اسی آئینی ترمیم کی بعض شکوں پر معترض ہیں۔
18ویں آئینی ترمیم 2010   میں پارلیمنٹ سے منظور کروائی گئی۔ اس آئینی ترمیم کا متفقہ ڈرافٹملک کے مایہ ناز سینئر سیاستدان رضا ربانی کی  سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی نے تیار کیا۔ اس کمیٹی میں پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں کو شمولیت دی گئی۔1973 کے آئین بنانے والی کمیٹی کے بعد پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی یہ سب سے بڑی پارلیمانی کمیٹی تھی جس نے پاکستان کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو بحال کیا اور آمروں کی بنائی گئی بہت سی آمرانہ شقوں کو آئین پاکستان سے پاک کروایا۔سب سے اہم بات یہ کہ 18 ویں آئینی ترمیم  ”چٹ منگنی پٹ بیاہ والی“  مثال کی طرح نہیں ہے بلکہ اس آئینی ترمیم کے ڈرافٹ کو بنانے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کے متعدد اجلاس ہوئے۔جس میں پاکستان کی تمام اکائیوں کے نمائندہ پارلیمنٹرین نے شرکت کی اور اک متفقہ ڈرافٹ بنانے میں کامیاب ہوئے۔
آئیے اک نظر 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد آئین پاکستان میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں پر دوڑاتے ہیں۔اور یہجائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخراس آئینی ترمیم کے مخالفین کن بنیادوں پر اسکی مخالفت کررہے ہیں۔ٓآمر مشرف کے دور اقتدار 2002 میں منظورہونے والے ایل ایف او کو ختم کر دیا گیا
آمر مشرف کے دور کی سترہویں آئینی ترمیم ختم کر دی گئی صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھنے کی منظوری دی گئی۔
آرٹیکل 6: کے تحت آئین کو معطل کرنے کو بھی غداری کے زمرے میں شامل کیا گیا
آرٹیکل 10: میں اضافی شق 10 اے شامل گیا کیا ہے جس کے تحت غیر جانبدارانہ ٹرائیل کو بنیادی حق کا درجہ دیا گیا ہے۔
آرٹیکل19: معلومات تک آزادی رسائی بھی بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔
آرٹیکل 25: ریاست تمام پانچ سے چودہ برس تک عمر کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرے۔ سرکاری ملازمتوں میں ایسے علاقوں کو جن کی مناسب نمائندگی نہیں ہے برابر لایا جائے۔
آرٹیکل 37: سستے اور جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
آرٹیکل 48: صدر کو وزیر اعظم کی مشاورت سے اسمبلی تحلیل ہونے یا اپنی مدت پوری کرنے پر عام انتخابات منعقد کروانے اور وہ بھی نگران کابینہ تعینات کرنے کااختیار دیا گیا۔
آرٹیکل 58(2) بی: صدر کے پاس سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لیا گیا۔
آرٹیکل 59: ایوان بالا یا سینٹ کی نشستیں سو سے بڑھا کر ایک سو چار کر دی اور ہر صوبے سے ایک اقلیتی رکن منتخب کیا جائے گا۔
آرٹیکل 61: سینٹ کے اجلاسوں کے دن نوے روز سے بڑھا کر ایک سو دس دن کر دئیے گئے۔
آرٹیکل 90: وفاق اور صوبوں کے درمیان تمام کنکرنٹ لسٹ ختم کر دیا گیا۔
آرٹیکل 92: وفاقی کابینہ کی تعداد پارلیمان میں اراکین کی تعداد کا گیارہ فیصد۔اس فارمولے کے تحت کابینہ کو کم کرکے کابینہ کوبیالیس وزراء تک کیا گیا۔صوبوں میں بھی کابینہ پندرہ اراکین یا گیارہ فیصد جو بھی زیادہ ہو۔ وزراء  اعلی وزیر اعظم کی طرح پانچ سے زیادہ مشیر تعینات نہیں کر سکیں گے۔
آرٹیکل 101: صوبائی گورنر اسی صوبے کا ہی رہائشی تعینات کیا جا سکے گا۔
آرٹیکل 104: صوبائی اسمبلی کا سپیکر گورنر کی غیر موجودگی میں قائم مقام گورنر مقرر ہوگا۔
آرٹیکل 127: صوبائی اسمبلی کی کم سے کم کارروائی کے دن ستر سے بڑھا کر سو دن کر دیئے گئے۔
آرٹیکل 140-A: مقامی حکومتوں کو رکھا جائے گا۔
آرٹیکل 147: صوبائی حکومت وفاق یا کسی اہلکار کو اپنا اختیار دیتی ہے تو اس کی اسے صوبائی اسمبلی سے توثیق کروانا لازمی ہوگی۔
آرٹیکل 153/54: وزیر اعظم مشترکہ مفادات کونسل کے چیئرمین، چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ اراکین جبکہ وفاقی حکومت کے تین اراکین شامل ہوں گے۔ کونسل کا کم از کم ہر نوئے روز میں ایک اجلاس ضرور منعقد کیا جائے گا۔ کونسل کا مستقل سیکریٹریٹ ہوگا۔
آرٹیکل 157: وفاقی حکومت اس صوبے سے مشاورت کی پابند ہوگی جہاں آبی ذخیرہ تعمیر کیا جا رہا ہوگا۔
آرٹیکل 160: صوبوں کا حصہ آخری این ایف سی ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔
آرٹیکل 167: صوبوں کو قومی مالیاتی کمیشن کی مقرر کردہ حد کے اندر مقامی یا بین القوامی سطح پر قرضے حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔
آرٹیکل 168: آڈیٹر جنرل کی مدت ملازمت چار سال تک محدود کر دی جائے گی۔آرٹیکل 170: وفاق یا صوبوں کے زیر انتظام خودمختار اداروں کو آڈیٹر جنرل کے تحت لایا گیا۔
آرٹیکل 172: تیل و گیس جیسے قدرتی وسائل کا اختیار صوبے اور وفاق کے درمیان مشترکہ ہوگا۔
آرٹیکل 175-اے: ججوں کی تقرری کا سات رکنی کمیشن۔ کوئی ہائی کورٹ کا جج اپنی مرضی کے بغیر ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا۔
آرٹیکل 213: انتخابی کمیشنر کی تقرری کا طریقہ کار چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت کر دیا گیا ہے۔ ایوان اور حزبِ اختلاف کے قائدین کی باہمی رضامندی سے اس عہدے کے لیے تین امیدواروں کے نام بارہ رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے۔ دونوں قائدین الگ الگ تجاویز بھی بھیج سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لیے بھی یہی طریقہ کار ہوگا۔
آرٹیکل 224: اسمبلی کی تحلیل یا مدت مکمل ہونے پر صدر عبوری حکومت وزیر اعظم کی مشاورت سے تعینات کریں گے۔ چاروں نگران وزرائے اعلی کا تقرر بھی جانے والے لیڈر آف دی اپوزیشن کی مشاورت سے کیا جائیگا۔
آرٹیکل 232: ہنگامی حالت کے نفاذ کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد صدر کو بھیجی جائے گی۔ اگر صدر خود ہنگامی حالت نافذ کرتا ہے تو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے سامنے توثیق کے لیے پیش کرنے کا پابند ہوگا۔
آرٹیکل 242: پبلک سروس کمیشن کے چیئر مین کا تقرر اب صدر وزیرِ اعظم کی مشاورت سے کریں گے۔آرٹیکل 243: بڑی تقرری بھی اب وزیرِ اعظم کی مشاورت اور پارلیمان کی منظوری سے کی جائے گی۔
آرٹیکل 268: چھٹے شیڈول میں شامل قوانین جس کے لیے صدر کی پیشگی رضامندی ترامیم کے لیے ضروری تھی اس کو ختم کیا جائے گا۔
وزیر اعظم اور وزراء اعلی کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے کی پابندی ختم کر دی گئی۔
ٓآمروں کی طرف سے آئین میں کی جانے والی بار بار  تبدیلیوں نے 1973  کے آئین پاکستان کا حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ پارلیمانی نظام حکومت کونیم   صدارتی نظام حکومت میں بدل کر رکھ دیا۔
18 ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ آئین پاکستان اپنی اصل حالت میں واپس آگیا۔ صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری ملی، صوبے اپنے علاقائی وسائل کے خود مالک بننے شروع ہوئے۔ صوبوں کو بہت سے معاملات جیسا کہ صحت، تعلیم، توانائی جیسے کیلئے وفاق طرف دیکھنا نہیں پڑتا۔ وفاقی سطح کی بہت سی وزارتیں اور محکمہ جات صوبوں کو ٹرانسفر ہوگئے۔ جس سے وفاق کی ذمہ داریوں میں کمی واقع ہوئی جیسا کہ تعلیم، صحت کے محکمہ جات۔  درحقیقت18  ویں ترمیم کے بعد آج پاکستان کے تمام صوبوں کے پاس جتتی صوبائی خود مختاری ہے اگر 1971   میں بھی ایسی صوبائی خودمختاری ہوتی تو پاکستان کبھی بھی دولخت نہ ہوپاتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کومزید صوبائی خودمختاری دی جائے تاکہ پاکستان کا ہر صوبہ اپنے اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی خوشحالی کے نئے نئے منصوبے بنائے اور عوام کا معیار زندگی بلند ہوسکے۔اگر ہر صوبہ اپنے اپنے وسائل پیدا کرے اور جب انکوصحیح معنی میں بروئے کار لائے گا تویقینا وفاق کے اوپر صوبوں کا بوجھ نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے تمام صوبے کسی نہ کسی طور پر اپنی مثال آپ ہیں۔ کہیں معدنیات، تیل و گیس کے ذخائز ہیں تو کہیں سونا اگلتی سرسبز زمینیں اور باغات۔ کہیں آبی وسائل سے توانائی پید ا کرنے کے مواقع تو کہیں افرادی قوت کی فراوانی۔کہیں بندرگاہیں تو کہیں بہتے دریا۔
پاکستان تحریک انصاف کی وفاق اور تین صوبوں میں حکومتیں ہیں بجائے 18 ویں ترمیم پر تنقید کرنے کے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں کو عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لئے بہترین حکمت عملی وضع کرنی چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ بنائی گئی پالیسوں پر عملدرآمد یقینی بناکر دوسری سیاسی پارٹیوں کے لئے مثال قائم کرنی چاہیے۔اگر چند مالی معاملات پر پاکستان تحریک انصاف کو تحفظات ہیں تو دیگر سیاسی پارٹیوں سے مل ان مالی معاملات کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔اگر اعتراض اس بات پر ہے کہ وفاق کے پاس وسائل کی کمی واقع ہو گئی ہے تو دوسری طرف وفاق کی طرف سے بہت ساری وزراتیں اور محکمہ جات کا صوبوں کی طرف منتقل ہوجانے سے صوبوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ بھی ہوا ہے اور وفاق پر ان وزارتوں کا بوجھ اتر کر کم ہو چکا ہے کیونکہ پہلے جس  وزرات و محکمہ کا بوجھ  وفاق کے کندھوں پر تھا اب وہ بوجھ صوبوں پر ہے۔  پچھلے ادوار میں صوبہ پنجاب کی صوبائی حکومت نے صوبائی سطح پر توانائی کے بہت سے شعبوں میں کام کیا جیسا کہ بھکھی پاور پلانٹ، قائداعظم سولر انرجی پلانٹ وغیرہ جنکی بدولت ملک میں ہونے والی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ممکن ہوسکا۔صحت کے معاملہ میں صوبہ پنجاب میں PKLI  اور بہت سے دوسرے اسٹیٹ آف دی آرٹ  اسپتالوں کا قیام۔ تعلیم کے شعبہ میں سرکاری سطح پر یونیورٹسیز، اسکولز، کالجز اور آئی ٹی یونیورسٹی کا قیام۔اسی طرح کے بہت سے ایسے منصوبے ہیں کہ جو صوبائی حکومتوں نے شروع کئے اور اب انکے ثمرات عوام الناس کو ملنے شروع ہوچکے ہیں۔
درحقیقت 18 ویں آئینی ترمیم نے صوبوں میں کارکردگی دیکھانے کے لئے مقابلہ کی فضاء قائم کی ہے۔ اب یہ صوبائی حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ بہت سے معاملات میں ملنی والی صوبائی خودمختاری کا فائدہ عوام الناس تک کیسے پہنچاتے ہیں۔دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں کی ترقی میں ان ممالک میں دی جانے والی  صوبائی خودمختاری کا بہت عمل دخل ہے۔ عوام کے مسائل انکے اپنے علاقائی حدود میں حل ہوجاتے ہیں۔انکو وفاق کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔  پاکستان میں صوبوں کو18 ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سے معاملات میں ملنے والی صوبائی خودمختاری کے فوائد کو سمیٹنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ اگر صوبے مضبوط ہونگے تو وفاق بھی مضبوط ہوگا۔وفاق مضبوط ہو گا تو یقینا ریاست پاکستان مضبوط ہوگی۔اللہ کریم مملکت خداداد  ریاست پاکستان کو ہمیشہ قائم دائم رکھے اور دنیا کی جدیدترین اور ترقی یافتہ ریاستوں میں سے ایک ریاست  بنا دے، آمین ثم آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com